بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 25°C
Saturday, 08 August 2026 | پاکستان: 25 صفر 1448

اسرائیل کو بھارتی اسلحے کی فراہمی

Saturday, 8 August, 2026

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہاہے کہ غزہ میں جنگ کے دوران بھارت اسرائیل کو اسلحہ، گولہ بارود، فوجی پرزے اور دیگر دفاعی سازو سامان فراہم کرتا رہاہے۔بھارت نے گزشتہ چند برسوں میں اسرائیل کے دفاعی شعبے کے ساتھ قریبی اور منافع بخش شراکت داری قائم کی ہے اور اب وہ ان سپلائی چینز کا اہم حصہ بن چکا ہے جو اسرائیلی دفاعی صنعت کو سامان فراہم کرتی ہیں۔ایمنسٹی کے تحقیق کاروں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کے بعد بھارت سے اسرائیل بھیجی جانے والی 2,596 تجارتی شپمنٹس کا تجزیہ کیا، جن میں اسلحہ، گولہ بارود، فوجی پرزے اور دیگر متعلقہ سامان شامل تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی کمپنیوں نے چھوٹے ہتھیاروں کے کم از کم 3 لاکھ 90 ہزار 516 پرزے، دھماکہ خیز ہتھیاروں، ڈرون وارہیڈز اور توپ کے گولوں کیلئے 5 لاکھ 64 ہزار 970 پرزے اور اجزا جبکہ فوجی گاڑیوں کے 298 پرزے اسرائیلی سپلائرز کو فراہم کیے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق تجارتی شپمنٹ کے دستیاب ڈیٹا سے یہ معلوم ہوا کہ یہ سامان اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کو بھیجا گیا، جنہوں نے بعد ازاں اسے اسرائیلی فوج تک پہنچایا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اسلحے اور فوجی سامان کی برآمدات فوری طور پر بند کرے۔ ایسے حالات میں ہتھیاروں کی فراہمی بین الاقوامی انسانی قانون اور جنیوا کنونشنز کے تحت ریاستوں پر عائد ذمہ داریوں سے متصادم ہو سکتی ہے۔ خطہ میں عدم استحکام اور انتشار میں بھارت اور اسرائیل دفاعی تعلقات عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن گئے۔عالمی جریدہ الجزیرہ کے مطابق ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو بھارت کی اسلحہ فروخت غزہ میں نسل کشی میں شمولیت کا خطرہ پیدا کر رہی ہے، عالمی سطح پر روزانہ نشر ہونے والی غزہ میں نسل کشی کے باوجود بھارت اسرائیلی فوج کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔عالمی صحافی جْولیدے آیگر کے مطابق مودی دور میں اسرائیل کو فروخت کیے گئے بھارتی ہتھیار 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی نسل کشی میں استعمال ہو رہے ہیں۔برطانوی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے اسرائیل کے دفاعی شعبے کے ساتھ ایک وسیع اور قریبی اشتراک قائم کر رکھا ہے، بھارت اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو معاونت فراہم کرنے والی سپلائی چینز میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل رپورٹ میں بھارت کی ریاستی ملکیت اور حکومتی کنٹرول میں کام کرنے والی کمپنیوں کیجانب سے اسلحہ فروخت کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔بین الاقوامی شہرتِ یافتہ مذہبی اسکالر اور مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے مودی سرکار کا مکرہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بھارت اسرائیل سے تربیت حاصل کررہا ہے۔ بھارت پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش کررہا ہے کیونکہ وہ کشمیر پر قبضہ حاصل کرنے کا خواہش مند ہے۔ اس وقت اسلامی ممالک کی جانب سے بھرپور ردعمل سامنے آنا چاہیے تھا مگر افسوس معاشی تعلقات کی وجہ سے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر ایسا کچھ نہیں ہوا کیونکہ سب نے مفادات کو اولین ترجیح دی۔ڈاکٹر ذاکر نائیک نے برطانوی صحافی رابرٹ فیسک کے کالم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”جیسے اسرائیل نے فلسطین کو تباہ کر کے وہاں کی زمین پر قبضہ کیا بالکل ویسے ہی بھارت کشمیر میں کرنا چاہتا ہے کیونکہ اب بھارتی سرکار اسرائیل سے تربیت حاصل کررہی ہے”۔ جس ملک کے وزیراعظم کو ریڈار اور بادلوں کے حوالے سے کوئی علم نہ ہو، ایسے ملک اور حکمرانوں سے اچھے کی امید رکھنا حماقت سے کم نہیں ہے۔بھارت اسرائیل عسکری اتحاد کے ذریعے ریاستی دہشت گردی کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں، بھارت دنیا کا ایک بڑا اسلحہ درآمد کرنے والاملک ہونے کے باوجودآپریشن سندور میں ناکامی سے دوچار ہوا۔جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار نے اسرائیل سے گٹھ جوڑ کر کے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے ، یہود ہنود گٹھ جوڑ کے بعد اسلحے کی خریدو فروخت پاکستان سمیت مسلم ممالک کے خلاف گھناؤنی سازش ہے۔روس، فرانس ،امریکہ اوراسرائیل سے اربوں ڈالر کے ہتھیار خرید کر مودی سرکار نے خطے کو اسلحے کا مرکز بنا دیا، مختلف بھارتی اخبارات اور مودی سرکار کے بیانیے نے بھارت اور اسرائیل کو دہشتگردی سے متاثرہ ملک قرار دے دیا۔ اسرائیل اور بھارت کو مسلم ممالک سے مشترکہ خطرہ ہے۔ بھارت، اسرائیلی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار۔ گزشتہ دہائی میں اسرائیلی فوجی سازوسامان اور دفاعی ٹیکنالوجی پر تقریبا 2.9 بلین ڈالر خرچ۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق میک ان انڈیا منصوبے کے تحت بھارتی اوراسرائیلی کمپنیاں مشترکہ طور پر اسلحہ سازی کی ٹیکنالوجی بھی تیار کر رہی ہیں۔بھارتی جریدے دکن ہیرالڈ کے مطابق ” یہ ہتھیار نہ صرف غزہ میں اسرائیلی فوج استعمال کر رہی ہے بلکہ بھارتی فوج بھی ان کا استعمال مقبوضہ کشمیر میں کر رہی ہے”۔ بھارتی ادارے آبزرور ریسرچ فانڈیشن کی تحقیقات کے مطابق؛ “اسرائیل نے 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں کے دوران بھارت کو اسلحہ فراہم کیا”۔دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا تجارتی معاہدہ بھی زیر غور ہے۔ریاستی دہشتگردی کیلئے اسرائیل بھارت کو جدید میزائل، انٹیلیجنس اور نگرانی کے نظام فراہم کر رہا ہے۔کشمیر سے غزہ تک، بھارتی و اسرائیلی افواج ایک جیسے ہتھیار اور جابرانہ حربے استعمال کر رہی ہیں۔ صہیونیت و ہندوتوا کا اسلاموفوبیا پر مبنی نظریہ مسلم دنیا کیلئے مشترکہ خطرہ بن چکا ہے۔اسرائیل و بھارت کی مسلم ممالک کے خلاف دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری کی خاموشی خطے کو جنگ میں دھکیل رہی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *