بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.4°C
Wednesday, 22 July 2026 | پاکستان: 8 صفر 1448

نوسال قبل کلبھوشن یادیو کی گرفتاری

Monday, 3 March, 2025

یہ ٹھیک نو سال قبل 3 مارچ2016 کی بات ہے جب پاکستانی اور عالمی میڈیا پر یہ خبر فلش ہوئی کہ ایک انڈین حاضر سروس جاسوس بلوچستان سے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا ہے توبھارت میںمودی سرکار کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی،پہلے پہل اسے اپنا شہری ماننے سے انکار کر دیا مگر جونہی ناقابلِ تردید شواہد سامنے آئے تو مودی حکومت کی اکڑفوں نکل گئی اور اوراسے اپنا شہری قبول کر لیا ۔ بلوچستان سے گرفتار ہونےوالا جاسوس کلبھوشن کے نام سے معروف ہوا۔اس پر بھاارت نے بہت واویلا کیامگر اس کی ایک بنی اور پاکستان نے اس کا ملٹری ٹرائل کر کے سزائے موت سنادی۔
بھارت ہمیشہ سے دوسرے ممالک خاص کر پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کی سرپرستی میں پیش پیش رہتا ہے اور اس طرح کے گھناو ¿نے جرم کا منہ بولتا ثبوت کلبھوشن یادیو کی شکل میں دنیا کے سامنے ہے اور پاکستان کی قید میں ہے۔یہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیز کا ایک انتہائی پیشہ ورانہ صلاحیت کا بہت بڑا کارنامہ ہے،کیونکہ اس میں کلبھوشن کو دہشت گردی میں ملوث رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔ کلبھوشن سے جعلی دستاویزات اسپورٹ، آئی ڈی کارڈ وغیرہ برآمد کئے گئے تھے۔پھر ویڈیو پیغام میں کلبھوشن نے پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کی سرگرمیوں کا اعتراف بھی کیا۔ اس سے پہلے تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جہاں دہشت گردی میں کسی انٹیلی جنس ایجنسی کا حاضر سروس آفیسر کسی اور ملک میں رنگے ہاتھ پکڑا گیا ہو۔پاکستان فوج اور پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیز نے دن رات محنت کرکے کلبھوشن کو گرفتار کیا تھا جو ایک کامیاب کاونٹر ٹررزم آپریشن تھا جو دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ پاکستان انٹیلی جنس ایجنسیز کا یہ کامیاب کاونٹر ٹررزم آپریشن دنیا بھر کے نامور انٹیلی جنس سکولوں کے نصاب کا حصہ بنے گا ۔ کلبھوشن نے یہ انکشاف کیا کہ اسکے رابطے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اور بھارتی سلامتی امور کے مشیر اجیت دوول سے تھے۔ وہ براہ راست پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے سے متعلق احکامات اجیت دوول سے لیتا تھا۔یقینا یہ سب کچھ پاکستان کی مایہ نازخفیہ ایجنسی کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے جس نے سر عام دنیا کے سامنے بھارت کے ناپاک عزائم بے نقاب کئے اور اس کی خفیہ ایجنسی ”را“ کے افسروں کی کارکردگی پر کئی سوال کھڑے کر دیئے۔اس واقعہ نے یہ بات بھی واضح کی کہ بھارتی جاسوسوں کی پیش ورانہ مہارت صرف بالی وڈ کی فلموں تک ہی محدود ہے۔کلبھوشن یادیو کو نہ صرف پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی نے پاکستانی سر زمین پر رنگے ہاتھوں پکڑا بلکہ اسکا پھیلایا گیا دہشت گردی کا تمام نیٹ ورک بھی پکڑ لیا جو معصوم پاکستانیوں کی جانوں کے درپے میں تھا، اسکے تمام گھناو ¿نے عزائم اسکے سامنے رکھے جو اس نے من و عن تسلیم کر لئے ۔ پاکستان کی تاریخ میں اس کاونٹر ٹررزم آپریشن کو تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیز نے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بے شک دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسیز میں سے ہیں اور انہوں نے ہر محاذ پر اپنا لوہا منوایا ہے ۔ کلبھوشن کی تفتیش کی بنیاد پر متعدد گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں جن سے بلوچستان میں ہونےوالی دہشت گردی پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ کلبھوشن کی نشاندہی پر متعدد بھارتی ایجنٹ اور انکے رابطہ کار بھی پاکستانی نٹیلی جنس ایجنسیز کے دائرے میں پھنس کرگرفتار کئے جا چکے ہیں ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم سے عالمی توجہ ہٹانے کی خاطر اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کو سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ بھارت کے مذموم عزائم آشکار کرنے پر پاکستان اور بالخصوص پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی ۔ بھارت ہمیشہ اس بدنما داغ کو اپنے ہاتھوں دھوتا رہے گا۔لہٰذا امید کی جا سکتی ہے کہ بھارت کسی دوسرے ملک میں دہشتگردی سے پہلے ہزار مرتبہ ضرور سوچے گا۔اسکے برعکس پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو اسکی ماں اور اسکی بیوی سے انسانی ہمدردی کی بنا پر ملوانے کا احتمام کیا جبکہ کلبھوشن ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کے قتل میں ملوث رہاہے۔ حیرت اس امر پر ہے کہ بھارت اس بدنما داغ چہرے کے ساتھ بھی اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی مستقل ممبرشپ چاہتا ہے مگر وہ خود دوسرے ممالک میں دہشت گردی کا مرتکب ہے لہٰذا ایسے میں وہ کسی بھی قسم کے عہدے کے قابل ہر گز نہیں ہے ،یہ بات اقوام متحدہ کی انتظامیہ کےلئے سوالیہ نشان ہے بھارت اس کا حق دار ہے یا نہیں ۔ بھارت کو چاہئے کہ اس بڑے عہدے لئے بھارت دنیا کے سامنے اپنا امن پسند ہونے کا ڈھونگ چھوڑ دے۔ دوسرے ملکوں میں دہشتگردی پھیلانےوالا بھارت امن پسند کیسے ہوسکتا ہے؟

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *