آج جب ہم پاکستان کے حال اور مستقبل پر غور کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ پہلے اپنے ماضی کو آئینی تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے۔ 14 اگست 1947 سے یکم مارچ 1956 تک گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کو عبوری آئینی بنیاد کے طور پر استعمال کیا گیا۔ 12 مارچ 1949 کو قراردادِ مقاصد منظور ہوئی تو پہلی دستور ساز اسمبلی اکتوبر 1954 میں تحلیل کردی گئی اور پھر دوسری دستور ساز اسمبلی نے بالآخر 29 فروری 1956 کو پاکستان کا پہلا آئین منظور کیا۔ یہ آئین 23 مارچ 1956 کو نافذ ہوا۔ یہ جمہوریت کا 1956 کا آئین پارلیمانی نظام پر مبنی تھاپاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دیا گیا اور ایک ایوان پارلیمنٹ قائم کی گئی۔جس میں وزیر اعظم حکومت کا سربراہ اور صدر مملکت سربراہِ ریاست ہو گا لیکن بدقسمتی سے یہ آئین زیادہ دیر نہ چل سکا۔7 اکتوبر1958 کو مارشل لا لگا کر آئین منسوخ کر کے اسمبلیاں توڑ دی گئیں۔یعنی سیاسی اختلافات کا حل آئینی اور جمہوری طریقے سے نکالنے کے بجائے غیر آئینی مداخلت کے ذریعے راستہ تلاش کیا گیا ۔ پھر 1958 کے بعد 1962 بنا۔ اس میں پارلیمانی نظام کے بجائے صدارتی نظام اختیار کیا گیا اور ایک ایوان مقننہ قائم ہوئی۔ لیکن 1969 میں یہ آئین بھی ختم ہوگیا۔ یہاں پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک بنیادی سبق سامنے آتا ہے کہ مسئلہ صرف آئین کا نہیں ہوتا، اصل مسئلہ آئین پر عمل کرنے والی سیاسی اور ریاستی قوتوں کا ہوتا ہے۔ آئین پارلیمانی ہو یا صدارتی، اگر ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام نہ کریں تو کوئی بھی آئینی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کی آئینی تاریخ میں 1971 ایک ایسا باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا1970 کے الیکشن پاکستان کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات تھے لیکن سیاسی اختلافات، اقتدار کی منتقلی کے بحران اور مشرقی ومغربی پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے نے ملک کو ایک عظیم سانحے سے دوچار کردیا۔پھر مشرقی پاکستان الگ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔اس سانحے کا ایک آئینی سبق یہ ملا کہ وفاق کا نظام صرف طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، مساوات کی نمائندگی اور اعتماد سے قائم رہتا ہے جبکہ1971 کے سانحہ کے بعد پاکستان کا ایک نیا آغاز ہوتا ہے۔ پھر 1972 میں عبوری آئین بنااور مستقل آئین تیار کرنے کیلئے آئینی کمیٹی قائم ہوئی اور 10 اپریل 1973 کو آئین منظور ہوا، 12 اپریل کو اس کی توثیق ہوئی اور 14 اگست 1973 کو یہ موجودہ آئین نافذ ہوگیا۔ 1973 کا آئین پارلیمانی نظام، دو ایوانی پارلیمنٹ اور وفاقی ڈھانچے پر مبنی تھا۔ قومی اسمبلی عوام کی آبادی کی بنیاد پر نمائندگی کرے گی جبکہ سینیٹ وفاق کی اکائیوں کو مساوی نمائندگی فراہم کرنے کے تصور کے تحت قائم کیا گیا۔بات سوچنے کی یہ ہے کہ 1973 کا آئین اتنے وسیع اتفاقِ رائے سے بنا تھا تو پھر پاکستان میں آئینی بحران ختم کیوں نہ ہوا ؟ اس کا جواب ہماری سیاسی تاریخ میں ہی پوشیدہ ہے کہاجاتا ہے کہ پاکستان میں سیاست دان سیاسی جماعتیں خود وجود میں نہیں اتی رہیں بلکہ انہیں ادارے بناتے رہے الیکشن نہیں سلیکشن سے نظام چلاتے رہے جس کی وجہ سے 1977 میں سیاسی بحران پیدا ہوا، انتخابات کے نتائج متنازع ہوئے اور بالآخر 5جولائی 1977 کومارشل لا لگا اور آئین معطل ہو گر پارلیمنٹ ختم ۔ اس طرح سیاسی نظام کو غیر آئینی طریقے سے تبدیل کر دیا گیا۔ یہ روایت بعد کے ادوار میں مختلف شکلوں میں سامنے آتی رہی۔اصل بحران آئین کا نہیں، آئین شکنی کا رہا ہے۔ پاکستان میں آئینی بحث اکثر اس سوال تک محدود رہتی ہے کہ پارلیمانی نظام بہتر ہے یا صدارتی نظام، مرکز مضبوط ہونا چاہیے یا صوبے، کتنی ترامیم ہونی چاہئیں یا کون سی شق تبدیل ہونی چاہیے لیکن اصل سوال شاید اس سے بھی بنیادی یہ ہے کہ کیا ہم آئین کو واقعی سب سے بالاتر قانون تسلیم کرتے ہیں ؟ اگر آئین موجود ہو لیکن طاقتور شخص یا ادارہ آئین سے بالاتر سمجھا جائے تو آئین کتاب میں تو زندہ رہتا ہے، مگر عملی زندگی میں نہیں رہتا۔ پاکستان کی تاریخ میں آئین بننے سے زیادہ مشکل کام آئین پرمسلسل عمل درآمد رہا ہے۔ آج کا پاکستان ایک ایسے دور میں داخل ہوچکا ہے جہاں آئینی معاملات پہلے سے زیادہ پیچید ہیں پارلیمنٹ ، عدلیہ،انتظامیہ صوبائی خودمختاری، وفاقی اختیارات، انتخابی نظام، بنیادی حقوق اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم مسلسل بحث کا موضوع ہیں۔ 1973 کا آئین کئی ترامیم سے گزر چکا ہے۔ آئینی ترمیم اور آئینی استحکام دو الگ چیزیں ہیں۔ ترمیم کا مقصد اگر نظام کو بہتر بنانا اداروں کی حدود واضح کرنا عوام کے حقوق مضبوط کرنا اور وفاق کو مستحکم کرنا ہو تو یہ مثبت عمل ہے لیکن اگر آئینی ترمیم وقتی سیاسی ضرورت یا کسی فرد، جماعت یا ادارے کے مفاد کیلئے کی جائے تو آئین کی روح کمزور ہو جاتی ہے۔پاکستان کا مستقبل اس بات سے طے نہیں ہوگا کہ اگلی حکومت کون بناتی ہے۔ اصل فیصلہ اس بات سے ہوگا آئین کی بالادستی کتنی مضبوط ہوتی ہے ۔ ہمیں مستقبل کے پاکستان کیلئے چند بنیادی اصول طے کرنا ہوں گے۔وہ یہ ہیں۔ نمبر1 پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حقیقی مرکز بنایا جائے ۔ نمبر 2 عدلیہ مکمل آزادی کے ساتھ مگر آئینی حدود کے اندر کام کرے۔ نمبر 3.انتظامیہ قانون اور آئین کی پابند ہو۔ نمبر 4.انتخابات آزاد، شفاف اور قابلِ اعتماد ہوں تاکہ حکومتوں کو حقیقی عوامی مینڈیٹ حاصل ہو۔ نمبر 5وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے۔نمبر6آئین کی تشریح سیاسی ضرورت کے بجائے آئینی اصولوں کی بنیاد پر کی جائے۔نمبر 7کسی بھی ریاستی ادارے کو آئین سے بالاتر نہ سمجھا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آئین میں تبدیلی کا راستہ آئین ہی کے اندر سے اختیار کیا جائے۔ماضی سے ہمیں سیکھنا ہو گا کہ ہم نے 1956 کا آئین اور 1962 کا آئین بنایا، اسے ختم ہوتے دیکھا، پھر 1973 کا آئین بنایا جو آج تک ریاستی نظام کی بنیادی دستاویز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1973 کا آئین محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ پاکستان کے سیاسی وجود کا ایک اہم معاہدہ ہیاس میں تبدیلی کی گنجائش ضرور ہے آئین معاشرے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ ارتقا پذیر ہوتے ہیں لیکن تبدیلی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں فرق ہے۔ پاکستان کے سامنے آج اصل انتخاب یہی ہے کہ ہم کیا ایک ایسا پاکستان بنا سکتے ہیں جہاں حکومتیں بدلیں مگر آئین قائم رہے، پارلیمنٹ تبدیل ہو مگر پارلیمانی نظام قائم رہے، ججز تبدیل ہوں مگر عدلیہ کی آزادی قائم رہے، جرنیل تبدیل ہوں مگر ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں، اور سیاسی جماعتیں اقتدار میں آئیں اور جائیں مگر ریاست کا نظام مستقل رہے یا پھر ہم ماضی کی طرح ہر بحران کا حل آئینی نظام کو تبدیل کرکے تلاش کرتے رہیں گے۔پاکستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں افراد سے بڑی اور آئین حکومتوں سے بڑا ہوتا ہے۔آج ہمیں کسی نئے آئین سے زیادہ آئین پر عمل کرنیوالی سیاسی ثقافت کی ضرورت ہے۔پاکستان کا مستقبل کسی ایک فرد، جماعت یا ادارے کے ہاتھ میں نہ ہو۔اس کا مستقبل اس بات میں ہے کہ ہم آئین کو واقعی وہ مقام دیتے ہیں یا نہیں ، جس کا تقاضا ایک جمہوری ریاست ہم سے کرتی ہے۔پاکستان کا ماضی ہمیں خبردار کرتا ہے، حال ہمیں آزما رہا ہے اور مستقبل ہمیں پکار رہا ہے۔اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ آنیوالی نسلوں کو ہم ایک ایسا پاکستان دیں جہاں آئین صرف کتاب میں نہ ہو بلکہ ریاست، حکومت، عدالت اور معاشرے کی عملی زندگی میں بھی زندہ ملے۔ ہم سب کا ایک ہی نعرہ ہونا چاہیے آئین کو عزت دو۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں