
خطے کے امن کے لئے مسئلہ کشمیر کاحل ضروری ہے ،سات دہائیوں سے بھارت کشمیری عوام پر ظلم وستم ڈھارہاہے جس سے اُن کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے ۔اس کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے بلندہیں۔ موجودہ حالات کو دیکھتے
مسئلہ فلسطین اور کشمیر کی حمایت بانی پاکستان کے اصولوں کا بنیادی جز ہے۔ اسرائیل سے تعلقات قائد اعظم ؒاور پاکستان کے نظریہ سے انحراف ہے۔ فلسطین سے متعلق قائد اعظمؒ کا دوٹوک موقف موجود ہے جس میں اسرائیل کی
برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کا ایک مضمون شائع کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان پر غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کا بوجھ برطانیہ سے زیادہ ہے اور
اسلام کسی ایسے مذہب کا نام نہیں ہے جو صرف انسان کی نجی اور انفرادی زندگی کی اصلاح کا داعی ہو اور جس کا کل سرمایہ حیات کچھ عبادات چند افکار اور مٹھی بھر رسوم پر مشتمل ہو بلکہ یہ
دنیا بھر میں اور خصوصاً پاکستان میں سیاسی جماعتیں انتخا بات سے قبل اپنا اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ منشور سیاسی جماعتوں کے وہ منصوبے، پروگرام ہوتے ہیں جن پر وہ عمل کرنے کا وعدہ کرتی ہیں
حماس اسرائیل جنگ بندی کے بعداسرائیل نے دوبارہ اپنی بربریت ،غنڈہ گردی اوربدمعاشی کا مظاہر ہ کرناشروع کردیا اور غزہ پر کئے جانے والے حملے میں اس نے ایک بار پھر 178بے گناہ فلسطینیوں کو شہید کردیا۔جنگ بندی کامقصد تویہ
انتخابات میں اب کچھ ہی وقت رہ گیا ہے۔ سیاسی جماعتیں اقتدار کےلئے عوام سے رجوع کر رہی ہیں۔ انتخابی جلسے شروع ہو گئے ہیں۔ جوڑ توڑ کی سیاست عروج پر ہے۔ وطن عزیز کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں اپنا
یہودیوں کے مطابق آج سے چار ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کو دریائے نیل کے سا حل سے لیکر دجلہ فرات تک کا رقبہ دے گا وغیرہ وغیرہ ۔ قوم
نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کایواے ای کادورہ اس لحاظ سے کامیاب ہے کہ انہوں نے اپنے اس دورہ کے دوران پاکستان کے مطلوبہ معاشی اہداف کے حصول کے لئے جو محنت کی اس میں تقریباً انہیں کامیابی حاصل ہوئی اوروہ
پاکستان جب آزاد ہوا تو اس وقت مقروض نہیں تھا ،جتنے بھی اثاثے ہندوستان سے منتقل ہوئے وہ ملک کی ضروریات کیلئے اگرچہ ناکافی تھے لیکن اللہ نے اس ملک کو مشکلات سے نکال کر آسودگی عطا فرمائی ۔ اس