بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 14.8°C
Thursday, 29 October 2026 | پاکستان: 19 جمادی الاول 1448

افغانستان کی جنگ٫ کابل سے پشاور سے تک پھیلتی کشمکش!

Thursday, 29 October, 2026

افغانستان کی گزشتہ نصف صدی کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک میں جنگ کا آغاز دسمبر 1979ء میں سوویت فوجوں کی آمد سے اچانک نہیں ہوا تھا( جس جنگ کو امریکہ نے جہاد اور لڑنے والوں کو مجاہدین قرار دیا تھا اور جہادی لٹریچر کی اشاعت کیلئے ڈالر واشنگٹن سے آتے تھے)۔ سوویت مداخلت نے افغان بحران کو عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکزی میدان ضرور بنایا، لیکن اس سے کئی برس پہلے سیاسی اختلافات، نظریاتی تقسیم، اقتدار کی رسہ کشی اور ہمسایہ ممالک کی باہمی بداعتمادی خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی تھی۔ افغان جہاد اور بعد کی جنگوں کا پس منظر سمجھنے کے لیے 1973ء سے 1975ء کے اس دور کا جائزہ ضروری ہے، جب بادشاہت ختم ہوئی، جمہوریہ قائم ہوئی اور حکومت کے بعض مخالفین نے اپنی سیاسی و عسکری سرگرمیاں تیز کردیں۔17 جولائی 1973ء کو سردار محمد داؤد خان نے اپنے چچا زاد بھائی، بادشاہ ظاہر شاہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ ظاہر شاہ اس وقت علاج کے سلسلے میں اٹلی میں تھے۔ داؤد خان نے بادشاہت ختم کرکے افغانستان کو جمہوریہ قرار دیا اور خود صدر بن گئے۔ یہ تبدیلی نسبتاً کم خونریزی کے ساتھ عمل میں آئی، مگر اس کے اثرات دور رس تھے۔ داؤد خان پہلے بھی افغانستان کے وزیراعظم رہ چکے تھے اور پشتونستان کے مسئلے پر پاکستان کے ساتھ ان کے اختلافات پرانے تھے۔ وہ ایک مضبوط مرکزی حکومت اور افغانستان کے علاقائی اثرورسوخ میں اضافے کے خواہاں تھے۔ پاکستان کو اندیشہ تھا کہ ان کے اقتدار میں آنے سے سرحدی علاقوں اور پشتونستان کے مسئلے پر کشیدگی دوبارہ بڑھے گی۔داؤد خان کے اقتدار میں آنے میں افغان فوج کے بعض افسران اور بائیں بازو کے سیاسی عناصر نے بھی کردار ادا کیا۔ ان میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کے پرچم دھڑے سے وابستہ افراد شامل تھے۔ تاہم ان تمام عناصر کے نظریات یکساں نہیں تھے۔ داؤد خان افغان قوم پرستی اور مضبوط صدارتی نظام کے حامی تھے، جبکہ بائیں بازو کے بعض رہنما سوشلسٹ نظریات سے متاثر تھے۔ اقتدار مضبوط ہونے کے بعد داؤد خان اور ان کے بعض سابق اتحادیوں کے درمیان اختلافات بڑھنے لگے۔ یوں بادشاہت کے خاتمے سے قائم ہونے والی نئی حکومت اندرونی کشمکش سے محفوظ نہ رہ سکی۔اسی زمانے میں افغان سیاست میں اسلامی سیاسی تحریکیں بھی سرگرم تھیں۔ کابل یونیورسٹی اور دوسرے تعلیمی حلقوں میں ایسے نوجوان موجود تھے جو بائیں بازو کے نظریات اور سوویت اثرورسوخ کو اپنے مذہبی و سماجی تصورات کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ برہان الدین ربانی، گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے نام اسی وسیع تر سیاسی ماحول میں سامنے آئے، اگرچہ ان کے نظریات، تنظیمی راستے اور بعد کے سیاسی مقاصد مختلف تھے۔ انہیں ابتدا ہی سے ایک متحدہ تنظیم کا حصہ سمجھنا تاریخی حقیقت کو سادہ بنا دینے کے مترادف ہوگا۔داؤد خان کی حکومت نے مخالف سیاسی حلقوں کے خلاف اقدامات کیے تو بعض اسلامی رہنما اور کارکن افغانستان چھوڑ کر پاکستان آگئے۔ پشاور افغان جلاوطن سیاست کا اہم مرکز بننے لگا۔ یہاں مختلف گروہوں کے درمیان رابطے بڑھے، تنظیم سازی کی کوششیں ہوئیں اور کابل میں حکومت کی تبدیلی کے امکانات پر غور کیا جانے لگا۔ تاہم تمام جلاوطن افغان ایک جماعت سے تعلق نہیں رکھتے تھے، نہ ہی سب مسلح جدوجہد کے حامی تھے۔ اس وقت افغانستان میں مذہبی، قوم پرست اور بائیں بازو کے متعدد سیاسی حلقے موجود تھے، جن کے مقاصد کئی معاملات میں ایک دوسرے سے متصادم تھے۔افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی نے اس صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ کابل کے لیے پشتونستان کا مسئلہ قومی شناخت اور افغان قوم پرستی سے جڑا ہوا تھا، جبکہ اسلام آباد اسے اپنی علاقائی سالمیت اور داخلی سلامتی کے تناظر میں دیکھتا تھا۔ دونوں حکومتیں ایک دوسرے پر مخالف عناصر کی پشت پناہی کے الزامات لگاتی رہیںاور دونوں جانب سرحد پار مخالفین کی حوصلہ افزائی اور ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں ہوتی رہی تھیں۔اس میں داخلی سیاسی اختلافات کے ساتھ علاقائی رقابت بھی شامل تھی۔ اس دوران 1974ء اور 1975ء کے دوران داؤد حکومت کے مخالف اسلامی حلقوں اور کابل کے درمیان تناؤ بڑھتا گیا۔ بعض افغان رہنما پاکستان میں مقیم ہوکر حکومت کے خلاف سرگرمیاں منظم کرنے لگے اور افغان حکومت کے بعض مخالفین کے لیے پاکستان پناہ گاہ اور تنظیم سازی کا مرکز بن چکا تھا، جبکہ دونوں ملکوں کے باہمی اختلافات نے اس صورت حال کو مزید تقویت دی۔اور 1975ء میں حکومت کے خلاف بغاوت کی کوشش اس کشمکش کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔ مختلف علاقوں میں کارروائیاں ہوئیں، جن میں وادی پنجشیر نمایاں تھی۔ احمد شاہ مسعود اس وقت نوجوان تھے اور برہان الدین ربانی کے حلقے سے وابستہ تھے۔ گلبدین حکمت یار بھی حکومت مخالف اسلامی تحریک میں نمایاں ہو رہے تھے۔ تاہم یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ مطلوبہ عوامی حمایت، باہمی رابطے اور مؤثر تنظیمی قوت کی کمی سمیت متعدد عوامل نے بغاوت کو ناکامی سے دوچار کیا۔ اس کے بعد کئی مخالف رہنما دوبارہ پاکستان چلے گئے۔افغان فوج کے اندر نظریاتی تقسیم بھی آنے والے بحران کا اہم پہلو تھی۔ محمد اسلم وطنجار ان افسران میں شامل تھے جو بعد میں بائیں بازو کی خلق جماعت کے نمایاں فوجی رہنما بنے۔ اپریل 1978ء کے ثور انقلاب میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں داؤد خان کی حکومت ختم ہوگئی۔ اس واقعے نے واضح کردیا کہ افغانستان کی سیاست میں صرف حکومت اور مذہبی مخالفین کے درمیان کشمکش نہیں تھی؛ فوج اور سیاسی جماعتوں کے اندر موجود نظریاتی دھڑے بھی اقتدار کی تبدیلی میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہے تھے۔داؤد خان نے بعد کے برسوں میں اپنے سابق بائیں بازو کے اتحادیوں سے فاصلہ بڑھایا اور پاکستان سمیت دوسرے علاقائی ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی، لیکن داخلی اختلافات ختم نہ ہوسکے۔ اپریل 1978ء کے ثور انقلاب کے بعد نئی حکومت کی پالیسیوں نے مختلف حلقوں میں مزاحمت کو جنم دیا۔ دسمبر 1979ء میں سوویت فوجی مداخلت نے اس بحران کو عالمی طاقتوں کی کشمکش کا بڑا میدان بنا دیا۔افغانستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب داخلی اختلافات کو سیاسی مفاہمت کے بجائے طاقت سے حل کرنے کی کوشش کی جائے، مخالف گروہوں کو بیرونی سرپرستی ملنے لگے اور ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں اثرورسوخ بڑھانے لگیں تو مقامی کشمکش علاقائی بحران بن سکتی ہے۔ 1973ء سے 1975ء کا دور اسی عمل کی ایک اہم مثال ہے۔ سوویت مداخلت افغان جنگ کا فیصلہ کن موڑ ضرور تھی، لیکن اس سے پہلے کی سیاسی تقسیم، سرحدی رقابت اور جلاوطن مخالفین کی تنظیم سازی کو سمجھے بغیر افغان جہاد اور عالمی طاقتوں کی طویل کشمکش کی مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *