20جنوری 2026 کی بات ہے، جب روشن لعل چیکر کی خصوصی تاکید پر اپنے کزن ارشد محمود خان کے ہمراہ پروفیسر ضیا الدین خان نیازی کے گھر پہنچا تو وہ ہماری آمد کے منتظر تھے کیونکہ روشن لعل چیکر انہیں پہلے ہی فون پر ہمارے بارے میں بتا چکے تھے۔ پروفیسر صاحب سے میری شناسائی گزشتہ بیس پچیس برسوں پر محیط ہے۔ انہوں نے جس محبت، خلوص اور مہمان نوازی سے ہماری پذیرائی کی، وہ میانوالی کی تہذیبی روایات کا دل نشیں مظہر تھا۔ جب انہوں نے اپنی تصنیف مجھے عنایت کی تو محسوس ہوا جیسے میرے ہاتھ میں محض ایک کتاب نہیں بلکہ میانوالی سے دہلی تک پھیلی یادوں، تعلقات اور تاریخ کا ایک اہم حوالہ آ گیا ہو ۔ میں نے واپسی کے سفر میں ہی کتاب کا مطالعہ شروع کیا۔ لاہور پہنچ کر اسے دوبارہ پڑھا اور پھر کئی مرتبہ اس کے صفحات میں گم ہوا۔ ہر بار ایک نئی کیفیت نے ذہن کو اپنی گرفت میں لیا۔ اس کتاب کے صفحات میں میانوالی کی مٹی، ہجرت کا کرب، آبائی وطن کی یاد، تہذیبی شناخت اور انسانیت سے محبت کے متعدد رنگ نمایاں ہیں۔پروفیسر ضیا الدین خان نیازی صاحب کی اس تصنیف کے 240 صفحات اور 168 موضوعات اس کے تنوع کی نشان دہی کرتے ہیں ۔ یہ کتاب قاری کو ان لوگوں کی زندگیوں کے قریب لے جاتی ہے جن کے بزرگوں نے بٹوارے کے وقت میانوالی سے ہجرت کی تھی۔ دہلی میں قیام کے دوران مصنف نے ایسے متعدد افراد سے ملاقاتیں کیں جن کا تعلق میانوالی سے تھا یا جن کے والدین اس خطے سے ہجرت کرکے بھارت منتقل ہوئے تھے۔ملاقاتوں میں ایک شہر کی یادیں، ایک عہد کی تلخیاں اور اپنی جنم بھومی سے وابستگی کے متعدد پہلو سامنے آتے ہیں۔ 1947 میں جب برصغیر کا سیاسی نقشہ تبدیل ہوا تو لاکھوں افراد کو اپنے گھر بار چھوڑ کر نئے علاقوں میں آباد ہونا پڑا۔ کسی نے اپنے بزرگوں کی قبریں چھوڑیں، کسی نے اپنا کاروبار، کسی نے بچپن کے دوست اور کسی نے وہ گلیاں جن میں اس کی پوری زندگی کے ابتدائی نقوش محفوظ تھے۔ ہجرت کرنیوالوں نے نئی سرزمینوں پر زندگی کی بنیادیں ضرور استوار کیں لیکن ان کے دلوں میں آبائی علاقوں کی یادیں زندہ رہیں۔ ہجرت کرنے والے کیلئے میانوالی محض ایک شہر یا ضلع کا نام نہیں بلکہ آبائی شناخت، خاندانی تاریخ اور تہذیبی وابستگی کی علامت ہے۔ دہلی میں میانوالی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتیں کرتے ہوئے مصنف کو ایسے تجربات اور احساسات سے واسطہ پڑتا ہے جو تاریخ کے رسمی بیانیے سے آگے بڑھ کر انسانی زندگی کی ترجمانی کرتے ہیں۔ سرکاری دستاویزات ہجرت کے اعداد و شمار تو محفوظ کر سکتی ہیں لیکن کسی شخص کے دل میں اپنے آبائی گھر کی یاد سے پیدا ہونیوالی کسک کو مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتیں۔ اس کیلئے انفرادی مشاہدہ، گفتگو اور انسانی احساسات کو سمجھنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔برصغیر کی تاریخ صرف جغرافیائی سرحدوں کے بننے کی داستان نہیں ہے بلکہ یہ ان کروڑوں دلوں کی کہانی ہے جو ہجرت، ہجر اور وصال کے لامتناہی سلسلوں سے گزرے۔ جب کوئی ادیب یا دانشور اس درد کو اپنے مشاہدے کی آنکھ سے دیکھتا ہے تو تاریخ دستاویزی اعداد و شمار کے بجائے ایک زندہ حقیقت بن کر سامنے آ جاتی ہے۔ پروفیسر ضیا الدین خان کی تصنیف بھلیا جانڑ گیا میں کونڑ ایک ایسا ہی ادبی شاہکار ہے جو کہنے کو تو ایک سفرنامہ ہے لیکن جیسے ہی قاری اس کے صفحات کو پلٹتا ہے، اس پر انکشاف ہوتا ہے کہ یہ دراصل مٹی سے محبت، حب الوطنی اور ہجرت کے ادھورے سچ کی ایک لازوال کتھا ہے۔پروفیسر ضیا الدین خان نے اپنے جادوئی قلم سے اس سفرنامے کو ایک ایسی اثر انگیز داستان بنا دیا ہے جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ انہوں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان وقت کے ساتھ بڑھنے والے فاصلوں کی ایک مکمل اور سچی تصویر پیش کی ہے۔ یہ سفرنامہ ماضی کے ان زخموں کو کریدتا ہے جن سے آج بھی لہو رستا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ مصنف نے اپنے اردگرد کی دنیا کے دکھ درد، سماجی رویوں اور زمانے کے اجتماعی غم کو جس مثر انداز میں کاغذ پر اتارا ہے، وہ ان کے گہرے فکری شعور کا ثبوت ہے۔ یہ کتاب صرف دہلی کے پس منظر تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کا کینوس پورے برصغیر پاک و ہند تک پھیلا ہوا ہے، جہاں دو قوموں کی مکمل تاریخ سانس لیتی دکھائی دیتی ہے ۔کتاب کا سب سے خوبصورت اور جذباتی پہلو اس کا انتساب اور اس کے کردار ہیں۔ پروفیسر نے یہ کتاب دہلی سے تعلق رکھنے والے خدمت کے دیوتا روشن لعل چکڑ ، خدمت کی دیوی چاچی ارمیلا دیوی اور ان کے بچوں (بٹو اور بیلا)کے نام معنون کی ہے۔ لالہ روشن لعل چیکر اور چاچی ارمیلا کے یہ کردار جو محبت اور انسانیت کا عملی نمونہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ محبت اور انسانیت کا اپنا ایک الگ مذہب ہوتا ہے جو زمین پر بستا ہے۔ مٹی سے محبت ایک ایسی سچائی ہے جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور یہ کردار آج بھی دھرتی سے اپنے رشتے کا قرض چکا رہے ہیں ۔ یہ جوش اور جذبوں کی وہ داستان ہے جس کا حصہ کوئی ایک فرد نہیں بلکہ وہ کروڑوں انسان ہیں جو داخلی اور خارجی حالات کے باوجود اپنی زمین کی زنجیر سے بندھے ہوئے ہیں۔ پروفیسر سرور خان نیازی کا لکھا ہوا دیباچہ اس کتاب کی ادبی اور تاریخی اہمیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ مصنف نے اپنے سادہ، سلیس اور دلکش الفاظ کے ذریعے ماضی کے واقعات کو ایک نئی جہت دی ہے تاکہ قارئین ایک ایسی دنیا کا سفر کر سکیں جہاں قربانی اور انسانیت کی قدریں اب بھی سانس لے رہی ہیں۔انسان کی زندگی میں بعض فاصلے نقشے پر ناپے جا سکتے ہیں لیکن ان کے جذباتی مفہوم کو اعداد میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ میانوالی سے دہلی تک کا فاصلہ جغرافیائی حقیقت ہے مگر ان دونوں شہروں کے درمیان موجود یادوں، رشتوں اور انسانی وابستگیوں کا سلسلہ ایک الگ حقیقت رکھتا ہے۔کتابیں جب ان یادوں کو محفوظ کرتی ہیں تو وہ ماضی کو دہرانے کے بجائے اسے سمجھنے کا وسیلہ بن جاتی ہیں۔ ان کے ذریعے ہم ان لوگوں کے تجربات سے واقف ہوتے ہیں جن کی زندگیوں پر تاریخ نے گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہی ادب کی اصل معنویت ہے کہ وہ گزرے ہوئے زمانوں کو انسانی احساسات کے ساتھ جوڑتا اور آنے والی نسلوں کیلئے محفوظ کرتا ہے۔ پروفیسر ضیا الدین خان نیازی کی یہ تصنیف اسی اعتبار سے اہم ہے کہ اس نے میانوالی سے دہلی تک پھیلے ہوئے انسانی رشتوں کو ایک ادبی سفر کے ذریعے محفوظ کرنے کی کوشش کی۔سرحدیں ملکوں کو تقسیم کر سکتی ہیں لیکن انسانی یادداشت، خاندانی تاریخ اور محبت کے رشتوں کو مکمل طور پر مٹا نہیں سکتیں۔ یہ رشتے کبھی کسی بزرگ کی گفتگو میں، کبھی کسی پرانی تصویر میں، کبھی کسی ملاقات میں اور کبھی کسی کتاب کے صفحات میں زندہ رہتے ہیں۔ بھلیا جانڑ گیا میں کونڑ کا مطالعہ اسی حقیقت کا احساس دلاتا ہے کہ اپنی مٹی سے محبت، انسانوں سے تعلق اور ماضی کو محفوظ رکھنے کی خواہش وقت اور فاصلے کی پابند نہیں۔ پروفیسر ضیا الدین خان نیازی کی بھلیا جانڑ گیا میں کونڑ اسی انسانی ورثے کو محفوظ کرنے کی ایک قابل قدر کوشش ہے۔ روشن لعل چیکر اور ارمیلا دیوی جیسے کردار محبت، خدمت اور احترام کی قدریں کسی ایک جغرافیائی خطے تک محدود نہیں۔ ان کی معنویت سرحدوں سے ماورا ہے کیونکہ انسان کی بنیادی ضرورت محبت، عزت اور تعلق ہے۔ یہی اقدار مختلف معاشروں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دیتی ہیں۔ مٹی سے محبت اور رشتوں کی بنیاد پر لکھا گیا یہ سفرنامہ نہ صرف ہمارے تاریخی ادب میں ایک منفرد شناخت رکھتا ہے بلکہ اپنے خوبصورت اسلوب کی وجہ سے اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ آج کے اس مادی دور میں جہاں نئی نسل اپنی جڑوں سے کٹتی جا رہی ہے، یہ کتاب نوجوان نسل کیلئے ایک خوبصورت تحفہ اور تحقیق کے طالب علموں کیلئے ایک انمول سوغات ہے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں