بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 32.6°C
Thursday, 10 September 2026 | پاکستان: 29 ر بیع الاول 1448

جمہوریت کوماننے والے اسطرح احتجاج نہیں کرتے،چیف جسٹس عمرعطابندیال

Wednesday, 2 November, 2022

جمہوریت کوماننے والے اسطرح احتجاج نہیں کرتے،چیف جسٹس عمرعطابندیال کے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں ریمارکس مزیدکہا عدالت نے 25مئی کوتوازن پیدا کرنےکی کوشش کی تھی ایچ نائن سےآگےآنے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا،عدالت کویقین دہانی کراکربہانے نہیں کیےجاتے یہی وجہ ہے کہ 26مئی کےحکم میں کہاکہ اعتمادکوٹھیس پہنچائی گی،دووکلاء کے ذریعے عدالت کوگمراہ کیا گیا جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے عدالت نے پی ٹی آئی قیادت اورکارکنوں کوتحفظ دیا تھا عدالتی حکم کا غلط استعمال کیا گیا چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے توہین عدالت درخواست پرسماعت کی ، سابق صدرسپریم کورٹ باراحسن بھون بابراعوان اورفیصل چوہدری کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عمران خان ، بابراعوان ،فیصل چوہدری کے اور25 مئی کے عدالت حکم پر دلائل دیے بولے عمران خان نےجواب میں عدالتی حکم سےبھی لاعلمی کااظہارکیاہے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کونہیں بتایاگیاتھا کہ ہدایت کس سےلی گئی ہے،اگرکسی سے بات نہیں ہوئی تھی توعدالت کوکیوں نہیں بتایا گیا؟ عدالت نے بابراعوان اورفیصل چوہدری پراعتماد کیاتھا،دونوں نے کبھی نہیں کہاانہیں ہدایات نہیں ملی،یقین دہانی پی ٹی آئی اعلی قیادت کی جانب سےکرائی گی تھی،جس کاآغازعمران خان سےہوتاہے، وکیل احسن بھون نے موقف اپنایا کہ عدالت حکم پرحکومت نےوکلاء کی عمران خان سےملاقات کا بندوبست نہیں کیا چیف جسٹس نے کہاکہ وکلاء کا رابطہ نہیں ہواتویقین دہانی کس طرف سےکرائی؟کیا وکلاء کی کسی سینئرلیڈرسےبات نہیں ہوئی تھی،ٹیلی فونک رابطہ بھی نہیں تھا؟ فیصل چوہدری نے بتایاکہ بابراعوان اوراسدعمرسےرابطہ کرکے عدالتی کاروائی سےاگاہ کیا تھا ، چیف جسٹس نے کہا کہ تصاویرکے مطابق تواسد عمرریلی میں تھے،عدالتی حکم میڈیا پرپورے ملک میں نشرہوا تھا،زیادہ باریکیوں میں جانا آپ کیلئےنقصان دہ ہوگاکیا عدالت وکیل کی بات کااعتبارنہ کرے؟عدالت نے پی ٹی آئی کی یقین دہانی پرحکومت کوہدایت دی تھی وکلاء کوایچ نائن گراونڈ میں موجود ہوناچاہیے تھا،رات دس بجے تک توآگ لگ چکی تھی،کیاعدالت اب عمران خان پوچھےکےکیا ہواتھا؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ وکلاء نےقیادت سےرابطے کا انکار نہیں کیا واضح یقین دہانی پرعدالت نےوکلاء پراعتماد کیا تھا،جلسے کےمقام صرف ایچ نائن گروانڈ کا کہا تھا،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے گاڑی یا جہازنہ ہونا صرف بہانے ہیں اسد عمرسے دوسری مرتبہ رابطہ کیسےنہیں ہوسکتا تھا اپنا قلم آئین کیخلاف استعمال نہیں کرنا چاہتے،دس ہزاربندے بلاکر2لاکھ لوگوں کی زندگی اجیرن نہیں بنائی جاسکتی، عدالت نے عمران خان کو ہفتے تک تفصیلی جواب جمع کرانےکی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *