بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 21.5°C
Thursday, 08 October 2026 | پاکستان: 27 ر بیع الثانی 1448

آئی ایم ایف پروگرام

Thursday, 8 October, 2026

اطلاعات کے مطابق،آئی ایم ایف کا دورہ کرنے والا وفد 7 ارب ڈالر کی جاری ‘ایکسٹینڈڈ فنڈ سہولت’ کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کی’لچک اور پائیداری کی سہولت’ کے تیسرے جائزے پر عملے کی سطح کے معاہدے تک پہنچ جائے گا۔فنڈ بورڈ کی منظوری کے بعد اس کے نتیجے میں 1.2 ارب ڈالر کی رقم جاری ہوگی؛یہ اجرا پاکستانی روپے کی بیرونی قدر کو سہارا دینے،زرمبادلہ کے ذخائر کو کم از کم تین ماہ کی درآمدات کے برابر رکھنے اور دو دوست ممالک سعودی عرب اور چین کی جانب سے قرضوں کی تجدید کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے ۔یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ فنڈ کی جانب سے اگلی اقساط کے اجرا کے لیے کوئی نئی پیشگی،وقت کی قید والی یا ساختی شرائط تجویز نہیں کی گئیں۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت فنڈ کی ان ہدایات سے انحراف نہیں کر رہی جنہیں عام عوام کے لیے سخت سمجھا جاتا ہے خاص طور پر وہ ہدایات جن کا تعلق یوٹیلیٹی کمپنیوں کی لاگت کی مکمل وصولی کے لیے ٹیرف میں اضافے،اور سخت مالیاتی و بجٹی پالیسیوں سے ہے،جن کے معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ان سخت شرائط کا مقصد افراطِ زر کی شرح کو قابو میں رکھنا تھا؛تاہم،مشرقِ وسطی میں جاری تنازعے نے ان کی افادیت کو شدید متاثر کیا ہے۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ موجودہ کیلنڈر سال کے آغاز میں کی گئی پیش گوئی کے مقابلے میں افراطِ زر کی بلند شرح عالمی سطح پر بھی نمایاں ہے،اور جب تک یہ تنازع حل نہیں ہوتا،عام عوام کو اس صورتحال سے ریلیف ملنے کا امکان بہت کم ہے۔بہرحال،جب تک عملے کی سطح پر طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات پر مبنی دستاویز آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں ہو جاتی ایک ایسا عمل جس میں اوسطا کم از کم ایک ماہ لگتا ہے اس وقت تک حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا تمام شرائط بغیر کسی استثنا کے پوری کی گئی ہیں یا یہ کہ کسی نئی شرط پر اتفاق نہیں کیا گیا۔مزید برآں، یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا آئی ایم ایف کی ٹیم نے مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں میں نرمی کی منظوری دی ہے یا نہیں۔ایسی نرمی ان بار بار کیے گئے عوامی وعدوں کو پورا کرنے کے لیے ایک لازمی شرط ہے جو وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب دونوں نے کیے ہیں:کہ معاشی استحکام کے حصول کے بعد،حکومت ترقی دوست پالیسیوں کا آغاز کرے گی تاکہ روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکیں اور غربت کی بلند شرح کو کم کیا جا سکے،جس کا تخمینہ عالمی بینک نے فی الحال 44.7 فیصد لگایا ہے۔اگر آئی ایم ایف کی ٹیم مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں میں نرمی کی اجازت نہیں دیتی، تو حکومت کے پاس واحد راستہ یہی رہ جاتا ہے کہ وہ اپنے جاری اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کرے۔اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ اخراجات کم کرنے کے حوالے سے وزارتِ خزانہ کی صلاحیت بڑی حد تک ‘پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام’ میں کٹوتی تک محدود ہے؛یہ پروگرام کل اخراجات کا محض 5 فیصد ہے اور مالی سال کے اختتام تک اس کا حجم کم ہو کر 3 فیصد سے بھی نیچے آ سکتا ہے یہاں تک کہ یہ ‘بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام’ کیلئے مختص 4 فیصد رقم سے بھی کم ہو سکتا ہے۔ہماری وزارتِ خزانہ جن اخراجات کے حوالے سے بجٹ میں کوئی ردوبدل نہیں کر پاتی،وہ یہ ہیں:قرضوں کی ادائیگی یعنی مجموعی طور پر 85 سے 86 فیصد اخراجات۔اگر اس میں خراب کارکردگی کی حامل سرکاری ملکیتی کمپنیوں کو سہارا دینے پر اٹھنے والے اخراجات کو بھی شامل کر لیا جائے، تو ایک ناقد یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ وزارتِ خزانہ کے پاس رقوم مختص کرنے اور پھر انہیں عملی طور پر جاری کرنے کا اختیار صرف(پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام)تک ہی محدود ہے ایک ایسا اختیار جسے وہ ہر سال بے دریغ استعمال کرتی ہے،لیکن خاص طور پر آئی ایم ایف پروگرام کے دوران اپنے خسارے کو قابلِ برداشت سطح پر رکھنے کیلئے ۔ موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے محض ظاہری اصلاحات نہیں بلکہ ایک تکلیف دہ بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہوگی؛دوسرے لفظوں میں، حکومت کو قرضوں کا حجم اس حد تک محدود کرنا ہوگا کہ ہر سال قرضوں کے بہا اور مجموعی ذخیرے میں کمی آئے،اور ساتھ ہی موجودہ اخراجات سے مستفید ہونے والے بڑے اداروں یا طبقات سے کم از کم تین سال کیلئے رضاکارانہ قربانی دینے کا مطالبہ کیا جائے،کیونکہ صرف اسی صورت میں ‘جامع ترقی’ کا حصول ممکن ہو سکے گا جو کہ وزیراعظم اور وزیر خزانہ کا بنیادی ہدف ہے۔
سعودی عرب میں فوج کی تعیناتی
اس تصدیق کے ساتھ کہ ‘مکہ ڈیفنس الائنس’ کے ارکان سعودی عرب میں اپنی افواج تعینات کریں گے،ایسا لگتا ہے کہ مملکت ایران نواز حوثی ‘انصار اللہ’ تحریک کے ساتھ مکمل جنگ کی تیاری کر رہی ہے۔ سعودی عرب،پاکستان اور ترکی کے اعلی سول اور عسکری رہنماں نے پیر کو ریاض میں ملاقات کی تاکہ مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے۔اگرچہ تفصیلات کم ہیں، لیکن تینوں دفاعی اتحادیوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ”مملکت میں فوری تعیناتی کو یقینی بنایا جائے گا،جو فریقین کے قومی قوانین کے مطابق ہو۔” چونکہ اجتماعی دفاع اس سہ فریقی اتحاد کا مرکزی ستون ہے،اس لیے ایسے اقدامات متوقع تھے۔ایم ڈی اے کے ارکان نے سعودی عرب پر حملوں،خاص طور پر حجاز کے مقدس شہروں کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوششوں کی بھی مذمت کی۔امید کی جاتی ہے کہ پاکستان کے نقطہ نظر سے، یہ پیش رفت صرف بیرونی جارحیت سے سعودی عرب کے دفاع کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔پاکستان، ترکی یا کسی بھی دوسرے بیرونی فریق کے لیے یمن کے دلدل میں کودنا دانشمندی نہیں ہوگی۔مملکت کے ساتھ پاکستان کے دہائیوں پرانے دفاعی تعلقات ہیں،اور یہ معاہدہ صرف اس تعلق کو مزید مستحکم کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔مقدس شہروں کا دفاع بھی ایک حساس معاملہ ہے، اور پاکستان ماضی میں ان کے تحفظ کے لیے فوج فراہم کر چکا ہے۔لیکن یمن کی خانہ جنگی میں الجھ جانا جس میں ایک طرف انصار اللہ ہے اور دوسری طرف سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت ایک بالکل مختلف معاملہ ہے۔ 2015 میں ریاض کی جانب سے پاکستان پر حوثیوں کے خلاف آپریشن میں شامل ہونے کے لیے کافی دبا ڈالا گیا تھا۔پارلیمنٹ کی اجتماعی بصیرت کی بدولت،پاکستان اس وقت دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے کسی بھی اقدام سے دور رہا تھا۔اس موڑ پر بھی اسی طرح کی دانشمندی کی ضرورت ہے ۔ یہ ملک سعودی عرب کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے،اور اسے بیرونی جارحیت سے بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔لیکن یمن میں زمینی فوج بھیجنے سے گریز کیا جانا چاہیے ۔یمن میں انصار اللہ اور حکومت کے درمیان، نیز حوثیوں اور سعودی عرب کے مابین لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔اس مرحلے پر جنگ بندی کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں۔ یہ تنازع 2015 سے جاری ہے اور امریکہ اور اسرائیل سمیت بیرونی طاقتوں کے گزشتہ حملے بھی حوثیوں کو ہٹانے میں ناکام رہے ہیں۔ یمن کے اندر ایک نئے انسانی المیے اور اس تنازع کے پورے خطے میں پھیلنے سے روکنے کے لیے،دشمنی کا خاتمہ فوری طور پر ضروری ہے۔عمان جیسے ممالک،جن کے حوثیوں اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ رابطے بحال ہیں،شاید ثالثی کا کردار ادا کر سکیں۔جنگ بندی کی بنیادی شرائط میں سعودی عرب پر تمام حملوں کا خاتمہ،باب المندب سے بلا رکاوٹ آمدورفت،اور یمن پر تمام بیرونی حملوں کا رکنا شامل ہونا چاہیے۔صرف یمنی عوام کی قیادت میں چلنے والا اور ملک کے تمام دھڑوں کے لیے قابلِ قبول سیاسی عمل ہی اندرونی امن لا سکتا ہے اور پڑوسی ممالک کی سلامتی کی ضمانت بھی دے سکتا ہے۔
وقارکی علامت
اولمپکس ان چند مواقع میں سے ایک ہیں جب دنیا واقعی یکجا ہوتی ہے۔فٹ بال ورلڈ کپ کے علاوہ شاید ہی کوئی ایسا تقریب ہو جو اتنی عالمی توجہ حاصل کرتی ہو۔اقوام کو ایک ہی میدان میں اکٹھا کرتی ہو اور مقابلے کو بین الاقوامی ہم آہنگی کے وسیع تر جذبے کے تحت پیش کرتی ہو ۔ 2036 کے سمر اولمپکس کی میزبانی میں بھارت، قطر، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک کی بڑھتی ہوئی دلچسپی قابلِ فہم ہے۔’گلوبل ساتھ کے ممالک کیلئے یہ موقع انتہائی علامتی اہمیت کا حامل ہے ۔ یہ عالمی سطح پر موجودگی کے احساس،صلاحیت اور وقار کی علامت ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *