

بنوں میں فتح خیل چوکی پر دہشت گردوں کے حملوں میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت درحقیقت قیام امن کے لیے جاری کوششوں کو تیز کرنے کا پیغام دے گی ، 10 مئی کو ایسے وقت میں جب فیلڈ مارشل
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اے پی ایس پشاور کے بعد نیشنل ایکشن پلان دیا جو بہترین پلان ہے، اگر اس پلان پر عمل نہیں ہوا تو یہ حملے ہوتے
نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کا دا ر ومدار بجا طور پر قوم کے سیاسی ، معاشی اور سماجی اتفاق واتحاد میں ہے ، اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ ہماری قومی قیادت کو نیشنل ایکشن پلان
نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کا دا ر ومدار بجا طور پر قوم کے سیاسی ، معاشی اور سماجی اتفاق واتحاد میں ہے ، اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ ہماری قومی قیادت کو نیشنل ایکشن پلان
دسمبر 2014میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملے نے وطن عزیز میں سکیورٹی کے حوالے سے سوالیہ نشان لگا دیا تھا جس کے بعد عسکری قیادت اور سیاست دان دہشت گردی کے خاتمے کےلئے سر جوڑ
نیشنل ایکشن پلان 2014 پر عملدرآمد کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی۔درخواست شہدا فورم بلوچستان کے سرپرست اعلیٰ نوابزادہ جمال رئیسانی نے ایڈووکیٹ حافظ احسان کھوکھر کے توسط سے دائر کی، جس میں وفاقی اور صوبائی