جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال حالیہ برسوں میں ایک نئی پیچیدگی اختیار کر چکی ہے۔ ایک طرف پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی رہی، تو دوسری طرف شمالی محاذ پر چین اور بھارت کے تعلقات بھی تنا ئوکا شکار رہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کو بیک وقت دو محاذوں پر دبائو کا سامنا کرنا پڑا جس نے اس کی عسکری حکمت عملی کو شدید چیلنج کر دیا۔جب بھارت مغربی سرحد پر پاکستان کے ساتھ عسکری محاذ آرائی میں الجھا ہوا تھا تو شمالی محاذ پر اس کی پوزیشن کمزور پڑ گئی۔ لداخ کے حساس علاقے دیپسانگ میں اس کی اسٹریٹجک پسپائی نے 900مربع کلومیٹر کا علاقہ چین کے حوالے کر دیا، جسے تجزیہ کار “خاموش ہتھیار ڈالنا” قرار دیتے ہیں۔ ڈیفنس سیکیورٹی ایشیا 2026 کی رپورٹس کے مطابق یہ قدم بھارت کی دو محاذی دبا کو سنبھالنے میں ناکامی کو عیاں کرتا ہے جس سے اس کی عالمی عسکری حیثیت مزید کمزور ہوئی۔رپورٹس کی روشنی میں معرکہ حق میں بھارت کو جہاں پاکستان سے شدید نقصان اٹھانا پڑا وہاں شمالی محاذ پر بھی واضح سٹریٹیجک شکست کا سامنا کرنا پڑا،دو محاذی دبا عسکری حکمت عملی میں ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ اگر کوئی ریاست بیک وقت دو مختلف سمتوں میں موثر دفاع نہ کر سکے تو اس کی مجموعی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے2025میں بھارت پہلی مرتبہ بیک وقت پاکستان اور چین دونوں کے ساتھ کشیدگی کا شکار ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی ریاست کے پاس اس وقت موثر لاجسٹکس، واضح کمانڈ سٹرکچر اور متوازن حکمت عملی کی کمی تھی، جس کی وجہ سے اس کی فوج دونوں محاذوں پر پسپائی پر مجبور ہوئی اور وسائل غیر موثر انداز میں تقسیم ہوئے جو ایک فیصلہ کن اسٹریٹیجک کمزوری ثابت ہوئی۔دو محازی دبائو ایک سٹریٹیجک تشویش ہے جس پر خود بھارتی عسکری ماہرین بھی بات کرتے رہے ہیں ۔ بھارت ایک بڑی علاقائی طاقت ہے مگر پاکستان نے 2025میں معرکہ حق بنیان المرصوص میں بھارت کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا تو اس کی کمزور عسکری پوزیشن واضع ہو گئی یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن مسلسل تبدیل ہو رہا ہے اور علاقے میں کشیدگی کے اثرات عالمی سطح تک محسوس کیے جاتے ہیں ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965 اور 1971 کی جنگیں، 1999 میں کارگل کی جھڑپیں، 2019میں بالاکوٹ ایئر سٹرائیکس ہوئیں مگر 2025کے معرکہ حق بنیان مرصوص کے دوران بھارت شمالی سرحد پر الجھا ہوا تھا جس کی وجہ سے بھارت کو دو محاذی دبا کا سامنا کرنا پڑتا ۔ مگر پاکستان کی مسلح افواج نے بھرپور حکمت عملی اور دفاعی مہارت کے ساتھ بھارت کو عبرتناک شکست دی، جس سے بھارت کی عسکری کمزوری عیاں ہوئی۔چین اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی طویل عرصے سے موجود ہے ۔ Galwan Valley Clash 2020 اور دیگر جھڑپیں اس بات کی علامت ہیں کہ سرحدی تنازعات ایک حقیقت ہیں، اور بھارت کی شمالی سرحد پر اسٹریٹجک کمزوری واضح رہی۔ دیپسانگ میں 900 مربع کلومیٹر کا علاقہ چین کے حوالے کرنا اس کا سب سے نمایاں ثبوت ہے، جو بھارت کیلئے ایک “خاموش ہتھیار ڈالنے”کے مترادف تھا۔پاکستان کی مسلح افواج نے 6 اور 7مئی 2025 کو بھارتی حملوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے اپنی خودمختاری اور دفاعی قابلیت کو ثابت کیا ۔ بھارتی ایئر بیسز، ہتھیاروں کے ذخائر اور دفاعی نظام کو نشانہ بنا کر پاکستان نے نہ صرف اپنے سرحدی دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی برقرار رکھا۔دو محاذی دبائو ایک حقیقی اسٹریٹجک ٹیسٹ ہے، معرکہ حق نے واضح کر دیا کہ بھارت اسے سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ پاکستان کی کامیابی نے اس کی دفاعی حکمت عملی کو ایک نئی مثال دی، اور یہ ثابت کیا کہ مضبوط قیادت، متوازن حکمت عملی اور بروقت کارروائی کسی بھی عسکری دبائو کو شکست دے سکتی ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں