بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 15°C
Monday, 26 October 2026 | پاکستان: 16 جمادی الاول 1448

فضائی نا اہلیاں اور تقدیر

Monday, 26 October, 2026

تاریخ گواہ ہے کہ اشرف المخلوقات نے ہمیشہ اپنی خامیوں کو تقد یر کے کھاتے میں ڈالا ہے اور خوبیوں کو اپنی لازوال صلاحیتیں قرار دیا ہے۔ جدت اورشدت اس کی طبیعت اور تربیت کے بنیادی لوازمات رہے ہین ۔اسی طرح انسان نے بہت ساری کامیابیا ن بھی حاصل کین اور نقصانت بھی اٹھاے ۔چونکہ ۔انسان نے ہمیشہ فاصلے کم کرنے اور وقت بچانے کی کوشش بھی کی ہین اس لیے ہوائی جہاز، بحری جہاز، موٹر گاڑیاں اور ریل گاڑیاں اسی جدوجہد ک ایک اہم نتیجہ ہیں۔ آج کروڑوں افراد روزانہ ان ذرائع سے سفر کرتے ہیں، مگر ہر سفر کے ساتھ حفاظت کی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ فضائی، سڑک اور ریلوے حادثات کا جائزہ ہمیں بتاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود انسانی جان کی حفاظت کیلئے مسلسل نگرانی، تربیت اور بہتر انتظامات ضروری ہیں۔ ہوا بازی کی تاریخ میں کئی بڑے حادثات پیش آئے، جن کے بعد طیاروں کی ساخت، انجنوں، نیویگیشن، پائلٹوں کی تربیت اور فضائی ٹریفک کنٹرول میں بہتری لائی گئی۔ جدید کمرشل ہوا بازی میں متعدد حفاظتی انتظامات موجود ہیں تاکہ تکنیکی خرابی یا انسانی غلطی بڑے حادثے کا سبب نہ بنے۔انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی رپورٹوں کے مطابق دوہزاراکیس تا دو ہزار پچیس میں سالانہ اوسط تقریبا 44 حادثات، 6 مہلک حادثات اور 198 جہاز میں ہلاکتیں رہیں۔ فضائی حفاظت کا درست اندازہ لگانے کیلئے حادثات کی تعداد کے ساتھ پروازوں کی مجموعی تعداد بھی دیکھنا ضروری ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال کروڑوں کمرشل پروازیں اڑتی ہیں جبکہ فضائی حادثات اپنی غیر معمولی نوعیت کے باعث میڈیا میں نمایاں جگہ پاتے ہیں، لیکن سڑکوں پر ہونیوالے حادثات دنیا بھر میں کہیں زیادہ انسانی جانیں لیتے ہیں۔ مگر وہ عالمی میڈیا کی توجہ حاصل نہیں کرپاتے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال سڑکوں کے حادثات کی وجہ سے دنیا بھر میں اوسط تقریبا 11 لاکھ افراد دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں عالمی کمرشل ہوا بازی میں دوہزاراکیس تادوہزار پچیس سالانہ اوسط تقریبا 198 افراد ہوائی حادثات کے باعث لقمہ اجل بنے۔تیز رفتاری، موبائل فون کا استعمال، سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ نہ پہننا، نشے کی حالت میں گاڑی چلانا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی حادثات کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔ محفوظ سڑکیں، موثر قانون نافذ کرنا اور ذمہ دارانہ ڈرائیونگ ہزاروں جانیں بچا سکتی ہیں۔ اسی طرح ریل گاڑی روزانہ لاکھوں افراد اور بڑی مقدار میں سامان منتقل کرتی ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر آمدورفت کا اہم ذریعہ ہے، لیکن اس شعبے میں بھی ٹرینوں کا تصادم، پٹری سے اترنا، سگنلنگ کی خرابی، پٹریوں کی ناقص حالت اور ریلوے کراسنگ پر حادثات سنگین نتائج پیدا کرتے ہیں۔ ریلوے کی حفاظت کیلئے پٹریوں اور پلوں کی باقاعدہ مرمت، جدید سگنلنگ، ڈرائیوروں کی تربیت، لیول کراسنگ پر حفاظتی انتظامات اور خودکار ٹرین پروٹیکشن کے نظام اہم ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں پرانے انفراسٹرکچر کی بہتری اور حفاظتی نظاموں کی جدید کاری خصوصی توجہ چاہتی ہے۔ جیسا کہ چند ماہ قبل شیخوپورہ میں سیلابی ریلے کی بدولت ریل پٹری اور اس سے متصل پل ٹوٹ گیا اور گذشتہ کئی ماہ سے لاہور تا کراچی روٹ براستہ فیصل آباد بند پڑا ہوا ہے ۔ یاد رہے ریلوے حادثات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حفاظت صرف ٹرین یا پٹری کی حالت پر منحصر نہیںبلکہ انفراسٹرکچر، سگنلنگ، عملے، نگرانی اور انتظامی فیصلوں کا مجموعی نتیجہ ہوتی ہے۔فضائی سفر کی حفاظت میں ایئر ٹریفک کنٹرولر کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کنٹرولرز ریڈار، مواصلاتی نظام اور پروازوں کے منصوبوں کی مدد سے طیاروں کی نگرانی کرتے ہیں، ان کے درمیان محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور ٹیک آف، لینڈنگ اور ہنگامی صورتِ حال میں پائلٹوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔یہ کام مسلسل توجہ، فوری فیصلہ سازی اور دبا میں درست رابطے کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی لیے کنٹرولرز کی تربیت، مناسب افرادی قوت، کام کے اوقات اور جدید تکنیکی آلات فضائی حفاظت کے اہم اجزا ہیں۔ تاہم حفاظت صرف کنٹرولر کی ذمہ داری نہیں؛ پائلٹ، ایئرلائنز، انجینئرز ، ہوائی اڈے اور ریگولیٹری ادارے بھی اس نظام کا حصہ ہیں۔ فضائی ٹریفک کنٹرولز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ہر سال 20 اکتوبر کو عالمیِ دن برائے فضائی ٹریفک کنٹرولر منایا جاتا ہے۔ اور اس خاص تاریخ کا تعلق 20 اکتوبر 1961 سے ہے جب انٹرنیشنل فیڈریشن آف ایئر ٹریفک کنٹرولرز ایسوسی ایشنز قائم ہوئی ۔ اسی مناسبت سے یہ دن منایا جاتا ہے۔ بلاشک و شبہ فضائی سفر کو محفوظ بنانے ایر ٹریفک کنٹرولرز کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ٹیک آف کی اجازت، ریڈار، اڑتے جہاز کی مسلسل نگرانی، پائلٹ سے رابطہ، طیاروں کے درمیاں محفوظ فاصلہ رکھنا، لینڈنگ اور پارکنگ ایسے تمام عوامل ہیں جو ایر ٹریفک کنٹرول کی بدولت ممکن ہونے ہیں ۔ یاد رہے ایئر ٹریفک کنٹرولر طیارے کو خود نہیں اڑاتا بلکہ وہ پائلٹ کو معلومات اور ہدایات دے کر فضائی راستوں میں محفوظ فاصلہ اور منظم نقل و حرکت برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ کام مسلسل توجہ، درست فیصلوں اور موثر رابطے کا تقاضا کرتا ہے ۔ رواں سال 8 ستمبر کو برطانیہ کے فضائی ٹریفک نظام میں ایک تکنیکی خرابی نے پروازوں کے شیڈول کو متاثر کیا۔ برطانیہ کے فضائی خدمات فراہم کرنیوالے ادارے نیشنل ایئر ٹریفک سروسز کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، مسئلہ طیاروں کی شناخت کیلئے مخصوص کوڈ مختص کرنیوالے سافٹ ویئر میں پیدا ہوا۔ رپورٹ کے مطابق سافٹ ویئر میں موجود ایک پرانا، پہلے سے نامعلوم نقص فعال ہوگیا اور ہوابازی کے متعلق کچھ معلومات خراب ہو گئیں۔ کنٹرولرز کیلئے مکمل اور قابلِ اعتماد معلومات کی دستیابی متاثر ہونے کے باعث حفاظت برقرار رکھنے کیلئے پروازوں کی آمدورفت محدود کرنا پڑی۔ دو ہزار سے زیادہ پروازیں تاخیر، منسوخی یا رخ کی تبدیلی سے متاثر ہوئیں جبکہ لاکھوں مسافروں کے سفری منصوبے درہم برہم ہوئے۔ نظام اسی شام بحال ہوگیا لیکن پروازوں کے شیڈول کو معمول پر لانے میں دو دن سے زیادہ لگے ۔ اس واقعے سے کسی فضائی حادثے یا جانی نقصان کی اطلاع ابتدائی رپورٹ میں نہیں دی گئی۔ تاہم یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ سافٹ ویئر کی خرابی بھی پورے قومی فضائی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔ برطانوی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اس واقعہ کے بعد نظام کی مضبوطی، متبادل انتظامات اور مستقبل میں ایسی خرابیوں سے بچائو کا جائزہ لینا شروع کیا۔ فضائی اور ریلوے نظاموں میں خودکار ٹیکنالوجی، سگنلنگ، سینسرز اور ڈیجیٹل مواصلات نے حفاظت بہتر بنانے میں مدد دی ہے، مگر کوئی نظام مکمل طور پر خرابی سے پاک نہیں۔اسی لیے باقاعدہ جانچ، متبادل انتظامات، ہنگامی مشقیں، عملے کی تربیت اور حادثات کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ خرابی کے بعد صرف نظام بحال کرنا کافی نہیں، بلکہ اس کی بنیادی وجہ تلاش کرکے دوبارہ ایسا واقعہ روکنا بھی لازم ہے۔ فضائی، سڑک اور ریل کا سفر جدید زندگی اور معیشت کیلئے ناگزیر ہے۔دستیاب عالمی اعدادوشمار کے مطابق سڑکوں پر اموات کی شرح بہت زیادہ ہے، جبکہ فضائی سفر میں حادثات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ ریلوے بھی لاکھوں مسافروں کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، اس لیے اس کے حفاظتی انتظامات کو مسلسل بہتر بنانا ضروری ہے ۔ سفر کی کامیابی صرف منزل تک پہنچنے میں نہیں، بلکہ محفوظ طور پر منزل تک پہنچنے میں ہے۔ انسانی جان کسی بھی رفتار، سہولت یا معاشی فائدے سے زیادہ قیمتی ہے۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ سفر کوئی بھی ہو، حفاظتی تدابیرسفر کو محفوظ بنانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ وگرنہ جون 2025 میں انڈین ایر لائن حادثہ کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ کیسے ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے کے صرف چند لمحوں بعد ہی جہاز گرپڑتا ہے اور 242 افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ یہ حادثہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ فضائی سفر میں چند سیکنڈ کی خرابی بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ ہر پرواز سے پہلے طیارے کے انجن، ایندھن کے نظام، کاک پٹ میں رابطے، دیکھ بھال اور حفاظتی طریقہ کار کی آزادانہ اور شواہد پر مبنی جانچ ضروری ہے۔وگر نہ حادثات کو تقدیر کا نام دیکر اپنی نا اہلیاں چھپانا تو ریکارڈ پر ہیں ہی۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *