بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 15°C
Monday, 26 October 2026 | پاکستان: 16 جمادی الاول 1448

سات ممالک کے وزرائے خارجہ کااجلاس

Monday, 26 October, 2026

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے نئی جارحیت کے بارے میں بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے درمیان، وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کے اہم مسلم ممالک اور یورپی طاقتوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایسی کسی مہم جوئی کے حق میں نہیں ہیں۔ استنبول میں آرفور اور ای تھری کے تحت ہونیوالے اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے ایران اور یوکرین سمیت دنیا کے کئی حساس مقامات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس اجلاس میں اٹلی نے بھی شرکت کی۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت ایران میں فوجی مداخلت کی کوئی حمایت نہیں کر رہاجبکہ فرانس کے اعلیٰ سفارتکار کا کہنا ہے کہ کشیدگی میں اضافے کا نتیجہ صرف نقصان کی صورت میں نکلے گا؛ اس کے علاوہ اس سے تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا جو پہلے ہی بلند سطح پر ہیں۔عالمی برادری کے فکرمند ہونے کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں۔ تل ابیب اور واشنگٹن سے ایسے مضبوط اشارے مل رہے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر ایک نئے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق یہ حملہ 3 نومبر کو ہونیوالے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد یا شاید اس سے بھی پہلے ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کہا ہے کہ ہم ایک اور ایپک فیوری کر سکتے ہیں؛ یہ وہی نام ہے جو امریکہ نے فروری میں کی گئی جارحیت کو دیا تھا۔ اگرچہ امریکی رہنما اپنی بڑھک بازی اور اکثر غیر سنجیدہ دھمکیوں کے لیے جانے جاتے ہیں، لیکن اس معاملے میں ہو سکتا ہے کہ وہ واقعی وہی کہہ رہے ہوں جو ان کا ارادہ ہے۔ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی اور عسکری سازوسامان بھیج رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے حملے کے منصوبوں کی مشقیں بھی کی ہیں۔ تل ابیب خاص طور پر ایران کیخلاف دوبارہ کارروائی کرنے کیلئے پرجوش دکھائی دیتا ہے۔ایک ہی کام کو بار بار دہرانا اور ہر بار مختلف نتائج کی توقع رکھنا حماقت کے مترادف ہے لیکن تکبر نے امریکہ اور اسرائیل، دونوں کو اس حقیقت سے اندھا کر دیا ہے۔ اسرائیل نے سب سے پہلے اکتوبردوہزار چوبیس میں ایران پر حملہ کیا تھا، جبکہ امریکہ اور صیہونی ریاست، دونوں نے جون دوہزارپچیس اور فروری دوہزار چھبیس میں اسلامی جمہوریہ کے خلاف مزید دو جارحانہ کارروائیاں کیں۔ ان حملوں نے، خاص طور پر رواں سال کیے گئے حملے نے، ایران کو شدید نقصان پہنچایا اور اس کی عسکری، سیاسی اور مذہبی قیادت کو تباہ کر دیا۔ لیکن اس ملک نے دوبارہ خود کو منظم کیا، اپنا دفاع کیا اور جارحین کے خلاف جوابی کارروائی کی۔ ایرانیوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کا جواب “جارحانہ” اقدامات سے دیا جائے گا۔ یہ سب صورتحال تشویشناک ہے۔خلیجی ریاستیں، جہاں امریکی تنصیبات موجود ہیں، ایک بار پھر براہِ راست زد میں آ سکتی ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک نے ایک نئی جنگ کے خطرے کے پیشِ نظر خبردار کیا ہے لیکن کیا واشنگٹن اور تل ابیب میں موجود جنگی لابی اس بات پر کان دھریں گی؟ مشرقِ وسطیٰ کی بہت سی حکومتیں اور عوام کی اکثریت جنگ سے بیزار ہو چکی ہے اور اپنی زندگیوں اور معیشتوں کی تعمیرِ نو کرنا چاہتی ہے۔ اگر خطے میں دوبارہ تصادم اور خونریزی کا آغاز ہوتا ہے، تو توانائی اور تجارت کی ترسیل میں خلل کے نتیجے میں پیدا ہونیوالے شدید جھٹکوں سے شاید ہی کوئی معیشت محفوظ رہ سکے۔ لہٰذا امریکہ کو خطے کو مزید غیر مستحکم کرنے کے اپنے منصوبوں سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔ اس کے بجائے اسے اپنے اتحادی اسرائیل اور اس کے خون کے پیاسے رہنمائوں کو لگام دینی چاہیے۔
لاپرواہی سے ڈرائیونگ
اس بحران کی دستاویزی شکل میں سرکاری اعداد و شمار کی کمی ہے، لیکن انتہائی محتاط اندازوں کے مطابق بھی، ہر روز ٹریفک حادثات میں ایک درجن سے زائد شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ خاص طور پر المناک رہا۔ ہفتے کے روز، آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں، مدرسے جانے والے بچوں سے بھری ایک وین کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں کم از کم چار بچے ہلاک اور تین دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ ایک تیز موڑ کاٹتے ہوئے ڈرائیور گاڑی پر سے اپنا کنٹرول کھو بیٹھا تھا۔ اس سے ایک روز قبل، بلوچستان کے علاقے خضدار میں کوئٹہ-کراچی ہائی وے پر ایک منی بس اور مسافر کوچ کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کم از کم 12 مسافر ہلاک اور تقریبا دو درجن زخمی ہو گئے۔ اس سے پہلے پنجاب کے ضلع راجن پور میں انڈس ہائی وے پر ایک بس روڈ ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹ گئی جس میں کم از کم 10 مسافر ہلاک اور 44 دیگر زخمی ہوئے۔ حادثے کے وقت بس ڈرائیور انتہائی لاپرواہی سے گاڑی چلا رہا تھا۔ وہ قانون کی گرفت سے بچنے کیلئے فرار ہو گیا، اور بس سروس کا مالک بھی روپوش ہو گیا۔یہ واقعات اب معمول بن چکے ہیں۔جو کوئی بھی پاکستان کی سڑکوں اور شاہراہوں پر سفر کر چکا ہے، وہ گواہی دے سکتا ہے کہ یہاں ڈرائیونگ کے حالات کتنے خطرناک ہو سکتے ہیں؛ خاص طور پر جب بڑی مسافر گاڑیوں کے ڈرائیور، مصروف راستوں پر ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں تمام تر احتیاط اور ہوش و حواس کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ موٹر ویز پر، موٹر وے پولیس کی سخت نگرانی کی بدولت صورتحال قدرے بہتر ہو سکتی ہے لیکن قومی شاہراہوںپر اکثر ‘ہر کوئی اپنی مرضی کا مالک’ ہوتا ہے، جہاں پولیس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے اور نگرانی کا نظام کمزور ہے۔ ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ لاپرواہ اور خطرناک ڈرائیونگ کی حوصلہ شکنی کیلئے موجود قانونی رکاوٹیں یا سزائیں کافی نہیں ہیں ۔ ایک سخت تر نظام کی ضرورت ہے تاکہ بس آپریٹرز، جن کا حفاظتی ریکارڈ خراب ہے، انہیں سخت ترین سزائیں دی جا سکیں۔ دریں اثنا ریاست کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ متاثرین اور ان کے لواحقین کو ممکنہ حد تک زیادہ سے زیادہ مالی معاوضہ ملے۔ یہ بات کسی طور قابلِ قبول نہیں کہ خطرناک ڈرائیونگ کی وجہ سے اتنے بڑے پیمانے پر اموات کا سلسلہ جاری رہے۔ حالات میں تبدیلی لانے کیلئے، ریاست کو قانون توڑنے والوں کیلئے قانون شکنی کو ایک ‘تکلیف دہ’ عمل بنانا ہوگا۔
گندم کی قیمت میں اضافہ
وزیراعظم شہباز شریف نے گندم کی قیمت پینتالیس روپے فی چالیس کلوگرام مقرر کرنے کی منظوری دی ہے جو گزشتہ سال کی پینتیس سوروپے کی قیمت کے مقابلے میں ایک ہزارروپے کا اضافہ ہے۔ اس فیصلے کا مقصد کسانوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ گندم کی کاشت میں اضافہ کریں، پیداواری لاگت میں اضافے کے تناظر میں انہیں معاوضہ فراہم کیا جا سکے اور ملک کی غذائی تحفظ کو مضبوط بنایا جا سکے۔ زرعی پیداواری لوازمات ایندھن اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر، کاشتکاروں کو ان کی سرمایہ کاری پر مناسب منافع فراہم کرنے کیلئے یہ اضافہ ناگزیر تھا۔ایک مناسب قیمت کسانوں کیلئے گندم کی زیادہ کاشت کرنے کی جانب ایک اہم ترغیب ہے۔ تاہم، حکومت کو اس اقدام کے ساتھ ساتھ ایسی پالیسیاں بھی وضع کرنی چاہئیں جن سے کاشتکاری کا عمل کم خرچ اور قابلِ برداشت بن سکے۔ کھادیں، کیڑے مار ادویات، معیاری بیج اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے کسانوں کی آمدنی پر شدید دبائو ڈالا ہے۔ لہٰذا حکام کو زرعی پیداواری لوازمات بالخصوص کھادوں کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ یہ اشیا مناسب نرخوں پر دستیاب ہوں۔کسانوں کی معاونت نہ صرف دیہی خوشحالی کیلئے بلکہ قومی معاشی استحکام کیلئے بھی انتہائی ضروری ہے۔ حالیہ برسوں میں گندم کی درآمد پر پاکستان کا انحصار اس کے زرمبادلہ کے ذخائر پر اضافی بوجھ کا باعث بنا ہے ۔ ملک کے اندر پیداوار میں اضافہ اس انحصار کو کم کریگااور غذائی ضروریات پوری کرنے کی ملکی صلاحیت میں بہتری آئے گی۔ اس مقصد کے حصول کیلئے کسانوں کو درکار وسائل، رہنمائی اور مراعات فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جانی چاہیے۔ یہ یقینی بنانا بھی اتنا ہی اہم ہے کہ اعلان کردہ قیمت کا براہِ راست فائدہ کسانوں کو ہی ملے۔ ساتھ ہی، کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے دوران صارفین کے مفادات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *