بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 15.3°C
Tuesday, 27 October 2026 | پاکستان: 17 جمادی الاول 1448

کشمیری 81 سال بعد بھی حق خودارادیت سے محروم

Tuesday, 27 October, 2026

اقوام متحدہ کے عالمی دن کے موقع پر کشمیری اپنے پیدائشی حق ، حق خود ارادیت سے متعلق عالمی ادارے کی قراردادوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ اقوام متحدہ کے قیام کے 81 برس پورے ہونے پر ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت جموں وکشمیرسے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔اقوام متحدہ کا دن ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ 7دہائیوں سے زائد عرصے سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہونے کے باوجود تنازعہ کشمیر آج بھی حل طلب ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں کشمیریوں کے آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کے حق کی توثیق کرتی ہیں اور اقوام متحدہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند ہے۔ کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانا مسئلہ ہے۔ بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کے 5 اگست 2019 کے غیر جمہوری، غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات مقبوضہ جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا انحصار تنازعہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل پر ہے ، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارادیت کے لیے کشمیری عوام کی جائز جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔تنازعہ کشمیر کا اب تک حل نہ ہونا اور کشمیریوں کی حق خود ارادیت سے مسلسل محرومی اقوام متحدہ کے وجود پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔بھارتی فورسز نے 1947 سے اب تک ساڑھے چار لاکھ سے زائد کشمیریوں کو بھارت کے تسلط سے آزادی کے مطالبے کی پاداش میں شہید کیا ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے بھارت کی جانب سے کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عالمی ادارے سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیرکو اپنی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کیلئے کردار ادا کرے۔ کشمیری عوام بھارتی قبضے سے آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول کیلئے بیش بہا قربانیاں دے رہے ہیں ، بھارتی جبر ان کے جذبہ آزادی کو توڑنے میں ناکام رہا ہے اور وہ اپنے لاکھوں شہدا کے عظیم مشن کی تکمیل تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے۔کشمیر پر اقوام متحدہ کی ثالثی کشمیر پر پہلی جنگ کے بعد اس وقت شروع ہوئی جب انڈیا اس مسئلے کو اقوام متحدہ لے گیا۔ اقوام متحدہ کی 13 اگست 1948ء کی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ پہلے پاکستان اپنی فوجیں کشمیر نکالے گا۔ پاکستان نے یہ مطالبہ منظور کیا تھا لیکن 14 مارچ 1950ء کو سلامتی کونسل نے قرارداد پاس کی تھی کہ اب دونوں ملک بیک وقت فوجوں کا انخلاء شروع کریں گے۔ 13 اگست 1948ء کی قرارداد میں کہا گیا کہ جب پاکستان اپنی فوج اور قبائلیوں کو نکال لے گا تو یہاں کا انتظام مقامی انتظامیہ سنبھالیں گی اور کمیشن ان کی نگرانی کرے گا۔اس قرارداد میں یہ نہیں کہا گیا تھا کہ بھارت کو یہاں ساری فوج رکھنے کی اجازت ہو گی۔ بلکہ قرار پایا کہ اس کے بعد بھارت بھی اپنی فوج کا بڑا حصہ یہاں سے نکال لے گا اور اسے صرف اتنے فوجی رکھنے کی اجازت ہو گی جو امن عامہ برقرار رکھنے کیلئے مقامی انتظامیہ کی مدد کیلئے ضروری ہوں۔جب اقوام متحدہ کے کمیشن نے دونوں ممالک سے قرارداد پر عملدرآمد کیلئے پلان مانگا تو بھارت نے دو مزید مطالبات کر دیے۔ ایک یہ کہ اسے سیز فائر لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شمال اور شمال مغرب کے علاقوں پر کنٹرول دیا جائے اور دوسرا یہ کہ آزاد کشمیر میں پہلے سے قائم اداروں کو نہ صرف مکمل غیر مسلح کر دیا جائے بلکہ ان اداروں کو ہی ختم کر دیا جائے، اس بات کا اعتراف جوزف کاربل نے اپنی کتاب ‘ ڈینجر ان کشمیر ‘ کے صفحہ 157 پر کیا ہے۔جوزف کاربل کا تعلق چیکو سلواکیہ سے تھا اور یہ اقوام متحدہ کے کمیشن کے چیئر مین تھے اور کمیشن میں ان کی شمولیت بھارتی نمائندے کے طور پر ہوئی تھی۔ جوزف کاربل نے اعتراف کیا کہ بھارتی موقف اقوام متحدہ کی قرارداد سے تجاوز کر رہا تھا۔ پاکستان نے آزاد کشمیر سے فوج نکالنے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد کے مطابق بھارت جو ضروری فوج کشمیر میں رکھے گا اس کی تعداد اورتعیناتی کا مقام اقوام متحدہ کمیشن کو پیش کیا جائے۔ بھارت نے اس سے بھی انکار کر دیا۔اس پر کمیشن نے امریکی صدر ٹرومین اور برطانوی وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی کی تجویز پر کہا کہ دونوں ممالک اپنا موقف پیش کر دیں جو ایک آربٹریٹر کے سامنے رکھا جائے اور وہ فیصلہ کر دے۔ اقوام متحدہ کی دستاویزات کے مطابق پاکستان نے یہ تجویز بھی قبول کر لی لیکن بھارت نے اسے بھی رد کر دیا۔ بھارت کے اپنے نمائندے نے اعتراف کیا کہ اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر بھارت کی وجہ سے عمل نہ ہو سکا۔ ان کے الفاظ تھے : بھارت کی جانب سے خیرسگالی کافقدان تھے اس معاملے کے حل کے لیے سلامتی کونسل نے سلامتی کونسل ہی کے صدر مک ناٹن پر مشتمل ایک یک رکنی کمیشن بنایا۔ اس کمیشن نے کہا کہ اب دونوں ممالک بیک وقت اپنی فوجیں نکالتے جائیں گے تا کہ کسی کو کوئی خطرہ نہ رہے۔ پاکستان نے یہ تجویز بھی قبول کر لی۔ بھارت نے اس تجویز کو بھی رد کر دیا۔ یہاں دل چسپ بات یہ ہے کہ اس تجویز کو سلامتی کونسل نے 14 مارچ 1950ء کو ایک قرارداد کی شکل میں منظور کر لیا۔ گویا اب اقوام متحدہ کی قرارداد یہ کہہ رہی ہے کہ دونوں ممالک بیک وقت فوجیں نکالنا شروع کریںگے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *