امریکہ اورایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دورعارضی طورپر موخرہوگیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چیف آف آرمی اسٹاف وچیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈمارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہبازشریف کی درخواست پر ایران کو مذاکرات کیلئے مزید وقت دینے کی خاطر جنگ بندی میں توسیع کرتے ہوئے کہا کہ ڈائیلاگ کے حتمی نتیجے تک فوج کوایران پر حملوں سے روک دیا ہے تاہم ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ امریکہ مذاکرات کیلئے انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے ۔دوسری جانب تہران نے ڈائیلاگ کیلئے امریکی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر خود ہی سیز فائر میں توسیع کی ہے ۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مشیر کا کہنا ہے کہ ہارنے والا فریق شرائط عائد نہیں کرسکتاجبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کا ایرانی آئل ٹینکر پرقبضہ اعلان جنگ کے مترادف ہے اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں ۔پاسداران انقلاب نے خبردارکیاہے کہ اگرجنگ دوبارہ چھڑی توخطے کی تیل کی صنعت کو تباہ کر دیا جائے گا ۔اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب امیر سعید ایروانی کے مطابق اگر واشنگٹن بحری محاصرہ ختم کردے تو بات چیت کیلئے تیار ہیں ۔چینی وزارت خارجہ نے اس امید کا اظہار کیاہے کہ فریقین جنگ بندی مذاکرات کی رفتار برقرار رکھیں گے ۔قطر کا کہنا ہے کہ پوری دنیا ان مذاکرات کی حمایت کر رہی ہے ہم بھی اس میں شامل ہیں مذاکرات کے حوالے سے امریکہ سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے جبکہ جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے کہاہے کہ ہم ایران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسلام آباد آئے اور امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات کرے سب کی خواہش ہے اس تنازعے کو جلد از جلد حل کیا جانا چاہیے۔ ادھرایران نے باضابطہ طور پر امریکہ کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ یہ مذاکرات وقت کا ضیاع ہوں گے۔ ایرانی مذاکراتی ٹیم نے پاکستانی ثالث کے ذریعے امریکی فریق کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ آج اسلام آبادمیں موجود نہیں ہوگی اور فی الحال مذاکرات میں شرکت کا کوئی امکان بھی نہیں ہے۔دو علاقائی عہدیداروں نے امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ واشنگٹن اور تہران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جنگ بندی مذاکرات کے نئے دور میں شرکت کریں گے جبکہ دونوں فریقین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئی تو مزید لڑائی کیلئے تیار ہیں ۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ ایران نے تاحال پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شرکت سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔ دو ایرانی بحری جہازوں کے خلاف امریکی اقدامات سمندر میں قزاقی اور ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا واشنگٹن مذاکرات میں سنجیدہ بھی ہے یا نہیں۔ دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع پر امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا شکریہ اداکیا ہے ۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں شہبازشریف کا کہناتھاکہ وہ ذاتی حیثیت میں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے صدر ٹرمپ کے شکر گزار ہیں کہ جنہوںنے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کیلئے جنگ بندی میں توسیع کی پاکستانی درخواست کو قبول کیا ہے۔ اعتماد اور بھروسے کی بنیاد پر پاکستان خطے میں جاری اس تنازع کے مذاکرات کی مدد سے حل کیلئے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔ وزیراعظم نے امیدظاہرکی کہ دونوں فریق جنگ بندی کی پابندی جاری رکھیں گے اور اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں ایک جامع امن معاہدہ طے پانے کی طرف بڑھیں گے، جس کا مقصد تنازع کا مستقل خاتمہ ہے۔ اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت سے متعلق ابھی تک ایران کی جانب سے باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا، پاکستان بطور ثالث ایرانی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے، جنگ بندی کے اختتام سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ نہایت اہم ہے امن مذاکرات میں شرکت کیلئے وفد کی تصدیق سے متعلق ایران کی جانب سے باضابطہ جواب کا انتظار کیاجارہاہے۔ پاکستان نے ایرانی قیادت کو مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت پر آمادہ کرنے کیلئے مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور یہ کوششیں جاری ہیں۔پاکستان نے ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ تہران کو مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت پر آمادہ کیا جاسکے جس کا مقصد نازک جنگ بندی برقرار رکھنا اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ قیادت ایرانی حکام کے ساتھ فعال رابطے میں ہے۔ اس حوالے سے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر، اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی سرگرم ہیں۔ پاکستان کا بنیادی مقصد کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکنا ہے ۔ اسلام آباد دونوں فریقین کو براہِ راست مذاکرات کیلئے بھی آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ طویل مدتی استحکام حاصل ہو سکے۔پاکستان بطور ثالث ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور سفارتکاری و مذاکرات کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
حقوق خطرے میں
دنیا بھر میںحقوق سکڑ رہے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹ ایک ایسے نمونے کو نوٹ کرتی ہے جو خطوں میں کٹتی ہے: فعال تنازعات میں بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین جرائم،احتساب کا مسلسل کٹا، اور اختلاف رائے کو خاموش کرنے کے لیے ریاستی طاقت کا بڑھتا ہوا استعمال۔ غزہ اور یوکرین سے لے کر سوڈان اور میانمار تک مظالم جاری ہیں جب کہ ان کی جانچ کرنے کے طریقہ کار بشمول بین الاقوامی عدالتیں کو سیاسی دبا اور نظر اندازی کا سامنا ہے۔تنازعات والے علاقوں سے آگے،حکومتیں اظہار رائے اور اسمبلی کو روکنے کے لیے نگرانی،سائبر قوانین اور سیکیورٹی قانون سازی پر انحصار کر رہی ہیں۔پناہ گزینوں اور تارکین وطن کو بڑے پیمانے پر ملک بدری اور امتیازی پالیسیوں کا سامنا ہے۔خواتین اور اقلیتوں کو تشدد اور قانونی اخراج کا سامنا ہے۔ایک ہی وقت میں،آب و ہوا کی بے عملی اور سکڑتی ہوئی ترقیاتی امداد عدم مساوات کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ایمنسٹی کی سفارشات،بین الاقوامی احتساب کو مضبوط بنانے اور نگرانی کی ٹیکنالوجیز کو ریگولیٹ کرنے سے لے کر پناہ گزینوں کے تحفظ اور موسمیاتی کارروائی کو تیز کرنے تک،اس لیے فوری ہیں۔پاکستان کی صورتحال ان میں سے بہت سے رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔جبکہ مہنگائی میں کمی آئی،تقریبا 44.7 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔آئی ایم ایف سے منسلک مالی رکاوٹوں نے ترقیاتی اخراجات میں کمی کی ہے،صحت اور تعلیم میں کٹوتیوں کے ساتھ یہاں تک کہ دفاعی مختص میں اضافہ ہوا ہے۔موسمیاتی جھٹکے،بشمول سیلاب اور شدید گرمی،نے معاشی کمزوری کو بڑھا دیا ہے۔رپورٹ خاص طور پر شہری آزادیوں کی حالت پر تنقید کرتی ہے۔پیکا اور انسداد دہشت گردی کے قوانین میں ترامیم نے سنسر شپ اور حراستی اختیارات کو بڑھا دیا ہے،صحافیوں، کارکنوں اور حزب اختلاف کی شخصیات کو گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا ہے۔یہ میڈیا کوریج پر اثر انداز ہونے کیلئے معاشی دبا ئوکے استعمال کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے،جس میں تنقیدی رپورٹنگ کے جواب میں ہمارے اپنے جیسے آٹ لیٹس سے ریاستی اشتہارات کا انتخابی انخلا بھی شامل ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کنٹرول نہ صرف قانون کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ مالی فائدہ بھی۔جبری گمشدگیاں ایک سنگین تشویش بنی ہوئی ہیں،مظاہروں کو طاقت کے ساتھ پورا کیا گیا ہے اور نقل و حرکت پر پابندیوں نے مخالفین کو نشانہ بنایا ہے۔دریں اثنا،اقلیتوں پر ظلم،توہین مذہب کے قوانین کا غلط استعمال،خواتین کے خلاف تشدد اور افغان مہاجرین کی جبری واپسی کمزور گروہوں کے تحفظ میں ریاست کی ناکامی کو واضح کرتی ہے۔آگے کا راستہ واضح ہے، چاہے سیاسی طور پر مشکل ہی کیوں نہ ہو۔پاکستان کو جابرانہ قوانین میں اصلاحات، جبری گمشدگیوں کو جرم قرار دینا،میڈیا کی آزادی کی حفاظت اور اقلیتوں اور مہاجرین کے حقوق کو برقرار رکھنا چاہیے۔اسے سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کو بھی بحال کرنا چاہیے اور آب و ہوا کی لچک کو مضبوط کرنا چاہیے۔بنیادی طور پر،یہ ترجیحات کا سوال ہے،اور ایسا لگتا ہے کہ حقوق کو ایک طرف رکھا گیا ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں