بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 25°C
Saturday, 08 August 2026 | پاکستان: 25 صفر 1448

آخر کب تک؟

Saturday, 8 August, 2026

کشمیر ایک بار پھر انتخابی موسم سے گزر رہا ہے۔ جلسے جلوس ہیں، وعدوں کی برسات ہے، الزامات کی گرد بھی اڑ رہی ہے اور اقتدار کی کشمکش اپنے عروج پر ہے لیکن ان تمام نعروں، تقریروں اور سیاسی جوڑ توڑ کے درمیان ایک سوال آج بھی پہاڑوں سے ٹکرا کر گونج رہا ہے۔ آخر کب تک؟ یہ سوال کسی ایک جماعت سے نہیں، کسی ایک حکومت سے نہیں اور کسی ایک ادارے سے بھی نہیں۔ یہ سوال پوری سیاسی قیادت، ریاستی نظم، اور خود عوام کے اجتماعی شعور سے ہے۔ کشمیر کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کے لوگوں نے قربانیوں کی قیمت پر اپنی شناخت کو زندہ رکھا ہے۔ 1947 کی ہجرتوں سے لے کر جنگوں، لائن آف کنٹرول کی گولہ باری، زلزلے، قدرتی آفات اور سیاسی اتار چڑھاؤ تک کشمیری عوام نے ہر آزمائش کو برداشت کیا۔ لیکن ایک حقیقت بھی اتنی ہی تلخ ہے کہ ان قربانیوں کا صلہ وہ ترقی، خوشحالی اور مستحکم طرز حکمرانی نہ بن سکا جسکے وہ حقدار تھے۔ بدقسمتی سے حالیہ عرصہ اس تلخی میں مزید اضافہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مختلف علاقوں میں ہونے والے احتجاج، سڑکوں پر نکلنے والے عوامی مظاہرے، اور سیاسی و انتظامی فیصلوں کیخلاف بڑھتی ہوئی بے چینی نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ان احتجاجوں کے دوران متعدد افراد کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات نے نہ صرف گھروں میں کہرام برپا کیا بلکہ پورے معاشرے میں ایک گہرا اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ ہر نئی خبر کے ساتھ فضا میں سوال اور بھی بھاری ہوتا جا رہا ہے کہ آخر یہ سلسلہ کب رکے گا؟ ہر انتخاب سے پہلے عوام کو بتایا جاتا ہے کہ اب کی بار سب کچھ بدل جائے گا۔ سڑکیں بنیں گی، اسپتال جدید ہوں گے، نوجوانوں کو روزگار ملے گا، میرٹ بحال ہوگا، سیاحت فروغ پائے گی، ادارے مضبوط ہوں گے اور کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔ مگر انتخابات کے چند ماہ بعد یہی عوام بجلی، پانی، مہنگائی، بے روزگاری اور سفارش کے اسی پرانے چکر میں پھنسے نظر آتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کون جیتا؟ بلکہ یہ ہے کہ جیتنے والا عوام کے لیے کیا کرے گا؟ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ اعتماد کی ایک امانت ہے۔ اگر عوام ہر پانچ سال بعد صرف چہرے بدلتے رہیں اور نظام وہی رہے تو انتخابات محض ایک رسم بن کر رہ جاتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری سیاست میں نظریات کم اور شخصیات زیادہ زیر بحث رہتی ہیں۔ منشور کم پڑھے جاتے ہیں، مخالفین پر حملے زیادہ کیے جاتے ہیں۔ عوامی مسائل پر سنجیدہ مکالمہ کم اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ یہ رجحان کسی ایک جماعت تک محدود نہیں بلکہ تقریباً پوری سیاسی فضا کا حصہ بن چکا ہے۔ آزاد کشمیر کو اگر واقعی ایک مثالی انتظامی اکائی بنانا ہے تو سب سے پہلے اداروں کو سیاست سے بالاتر کرنا ہوگا۔ میرٹ کو سفارش پر، قانون کو تعلقات پر اور خدمت کو اقتدار پر ترجیح دینا ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جو ریاستوں کو مضبوط بناتا ہے۔ یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ کشمیر کا بنیادی مسئلہ صرف داخلی سیاست نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی تنازع بھی ہے۔ دنیا نے کئی بار کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی بات سنی، متعدد قراردادیں منظور ہوئیں، سفارتی بیانات آئے، لیکن عملی پیش رفت آج بھی محدود ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کشمیری اپنی داخلی اصلاحات کو نظر انداز کر دیں۔ مضبوط داخلی نظام ہی کسی بھی قومی مقف کو زیادہ معتبر بناتا ہے۔ دنیا کی کامیاب ریاستوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پہلے اپنے ادارے مضبوط کیے، انصاف کو یقینی بنایا، تعلیم اور معیشت کو ترجیح دی، پھر عالمی سطح پر اپنا وزن منوایا۔ صرف جذبات سے قومیں نہیں بنتیں، کردار، دیانت اور مستقل مزاجی بھی درکار ہوتی ہے۔ آج کشمیر کا نوجوان صرف سیاسی نعروں سے مطمئن نہیں۔ وہ بہتر تعلیم، ڈیجیٹل مواقع، سرمایہ کاری، شفاف بھرتیوں اور باوقار روزگار کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اگر اس کی توانائی کو مثبت سمت نہ دی گئی تو مایوسی سماجی بے چینی کو جنم دے سکتی ہے۔ حکومت جو بھی بنے، اسے سب سے پہلے یہ احساس ہونا چاہیے کہ اقتدار جشن نہیں بلکہ امتحان ہے۔ اپوزیشن کو بھی سمجھنا ہوگا کہ تنقید کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے، محض مخالفت نہیں۔ اگر حکومت ہر اختلاف کو دشمنی سمجھے اور اپوزیشن ہر فیصلے کو ناکام ثابت کرنے پر تل جائے تو نقصان صرف عوام کا ہوتا ہے۔ صحافت کی ذمہ داری بھی معمولی نہیں۔ میڈیا اگر صرف سنسنی، افواہوں اور سیاسی تقسیم کو فروغ دے گا تو معاشرہ مزید انتشار کا شکار ہوگا۔ صحافت کا اصل فرض اقتدار سے سوال کرنا، عوام کی آواز بننا اور حقائق کو دیانت داری سے سامنے لانا ہے، نہ کہ کسی سیاسی خیمے کا ترجمان بن جانا۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ احتساب صرف سیاست دانوں کا نہیں ہونا چاہیے۔ ہر وہ شخص جو عوامی وسائل، اختیار یا ذمہ داری کا حامل ہے، اسے جواب دہ ہونا چاہیے۔ انصاف جب سب کیلئے یکساں ہوگا تو عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ کشمیر کے مستقبل کا انحصار صرف اسمبلی کی نشستوں کی تقسیم پر نہیں بلکہ اس سوچ پر ہے کہ کیا ہم آنے والی نسلوں کیلئے ایک مضبوط، باوقار اور خوددار معاشرہ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ آج بھی وقت ہے کہ سیاست کو خدمت بنایا جائے، اختلاف کو دشمنی نہ بنایا جائے، اور اقتدار کو ذاتی کامیابی کے بجائے قومی ذمہ داری سمجھا جائے۔ کشمیر نے بہت انتظار کیا ہے۔ اس کے عوام نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ اب انہیں نعروں سے زیادہ نتائج چاہییں، وعدوں سے زیادہ عمل چاہیے، اور تقریروں سے زیادہ کردار چاہیے۔ میرا یقین ہے کہ اگر سیاست دیانت، قانون کی حکمرانی، شفاف احتساب اور عوامی خدمت کے اصولوں پر استوار ہو جائے تو “آخر کب تک؟کا سوال خود بخود اپنی اہمیت کھو دے گا۔ لیکن اگر ہم نے ماضی کی غلطیوں کو ہی مستقبل کا راستہ بنا لیا تو آنے والی نسلیں بھی یہی سوال دہراتی رہیں گی۔ تاریخ قوموں کو صرف اس بات پر یاد نہیں رکھتی کہ انہوں نے کتنے انتخابات کرائے، بلکہ اس بات پر یاد رکھتی ہے کہ انہوں نے عوام کیساتھ کیے گئے وعدوں کو کس حد تک نبھایا۔ کشمیر کی سیاست کے سامنے بھی آج یہی امتحان ہے۔ اقتدار حاصل کرنا کامیابی نہیں، عوام کا اعتماد برقرار رکھنا اصل کامیابی ہے۔ اور جب تک سیاست کا مرکز عوام کے بجائے اقتدار رہے گا، تب تک ہر انتخاب کے بعد یہی سوال زندہ رہے گا….. آخر کب تک؟

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *