احساس وہ لطیف کیفیت ہے جو انسان کو محض ایک جاندار سے بلند کر کے ایک باوقار اور باشعور مخلوق بنا دیتی ہے۔ یہی احساس ہے جو کسی کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے، کسی کی خوشی میں شریک ہونے اور کسی کی ضرورت کو اپنی ذمہ داری جاننے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ انسان کے دل میں احساس مر جائے تو وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی ایک بے جان وجود بن جاتا ہے اور اگر احساس زندہ ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی وہ دوسروں کے لیے رحمت بن جاتا ہے۔احساس دراصل دل کی وہ بیداری ہے جو اپنے اردگرد کے حالات و واقعات سے جوڑتی ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو خود غرضی کے دائرے سے نکال کر دوسروں کے درد تک لے جاتی ہے۔ ایک ماں کا اپنے بچے کے لیے بے چین ہونا، ایک دوست کا مشکل وقت میں ساتھ دینا، ایک اجنبی کا کسی ضرورت مند کی مدد کرنا یہ سب احساس کے مختلف روپ ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جو انسانی رشتوں کو مضبوط بناتا اور معاشرے کو جوڑ کر رکھتا ہے۔موجودہ دور میں جہاں ترقی کے نام پر رفتار تیز ہو چکی ہے وہاں احساس کی کمی بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ لوگ مصروفیت کے حصار میں ایسے قید ہو گئے ہیں کہ انہیں اپنے قریبی لوگوں کے جذبات کا بھی اندازہ نہیں رہتا۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ بات چیت کم اور خاموشی زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ خاموشی صرف الفاظ کی نہیں بلکہ احساس کی خاموشی ہے جو آہستہ آہستہ رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔احساس کی کمی کا ایک بڑا سبب خود غرضی ہے۔ جب انسان صرف اپنے فائدے کے بارے میں سوچتا ہے تو وہ دوسروں کے درد کو نظر انداز کرنے لگتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ زندگی صرف لینے کا نام نہیں بلکہ دینے کا بھی ایک خوبصورت عمل ہے۔ جو انسان دوسروں کے لیے جیتا ہے وہی اصل خوشی کو پاتا ہے۔ اس کے برعکس جو صرف اپنے لیے جیتا ہے وہ بظاہر کامیاب ہو کر بھی اندر سے خالی رہتا ہے۔معاشرتی سطح پر بھی احساس کی اہمیت بے حد ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ ایک دوسرے کے لیے درد رکھتے ہوں وہاں امن، محبت اور بھائی چارہ فروغ پاتا ہے۔ وہاں جرائم کی شرح کم ہوتی ہے کیونکہ لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس جہاں احساس کا فقدان ہو ،وہاں ظلم، ناانصافی اور بے حسی عام ہو جاتی ہے۔ لوگ دوسروں کے حقوق پامال کرتے ہیں اور انہیں اس کا کوئی احساس بھی نہیں ہوتا۔ہمارے تعلیمی نظام میں بھی احساس کی تربیت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ طلبہ کو صرف کتابی علم دیا جاتا ہے لیکن انہیں انسانیت، ہمدردی اور اخلاقیات کا درس کم ہی دیا جاتا ہے۔ نتیجتا وہ عملی زندگی میں کامیاب تو ہو جاتے ہیں لیکن ایک اچھے انسان نہیں بن پاتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار سازی پر بھی توجہ دی جائے تاکہ نئی نسل میں احساس کا جذبہ پروان چڑھ سکے۔میڈیا کا کردار بھی احساس کی تشکیل میں اہم ہوتا ہے۔ میڈیا مثبت اور تعمیری مواد پیش کرے تو وہ لوگوں کے اندر ہمدردی اور شعور پیدا کر سکتا ہے لیکن میڈیا صرف سنسنی خیزی اور منفی خبروں پر توجہ دے تو وہ لوگوں کو بے حس بھی بنا سکتا ہے۔
بار بار دکھ اور تکلیف کی تصاویر دیکھنے سے انسان کا دل سخت ہو جاتا ہے اور وہ دوسروں کے درد کو معمولی سمجھنے لگتا ہے۔ اس لیے میڈیا کو ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور ایسا مواد پیش کرنا چاہیے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لائے۔احساس کا تعلق صرف انسانوں سے ہی نہیں بلکہ جانوروں اور ماحول سے بھی ہے۔ ایک حساس انسان درخت کاٹتے وقت بھی سوچتا ہے، جانور کو تکلیف پہنچانے سے بھی گریز کرتا ہے اور قدرتی وسائل کا بے جا استعمال نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ یہ دنیا صرف اس کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی بھی ہے۔ اس لیے وہ اپنے اعمال میں ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ کرتا ہے۔خاندان احساس کی پہلی درسگاہ ہوتا ہے۔ بچوں کو بچپن سے ہی دوسروں کا خیال رکھنا سکھایا جائے تو وہ بڑے ہو کر ایک حساس اور ذمہ دار شہری بن سکتے ہیں۔ والدین کا رویہ بچوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ والدین خود دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور محبت کا برتا کریں تو بچے بھی وہی سیکھتے ہیں۔ اس کے برعکس گھر کا ماحول سخت اور بے حس ہو تو بچوں کے اندر بھی یہی رویہ پیدا ہو جاتا ہے۔احساس کا ایک اہم پہلو خود احتسابی بھی ہے۔ ایک حساس انسان اپنے اعمال کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔ وہ یہ سوچتا ہے کہ کہیں اس کے کسی عمل سے کسی کو تکلیف تو نہیں پہنچی۔ ایسا ہوتا ہے تو وہ معذرت کرتا ہے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ یہی رویہ انسان کو بہتر بناتا ہے اور اسے معاشرے میں قابل احترام مقام دلاتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں ایسے بے شمار مواقع آتے ہیں جہاں احساس کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ کسی بوڑھے کو سڑک پار کروانا، کسی غریب کی مدد کرنا، کسی پریشان شخص کو تسلی دینا، یہ چھوٹے چھوٹے عمل بظاہر معمولی لگتے ہیں لیکن ان کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف دوسروں کی زندگی میں آسانی پیدا کرتے ہیں بلکہ خود ہمارے دل کو بھی سکون دیتے ہیں۔احساس کا فقدان صرف فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔ جب حکمران عوام کے مسائل کو محسوس نہ کریں تو پالیسیاں عوامی ضروریات کے مطابق نہیں بنتیں۔ جب ادارے عوام کی مشکلات کو نہ سمجھیں تو انصاف کا نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر سطح پر احساس کو فروغ دیا جائے تاکہ ایک متوازن اور خوشحال معاشرہ تشکیل پا سکے۔ادب اور شاعری بھی احساس کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک اچھا ادیب اپنے الفاظ کے ذریعے دلوں کو چھوتا ہے اور لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ معاشرتی مسائل کو اجاگر کرتا اور لوگوں کے اندر ہمدردی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح شاعری بھی انسان کے جذبات کو بیدار کرتی ہے اور اسے اپنے اندر جھانکنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔احساس دراصل انسان کی روح کی آواز ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتی ہے۔ جب حالات مشکل ہوں، جب ناانصافی عام ہو، جب امیدیں دم توڑ رہی ہو ،تب یہی احساس انسان کو حق کا ساتھ دینے اور سچ پر قائم رہنے کی طاقت دیتا ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو انسان کو ظلم کے خلاف کھڑا ہونے اور مظلوم کا ساتھ دینے پر آمادہ کرتی ہے۔
اپنے معاشرے کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو احساس کو ال زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ دوسروں کے لیے جینا سیکھنا ہوگا، ان کے درد کو سمجھنا ہوگا اور ان کی مدد کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ ہر فرد اپنے حصے کا کردار ادا کرے تو معاشرے میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ احساس انسانیت کی بنیاد ہے،یہ وہ قیمتی دولت ہے جو نہ خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی چھینی جا سکتی ہے۔ یہ دلوں میں پیدا ہوتی ہے اور اعمال کے ذریعے ظاہر ہو تی ہے ۔ اس دولت کو سنبھال کر رکھیں، اسے پروان چڑھائیں اور آنے والی نسلوں تک منتقل کریں کیونکہ جب تک احساس زندہ ہے، انسانیت بھی زندہ ہے اور جب انسانیت زندہ ہے تو امید بھی باقی ۔





