ہم ایک ایسی قوم ہیں جنہیں وقت کی اہمیت کا بالکل احساس نہیں اکثریت گپ شپ میں فضول وقت گزارنے کی عادی ہے آج کا کام کل پر منتقل کرنے کی عادت ہے کسی جگہ چلے جائیں آپکو وقت پر کام کرتے ہوئے لوگ نہیں ملیں گے تعلیمی ادارے ہوں یا عوامی خدمت کے دفاتر اور ادارے سبھی سقراطی بقراطی۔ افلاطونی نقطہ نظر رکھنے والے عقلمند ملیں گے ملازمین کی ٹیبلز پر فائلوں کے انبار لگے ہوں گے اور وہ خود اپنے کولیگز کےساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہوں گے کوئی سائل اگر آ جائے تو باتوں میں الجھا کر جان چھڑانے کی روش عام ہے آپ نے آتے جاتے ٹریفک کے نظام کو تو دیکھا ہوگا بلکہ بلاناغہ تجربہ کرتے ہوں گے کہ اگر کوئی منگل خان جمعراتی بھی وی آئی پی بن کر اجاڑستان سے خیر سگالی کے دورے پر آ جائے تو روٹ لگ جاتے ہیں، جس ہوٹل میں اس کا قیام وہاں سیکیورٹی کے نام پر اسلحہ برادر یونیفارم میں ملبوس محافظ موجود ہوں گے ہر آنے جانے والوں کےلئے رستہ بند ہو جاتا ہے۔ ٹریفک معطل ہو جاتی ہے عام آدمی جائے بھاڑ میں وہ ایک کے بجائے دو گھنٹوں میں اپنی منزل پر پہنچنے یا نہ پہنچے سیکیورٹی اداروں کی بلا سے اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ٹریفک کا نظام کسی وی آئی پی کی آمد کی وجہ معطل ہے اور متبادل کے طور پر جو راستے تجویز ہوتے ہیں، وہ مسافت بڑھا دیتے ہیں پٹرول کا خرچ بڑھ جاتا ہے اور منزل پر پہنچنے کےلئے وقت بھی زیادہ صرف ہوتا ہے لیکن وقت کے زیاں کا احساس کسی کو بھی نہیں ہوتا ٹریفک چلانے والے اپنی سیٹیوں کی کرخت آواز یا پھر ہاتھ کے اشاروں گاڑیوں کو دائیں بائیں کرتے رہتے ہیں جس طرح کا نظام ہمارے ہاں رائج ہے اس سے ملک کی سیکیورٹی پر سوال اٹھتے ہیں۔ زندگی غیر محفوظ ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا ملک میں آنے والے مہمانوں کی زندگیاں اہم ہیں اور اس کےساتھ ملک میں بسنے والی زندگیاں بھی اہم ہیں جن کی سوائے اللہ کے کوئی حفاظت نہیںسوال یہ ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کرنے والے اب کیا ٹریفک بھی کنٹرول کریں گے۔ وہ ذمہ داریاں کہاں کہاں نبھائیں بلوچستان اور” کے پی کے“ کے حالات کسی سے اوجھل نہیں آئے دن شہادتوں کی خبریں چھپتی رہتی ہیں پڑوس کے ممالک سے دشمن عناصر کی کاروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔حالات نارمل نہیں معاشرہ پرسکون کیسے ہو۔ اس پر اندرون ملک کچھ سیاسی جماعتوں نے آئین اور قانون کے نفاذ کے لیے ماحول کو جھنجھوڑ رکھا ہے ۔اگر ملک ہچکولے کھا کر ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے تو اسے چلنے دیں حالات ایسے نہیں بننے چاہئیں جس سے غیر ملکی معاشی تعاون پر گہرے اثرات مرتب ہوں مالیاتی اداروں کا تعاون تاخیر کا شکار ہواور ملک غیروںکی ریشہ دوانیوں کا شکار ہو جائے وقت کی اہمیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے ہمارے ملک کے حالات وقت کے بہاو ¿ پر چھوڑا نہیں جا سکتا ۔اب ذمے داری سے واضح اور مثبت انداز کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کا وقت ہے جس کے نتائج عام آدمی کی زندگی سے غربت افلاس محرومیوں کو نکال کر ترقی خوشحالی کا پیغام دیں لوگ جزبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ ٹریفک کی لائنوں میں بے مقصد الجھ کر وقت ضائع نہ کریں دنیا کے کسی بھی ملک میں ٹریفک کا ایسا نظام نہیں جو کسی بھی غیر ملکی مہمان کی آمد پر درہم برہم ہو جاتا ہو جس طرح ہمارے ہاں ہے وقت کی اہمیت کا احساس ہی نہیں ٹریف پولیس حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے نظام رائج کرتی ہے۔ انہیں شاید یہ احساس نہیں کہ لمبی لمبی لائنوں میں لگے کتنے لوگ کس طرح کی پریشانیوں کا شکار ہیں مجھے یقین ہے جب انہیں احساس ہوگا تو پھر کوئی قابل عمل حل بھی تلاش کر لیا جائے گا ابھی تو رکاوٹیں سیٹی کی کرخت آوازیں یا پھر باوردی پولیس کانسٹیبل کے ہاتھ کے اشارے سینکڑوں گاڑیاں بے مقصد سفری طوالت اور پٹرول ضائع کرنے میں مصروف ہیں ۔یہ سب معمولات زندگی ہیں وقت ضائع ہوتا ہے کیا فرق پڑتا ہے ایسا تو ہوتا رہتا ہے ہم عادی ہیں فکر کی بات نہیں اللہ ٹھیک کر دے گا ۔معذرت کےساتھ ہم نے سب کچھ اللہ پر ڈال دیا ہے۔ انسان اس دنیا میں معاشرہ بنا کر زندگی گزارتے ہیں۔ ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں۔ ہم ان پر توجہ نہیں دیتے دوسری قومیں کیوں ہم سے بہتر ہیں صرف اس لئے کہ وہ حقوق، فرائض پر سختی سے عمل پیرا ہیں وہ وقت کی قدر کرتے ہیں ابھی میں لکھ ہی رہا تھا لیکن ڈان اخبار صفحہ نمبر لیفٹ سائڈ پر پہلی خبر پڑھ کر کچھ لکھنے کے قابل ہی نہیں رہا کہ وہاڑی ضلع میں جواری نے جوا ہارنے کے بعد اپنی بیوی جواریوں کوپیش کر دی۔ ایک نے اس کی فلم بھی بنائی اور دھمکی بھی دی کی اگر کسی کو بتایا تو یہ فلم سوشل میڈیا پر ڈال دی جائے گی۔ بدقسمت خاتون کے والد نے پولیس کو اطلاع دیکر ایف آئی آر کٹوائی جس میں خاتون کے شوہر اور جواریوں کے نام ظاہر کیے گئے پولیس نے تاحال ایک یاسر نامی شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ باقی کی تلاش جاری ہے معاشرے میں کس حد تک بے غیرت افراد موجود ہیں اس واقعے سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔
میں وقت کے احساس کی بات کر رہا تھا پاکستان سٹینڈرڈ ٹائم کیا ہے اس کا کس جگہ سے تعلق ہے آپ کی اطلاع کے لیے بتا دوں ستمبر کو پروفیسر انور جو کہ ریاضی دان تھے یہ ٹرمینولوجی انہوں نے متعارف کروائی پہلے کراچی سٹینڈرڈ ٹائم تھا اور ڈھاکہ سٹینڈرڈ ٹائم الگ تھا کے بعد اسے پاکستان سٹینڈرڈ ٹائم کر دیا گیا پاکستان کے شہر نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں ایک قصبہ ہے دین شاہ جو شاید اب موجود نہیں اس جگہ سورج کی پہلی کرن پڑتی ہے وہاں اسے پی ایس ٹی کہا گیا ہے لمحوں میں گزرتا یہ وقت کبھی واپس نہیں آتا سوائے سرکار دو عالمﷺ کے معجزات کے جنہوں نے سورج کو پلٹا دیا ہم ان کی امت ہیں اللہ نے ہماری پیدائش سے پہلے روح کو سرکار دو عالم ﷺکی امت میں شامل کر دیا اور پھر دنیا میں ہماری پہچان ہی امت محمدی ہے فخر کامقام ہے عمل صالح کرنے کی تلقین ہے وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کی ہدایت ہے لیکن ہم اللہ اور اس کے رسول کی ہدایت پر عمل پیرا ہونے میں مخلص نہیں۔ ہمیں زندگی کے ہر شعبے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرتی انقلاب چاہیے پرائمری سکول سے لیکر اعلی تعلیمی اداروں تک تعلیم کے ساتھ تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ دوسرے ممالک کی طرح ہمارے بچوں کو بھی نہ صرف ذاتی بلکہ اجتماعی زندگی میں بھی وقت کا احساس ہو اس طرح کے ماحول کو بنانے میں یقینا ایک طویل مدت درکار ہوگی لیکن کایا پلٹ سکتی ہے ایک دم ماحول کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا اس کی مثال آپ کے ذہن میں ضرور ہوگی کہ کچھ۔ عرصہ پہلے حکومت نے کمرشل مارکیٹس کھلنے اور بند ہونے کےلئے ٹائم مقرر کر دیا تاکہ بجلی کی بچت ہو سکے ڈسپلن ہو سکے اس حکم کے خلاف احتجاج شروع ہو گئے کیونکہ ہماری مارکیٹس صبح گیارہ بجے سے رات گیارہ تک کھلی رہتی ہیں اکثریت نے حکم کےخلاف عمل کیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ من مانی کرنےوالے جیت گئے اور ان کا کاروبار روایتی ڈگر پر چل رہا ہے دنیا میں تمام مارکیٹس صبح نو بجے سے شام چھ بجے تک کھلی رہتی ہیں اس طرح زندگی کے شب و روز بھی باقاعدگی کےساتھ چلتے ہیں کاروباری حضرات کی ذاتی زندگی بھی قوانین کےساتھ چلتی ہے ۔
ہمارے ہاں تو اصول ہی نرالے ہیں ہسپتالوں میں جا کر دیکھیں ہر شعبے میں ،مریضوں کا رش ہوگا ایک ڈاکٹر پچاس سے تقریبا ًسو کے قریب مریضوں کو دیکھتا ہے بلکہ ٹرخاتہ ہے نہ توجہ سے مریض کی کیفیت سن پاتا ہے اور نہ ہی پراپر ادویات تجویز ہو سکتی ہیں صرف مریضوں کی تعداد کا اندراج ہوتا ہے دیگر ممالک میں ایک ڈاکٹر پندرہ سے بیس مریض چیک کرتا ہے تمام سہولتوں کےساتھ ڈاکٹر تمام مریضوں کی توجہ سے بات سنتا ہے اور پھر ادویات تجویز کرتا ہے جلد بازی انکے اخلاق اور منصب کی ذمہ داریوں میں کہیں نہیں کسی بھی شخص کی سیلف ریسپیکٹ کبھی مجروح نہیں ہوتی ہمارے ہاں ماحول ان معاشروں سے الگ ہے اپنے رویوں سے ہمیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہم ابھی غاروں اور جنگلوں میں رہنے والے لوگ ہیں جو تہذیب، تمدن سے نا واقف اسکی تلاش میں ہیں حقوق کا بے مقصد شعور ہے لیکن فرائض سے کا تعلقی ہے، جب حق کے لئے دعا کے علاوہ کوئی راستہ نہ رہے تو سمجھیں قوم عذاب میں جا رہی ہے اس وقت ہم اس کیفیت سے گزر رہے ہیں کہ بچوں کو پڑھا کر دعائیں مانگتے ہیں کہ کہیں اسے ملازمت مل جائے بچوں کو سکول میں داخل کروانے کے لئے بھی دعائیں ہوتی ہیں وقت اور پیسے کا زیاں ہو رہا ہے وقت کا فائدہ اٹھانے والے لوگ سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں دو سو ارب ڈالر جمع کر کے بیٹھے ہوئے ہیں حکومت کو چایئے کہ ان کو یقین دلائے کہ ان کہ دولت حکومتی قبضے میں کی جائے نہ تو ان سے کسی قسم کی تفتیش ہوگی وہ صرف اس دولت کو واپس لے آئیں تاکہ ملک کی معیشت بہتر ہو اس طرح دوبئی کے بینکوں میں بھی عربوں ڈالر جمع ہیں انہیں بھی واپس لانے کی ترغیب کے بارے میں سوچنا چاہیے اللہ تعالی ملک کو قائم و دائم رکھے اور اس کی نسلوں کو آسانیاں دینے والے لوگوں سے متعارف کروائے اب ذاتی ابلیسیت پر قابو پانے کا مہینہ ختم ہو رہا ہے کوشش کریں اچھے انسان اور شہری بنیں اور ملک سے وفا نبھائیں۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں