بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 19.9°C
Monday, 28 September 2026 | پاکستان: 17 ر بیع الثانی 1448

احتجاج،کنٹینر اور چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی ججمنٹ

Monday, 28 September, 2026

پاکستان میں سیاسی احتجاج، دھرنا اور جلوس کوئی نئی چیز نہیں۔ کہا جاتا ہے یہ دھرنے یہ احتجاج خود ہوتے نہیں، سپانسر ہوتے ہیں،جیسے سیاسی پارٹیاں، حکمران بنائے جاتے ہیں بنتے نہیں۔اسلئے یہاں نہ کسی کو قانون آئین کی پرواہ ہے۔ پرواہ ہے تو امپائر کی انگلی کی۔ آئین میں قومی زبان اردو ہے اقوام متحدہ کے اجلاس میں ہر ملک کا حکمران اپنی ملکی زبان میں خطاب کرتا رہا اور ہم دوسروں کی زبان میں۔ ہر کام ہی ہمارا وخرہ اور نرالا ہے۔ لانگ مارچ، احتجاج کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو مختلف ادوار کے دو فیصلے اس سوال پر اہم قانونی مواد فراہم کرتے ہیں۔ایک ججمنٹ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنے کی دی کہ اگر مظاہرین احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو ریاست انہیں مقررہ اور مناسب مقام پر احتجاج کی اجازت دے سکتی ہے، لیکن اسلام آباد کو بند کرنا یا شہر کی معمول کی زندگی کو مفلوج کرنا قابلِ قبول نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ریاست شہریوں کی جان، مال، سلامتی اور دوسرے بنیادی حقوق کے تحفظ کی پابند ہے احتجاج کا حق قانون کے تابع ہے۔اگر کسی احتجاج کے نتیجے میں اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے یا شہری زندگی کو معمول سے ہٹانے کی کوشش ہو تو انتظامیہ قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے لیکن کہا جاتا ہے یہ نہیں لکھا کہ اگر حکومت خود احتجاج کے نام پر راستے بند کرے کنٹینر لگائے تو اسے ایسے کرنے سے کون روکے گا ۔اس ججمنٹ کے تقریبا ًنو سال بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگرکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے احتجاج لانگ مارچ کے معاملے میں اسی بنیادی مسئلے کو دوبارہ زیرِ بحث لائے۔کہا جاتا ہے کہ 18ستمبر 2026کو جاری ہونیوالے 37صفحات کے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ سیاسی جماعتوں، ملکی شہریوں کو پرامن اجتماع اور اختلافِ رائیکاحق حاصل ہے لیکن یہ حق دوسرے شہریوں کی زندگی آزادی عزت، آزادانہ نقل وحرکت کاروبار جائیداد ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، عدالتوں اور دفاتر تک رسائی کے حقوق کو متاثر نہیں کر سکتا۔ موجودہ فیصلے میں عدالت نے اس اصول کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت، سیاسی رہنما، صوبائی حکومت یا عوامی عہدہ رکھنے والا شخص اسلام آباد کے اندر یا اسلام آباد کی طرف آنے جانے والی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا دوسری عوامی جگہوں پر اس انداز میں قبضہ نہیں کر سکتا جس سے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت یا کاروبار اور بنیادی سہولتوں تک رسائی متاثر ہو۔یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے۔2026 کے فیصلے میں عدالت نے سرکاری وسائل کے سیاسی احتجاج میں استعمال کے بارے میں بھی واضح ہدایات دیں۔ صوبائی حکومتوں اور وزرائے اعلیٰ کو کہا گیا کہ کسی سیاسی مارچ، جلوس یا احتجاج کیلئے سرکاری فنڈز، گاڑیاں، مشینری، سرکاری اہلکار یا دیگر وسائل استعمال نہ ہونے دیے جائیں۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ کسی سرکاری ملازم کوسیاسی احتجاج میں شرکت یا اسے سہولت فراہم کرنے پر مجبور یا دباؤ کا شکار نہ کیا جائے۔اگر ان دونوں فیصلوں کو ایک ساتھ پڑھا جائے تو ایک دلچسپ قانونی تسلسل سامنے آتا ہے۔جسٹس شوکت صدیقی کا2017 کا فیصلہ بنیادی طور پر یہ کہتا ہے کہ احتجاج ہو سکتا ہے، لیکن اسلام آباد کو بند کرکے شہریوں کے حقوق پامال نہیں کیے جا سکتے۔ کہا جاتا ہے کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا 2026 کا فیصلہ اسی اصول کو مزید وسیع کرتے ہوئے احتجاج کے ساتھ شہریوں کے متعدد بنیادی حقوق، سرکاری وسائل کے استعمال اور سرکاری ملازمین پر دباؤ کے مسائل کو بھی شامل کرتا ہے۔دونوں فیصلوں کا مرکزی آئینی سوال دراصل یہی ہے کہ ایک شہری کا حق وہاں ختم ہوتا ہے جہاں اس کے عمل سے دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہونا شروع ہوں۔یہ اصول صرف کسی ایک سیاسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں، حکومتوں اور احتجاج کرنے والے شہریوں کیلئے ہیں۔اب موجود صورتحال میں پی ٹی آئی کے چیف منسٹر آفریدی نے کہا ہے کہہ ہم 27تاریخ کے بجائے چار اکتوبر کو نکلیں گے مگر اسلام آباد جانے والے تمام راستے ہم نے نہیں حکومت نے حکومتی مشینری لگا کر بند کر رکھے ہیں، اسلام آباد کے اندورنی راستے ابھی تک کھلے ہیں سوائے نادرہ، وکلا ہوسٹل ڈی چوک، میریٹ ہوٹل کے۔ چیف منسٹر آفریدی کا کہنا ہے کیا یہ کورٹ کے حکم کی خلاف فرضی نہیں ہے۔ ہم نے تو تک لانگ مارچ دھرنانہیں دیا ،حکومت نے عام پبلک کے راستے سکول بند کر رکھے ہیں ۔ کیا اس پر ان کے خلاف کوئی ایکشن ہو گا۔ ججمنٹ کی خلاف ورضی ہم نے نہیں کی حکومت نے کی ہے لہذٰا عدالت ان کے خلاف اب ایکشن لے۔ جمہوریت میں احتجاج کیا جا سکتا ہے، اختلافِ رائے بھی ہو سکتا ہے،اسی جمہوری نظام میں عام شہری کو سڑک پر چلنے، مریض کو ہسپتال پہنچنے، طالب علم کو تعلیمی ادارے جانے، وکیل کو عدالت پہنچنے، مزدور کو روزگار پر جانے اور تاجر کو اپنا کاروبار کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔ لہذا اصل بحث احتجاج کے حق یا مخالفت کی نہیں بلکہ حقوق کے باہمی توازن کی ہے۔جسٹس شوکت صدیقی کے 2017 کے فیصلے سے لے کر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے 2026 کے فیصلے تک عدالتی بحث کا یہی مرکزی نکتہ دکھائی دیتا ہے کہ آئین احتجاج کا حق دیتا ہے، لیکن قانون اور دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق کی قیمت پر نہیںلہٰذا کنٹینر کلچر کو ختم کریں ۔ کہا جاتا ہے کہ کنٹینر بزنس کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اب ان میں کرپشن کی بو بھی آنے لگی ہے۔ پاکستان میں جب بھی کوئی بڑا سیاسی، مذہبی یا احتجاجی جلوس اسلام آباد کی طرف بڑھتا ہے تو ایک منظر تقریبا ًاب معمول بن چکا ہے سڑکوں پر بھاری بھرکم کنٹینرز کھڑے کر کے مٹی بھر دی جاتی ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کنٹینرکسی ایک جماعت یا حکومت نے نہیں استعمال کئے یہاں کے۔مختلف ادوار میں مختلف حکومتوں نے سیاسی اور مذہبی احتجاج کو روکنے یا حساس علاقوں کو محفوظ رکھنے کیلئے اس طریقے کا استعمال کیا۔ 2007کے بعد یہ عمل بتدریج معمول بنتا گیا اور بعد کے برسوں میں مذہبی اور سیاسی احتجاج کے دوران بھی استعمال ہوتا رہا۔ یعنی حکومتیں بدلتی رہیں، مگر کنٹینر کلچر برقرار رہا۔اصل مسئلہ کنٹینر نہیں ہجوم کی مینجمنٹ کی پالیسی کا فقدان ہے۔اگر حکومت کو معلوم ہو کہ ایک لاکھ افراد شہر میں داخل ہونے والے ہیں تو سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ “کتنے کنٹینر کہاں لگانے ہیں؟”سوال یہ ہونا چاہیے:لوگ کہاں جمع ہوں گے؟ٹریفک کیسے چلے گی؟ ایمبولینس کیسے گزرے گی؟ ہسپتال کیسے فعال رہیں گے؟ کاروبار کیسے جاری رہیں گے اور اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو پولیس اور منتظمین مل کر اسے کیسے کنٹرول کریں گے یہی جدید انتظامی سوچ اور طریقہ ہے۔جس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے کسی بھی جمہوری معاشرے کی کامیابی کا معیار یہ نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت نے کتنی سڑکیں بند کر دیں اور کتنے کنٹینر کھڑے کر دیے ہیں۔ کامیابی یہ ہے کہ پرامن احتجاج کا حق محفوظ رہے، شہریوں کی نقل وحرکت بھی جاری رہے، حساس مقامات بھی محفوظ رہیں کنٹینر ایک عارضی رکاوٹ تو ہو سکتا ہے مگر اسے مستقل پالیسی نہیں بنا سکتے اب کنٹینر مینجمنٹ سے نہیں ہجوم مینجمنٹ کی طرف جانا ہوگاکیونکہ سڑکیں عوام کی ہیں، احتجاج بھی عوام کا حق ہے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ دونوں کے درمیان ایسا توازن قائم کرے جس میں نہ احتجاج کا حق ختم ہو اور نہ عام شہری کی زندگی مفلوج ہو۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *