بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 30.5°C
Friday, 18 September 2026 | پاکستان: 7 ر بیع الثانی 1448

ابراہم اکارڈ کا جال مکہ معاہدہ اور یمنی باغی

Friday, 18 September, 2026

حرمین پر حملے کی فوٹیج سے روح کانپ اٹھی اگر یہ حملہ حوثیوں کی جانب سے تھا تو انہوں نے اپنی بربادی کا سامان خود ہی کر لیا اور اگر یہ کسی اور اسپائلر کی جسارت تھی تو امت مسلمہ کی غیرت کا امتحان۔ اس بات کے راوی معروف تجزیہ نگار مشاہد حسین سید کہ” سال تھا 1984 کا کہ جب امریکی صدر بش سینئر کی جانب سے اس وقت صدر جنرل ضیا الحق پر ایران کے خلاف محاذ کھولنے کا دباو تھا مگر پاکستان برادر ملک ایران کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی امریکی خواہش پوری کرنے سے انکاری رہا ” یہی وجہ رہی کہ سابق رہبر سید علی خامنہ ای جنرل ضیا الحق کے کردار کے ہمیشہ معترف رہے۔ مگر بعض اوقات ممالک کے مفادات مشکل وقت میں نبھانے والوں کے بھی سامنے لا کھڑا کر دیتے ہیں۔ یمن کے انصار اور سعودی عرب تازہ مثالیں۔ ماضی قریب تک انصار اللہ اور امریکہ ایک دوسرے سے برسر پیکار رہے مگر آج دونوں غیر اعلانیہ حلیف۔ متحدہ عرب کے وزیر اعظم اور صدر پزشکیان کی برکس اجلاس میں آنکھیں چار ہوئیں برف پگھلی اور خیر سگالی کے جذبات دیکھنے کو ملے مگر سوال کہ تجدید تعلق کس قیمت پر ؟ جبکہ سعودی عرب کہ جس نے باوجود امریکی دبا کے، ایران کے خلاف اپنی سرزمیں استعمال کی اجازت دی اورنہ بالواسطہ جنگ کا حصہ بنا۔ امن کے لیے پاکستانی کوششوں میں پیش پیش رہا مگر پھر بھی کچھ حد تک سہی ایران کے زیر اثر حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے۔!۔ سعودی عرب پرابراہم اکارڈ کیلیے متعدد جال پھینکے گئے اور پرکشش وعدے بھی مگر انکار نے اسے بے مقصد جنگ میں الجھا دیا جبکہ مکہ معائدہ بھی ابراہم اکارڈ کے سہولت کاروں اور اسرائیل کو ہضم نہیں یہی وجہ ٹھہری کہ
باب المندب سے سعودی ٹینکرز بند۔
اس حقیت سے پاکستان اور شائد سعودی عرب بھی لاعلم نہ ہوں گے کہ مسلم ممالک کو اتحاد اور ابراھم اکارڈ میں عدم شمولیت کی کچھ نہ کچھ قیمت ادا کرنا ہو گی۔ بلوچستان اور KP میں دہشت گردوں کی تیز ہوتی سرگرمیاں تو اب سعودی سرزمین پر حوثی حملے اسی سلسلہ کی کڑی۔ مگر ابھی تک پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ جنگ کے پھیلاو کو روکنے کیلئے تحمل، برداشت اور تدبر کی راہ اختیار کیے ہیں کہ اسرائیل کی گہری چالوں کو سمجھنا مشکل اور ناکام بنانا بھی پیچیدہ۔محمد بن سلمان نے مسلم ممالک کے اتحاد کو وسیع، براہ راست جنگ سے بچنے اور انصار اللہ پر سفارتی و اخلاقی دباو کیلئے دورہ مصر بھی کیا اور دیگر مسلم ممالک سے روابط بھی تیز۔ جبکہ عمان میں ایران خلیجی ممالک اجلاس کے التوا نے ایران اور دیگر پراکسیز کو سعودی عرب کے خلیجی ممالک پر اثر رسوخ واضح کر دیا اب تو عالمی برادری بھی باب المندب کی بندش کو قبول کرنے کو تیار نہیں کہ اس طرح سمندری پانیوں میں کسی بھی وقت کسی بھی شرپسند گروہ کو قبضہ کا جواز مل سکتا ہے کہ دنیا پہلے ہی ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔برطانیہ کے ملٹری ایڈوائزر کی سعودی عرب آمد جبکہ دیگر یورپی ممالک کی اس ضمن میں سعودی موقف کی حمایت بھی حوثی اور اس کے سرپرستوں کو پریشان کر رہی ہے جبکہ پاکستان کی اس ضمن میں ایران کو پیغام رسانی بھی رنگ لاتی دکھائی دینے لگی ہے کہ ایرانی وفد سعودی سرزمین پر۔ ان سطور کی اشاعت تک تو تفصیلات سامنے نہ آئیں مگر ذمہ دار ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل ایران اور سعودی عرب کے مابین مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت کے لیے سرگرم کہ نادیدہ اور خفیہ صیہونی چالوں کو ناکام بنانے کا یہی بہترین اسلوب۔ پاکستان ہر صورت آپس کی اس بے مقصد لڑائی کو روکنا چاہتا ہے مگر پراکسیز اور اسرائیل اپنی چالوں کے ذریعے اسے ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف۔مسلم ممالک بالخصوص عربوں کو یہ بات اب سمجھ آ جانی چاہیے کہ گزشتہ 50 برسوں میں انہوں نے جس امریکہ کو اپنی حفاظت کے بدلے اربوں ڈالر دیئے وہ آج انہی سے نظریں چرا رہا ہے اور پاکستان باوجود اندرونی معاشی و سیاسی دباو کے ٹھوک بجا کر نہ صرف سعودی عرب کے دفاع بلکہ خطہ کے دیگر ممالک کو بھی حوصلہ دئیے ہوئے پے۔ جبکہ بھارتی و اسرائیلی سپانسرڈ دہشت گرد گروہوں کے خلاف بھی برسر پیکار ادھر مسلم دنیا کے آگے سعودی عرب کو رسوا کرنے کیلئے یروشلم پوسٹ اور امریکی اخبار میں حوثیوں کے خلاف اسرائیلی خفیہ مدد کی خبر اڑائی گئی جس کا مقاصد ہر ذی شعور کو سمجھ آنا چاہیے کہ کیا خفیہ معلومات دنیا کو بتا کر شئیر کی جاتی ہیں۔ ؟!ایک المیہ یہ کہ ہمارے ہاں کہ بعض سوشل میڈیائی تجزیہ نگاروں کا جو کم علمی یا مذہبی و سیاسی تعصب کے زیر اثر حقائق سمجھے بغیر شرپسند گروہوں کی حمایت میں توانائیاں صرف کر رہے ہوتے ہیں۔ سوچنے کا مقام کہ سعودی عرب حجاز مقدس کی وجہ سے پوری امت کی عقیدتوں کا مرکز، 20 لاکھ سے زائد پاکستانی وہاں روزگار پر، حرمین شریفین کی حفاظت جیسی سعادت پاکستان کے پاس، آج تک ہر مشکل گھڑی میں سعودی عرب پاکستان کے ساتھ مگر نادان دوست سرزمین حرمین پر حملوں پہ ایسے پرجوش جیسے پرائی شادی میں نادان دیوانے۔ ایسے وقت میں کہ جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ، امریکہ ایران جنگ کی بندش میں مصروف ہیں، کے دوران حوثیوں کے حملے چہ معنی دارد۔ ! سوال یہ کہ جنگجوں کو ہتھیار، ٹارگٹ کی نشاندہی اور بے پناہ مالی وسائل کون فراہم کر رہا۔؟ سوچنا تو یہ بھی بنتا ہے کہ اسرائیل کے عزائم کی بالواسطہ تکمیل کس کے ہاتھوں ہو رہی ہے اور امریکہ انصار اللہ براہ راست روابط کے مقاصد کیا ۔؟ اب تو حوثیوں کے ڈرون سرزمین حرم کی جسارت کرنے لگے۔ ایسے میں ایران پر بھاری ذمہ داری کہ وہ امت مسلمہ کو آپس کی جنگ سے بچانے کیلئے ذمہ دارانہ کردار ادا، انصار اللہ کو شرانگیزی سے باز اور انکار کی صورت میں علی اعلان برات کا اظہار کر کے مسلم اتحاد کی صف میں کھڑا ہو وگرنہ ایک اور بے مقصد جنگ مسلمانوں کا مقدر کہ جو برسوں سے اسرائیل کا خواب !

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *