
مریم نوازکی پاکستان واپسی نے سیاست میں ایک ہلچل مچا دی ہے۔مسلم لیگ کی سہمی اور ٹھٹھری ہوئی زندگی میں انہوں نے ایک توانائی پھونک دی ہے۔لیگی کارکنان میں مریم نواز کے آنے سے ایک جوش وخروش اور ولولہ پید
تحریک انصاف احتجاج کے میدانوں کے ساتھ ساتھ عدالتی کٹہروں میں بھی آچکی ہے۔وہ ہاری ہوئی سیاسی جنگ اب سپریم کورٹ میں لے آئی ہے۔ وہی ہوا جس کاخدشہ تھا،وہی ہونا تھا جو عمران خان نے چاہا اور سوچا تھا۔پاکستان
معروف سائنس دان نیوٹن کے حرکت کے تیسرے قانون کے مطابق ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔انسان یا کوئی مخلوق کوئی بھی حرکت کرتا ہے تو اس کا ردعمل ضرور ہوتا ہے۔اسی طرح کوئی طالب علم اپنی توجہ تعلیم پر
اےک خبر پڑھنے پر روح مےں اےک جھکڑپےدا ہوا جو مسلسل چل رہا ہے ۔ےوں محسوس ہوا کہ مےں اےک جنگل مےں کھڑا ہوں جہاں قانون نام کی کوئی چےز نہےں ۔ہر سو خوف و ہراس نے ڈےرے ڈالے ہوئے
پاکستان نے بھارت کو روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کی فروخت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جنوبی ایشیا میں سٹریٹجک استحکام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔جنوبی ایشیا میں اس پیش رفت کے اثرات واضح
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین سے گزررہا ہے کہ جس میں مالی مشکلات ، سماوی آفات اور سیاسی بحرانوں کا بیک وقت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، پہلے نمبر پر ملکی ڈوبتی معیشت کو بچانا حکومت
گزشتہ دنوں میں پاکستان کی معروف گائیک طاہرہ سید کا انٹرویو سُن رہا تھا ۔ اُن سے پوچھا گیا کہ آپ کی دوبچیاں جو بیرون ملک ہیں ۔ اُن کی وجہ سے آپ پریشان ہونگی ۔ تو محترمہ طاہرہ سید
نگران حکومت آنے کے فورابعدایک شو رہے ایک غوغا ہے۔وسیع پیمانے پربیورو کریسی میں تبادلوں کا رولا ہے۔ اوپر سے پکڑدھکڑ کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ فواد چوہدری کے بعدلاہورسے بھی ایک آدھ گرفتاری کی اطلاع ہے۔یہ صورت
حکومت نے باالاخر وہی کیا جس کا خدشہ تھا،شیڈول کے مطابق یکم تاریخ آنے سے قبل ہی پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں یکلخت بڑے اضافے کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 35، 35 روپے فی لیٹر
وقت دن ،مہےنے اور سال بن کر کتنی تےزی کے ساتھ بےت جاتا ہے ۔آج کی مصروف دنےا مےں وقت کے ساتھ چلنے کےلئے دوڑ جاری ہے لےکن جو وقت کے ساتھ چلنے سے محروم رہتے ہےں ،زمانہ ان سے