بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 27 August 2026 | پاکستان: 16 ر بیع الاول 1448

امریکہ کاافغان حکومت کو جائز ماننے سے انکار

Thursday, 27 August, 2026

امریکہ نے کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے سے صاف انکار کرتے ہوئے افغان طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ جب تک افغان حکومت انسانی حقوق، خصوصاً خواتین کے حقوق اور جامع حکومت کی تشکیل کے مطالبات پورے نہیں کرتی، اس کی سفارتی تنہائی برقرار رہے گی۔حقیقت یہ ہے کہ افغان رجیم کا خواتین کی تعلیم اور کام پر پابندیاں امریکہ اور عالمی برادری کے تسلیم نہ کرنے کی بڑی وجہ طالبان کی جانب سے تمام طبقوں کی نمائندگی کرنے والی حکومت نہ بنانا ہے۔ امریکہ نے کابل میں سفارتی موجودگی بحال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اہم مطالبات میںخواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق کی بحالی،دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات،اندرونی سطح پر سیاسی شمولیت اور مکالمہ شامل ہیں۔امریکہ نے طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا ہے اور انسانی حقوق، خواتین کی آزادی اور دہشت گردی کے خدشات کی بنا پر سخت سفارتی و اقتصادی دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ امریکہ نے طالبان کی عبوری حکومت کو قانونی حیثیت نہیں دی اور سفارتی تعلقات محدود رکھے ہیں۔ خواتین کی تعلیم، روزگار اور آزادی پر عائد پابندیوں کی شدید مخالفت کی جاتی ہے۔ افغانستان کی سرزمین کو بین الاقوامی دہشت گردی کیلے استعمال ہونے سے روکنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ افغان مرکزی بینک کے اثاثے منجمد رکھے گئے ہیں اور امدادی امور کو سخت نگرانی کے تحت چلایا جاتا ہے۔افغان طالبان کے اقتدار میں واپسی کے پانچ سال مکمل ہونے پر کینیڈا، جرمنی، نیدرلینڈز سمیت مختلف ممالک کے 24 شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ جرمنی کے مختلف شہروں بون، میونخ، اسٹٹ گارٹ، ہیمبرگ، برلن، کیل، فرینکفرٹ، کولون اور ڈسلڈورف میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈز، فن لینڈ، ناروے، آسٹریا، سویڈن، سپین، پاکستان، کینیڈا اور امریکا میں بھی افغان باشندوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔کئی شہروں میں افغان باشندے سڑکوں پر نکل آئے، طالبان کے خلاف نعرے بازی کی گئی جبکہ احتجاجی کیمپ، پٹیشن مہم اور بھوک ہڑتال بھی کی گئی۔ احتجاجی مظاہروں میں افغان باشندوں نے طالبان رجیم سے تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کرتے ہوئے خواتین کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے کوئینز پارک میں افغان مہاجرین کا بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور طالبان کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔مظاہرین نے صنفی امتیاز کے خاتمے، آزادی اظہار و صحافت کے تحفظ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر طالبان رجیم کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ایمسٹرڈیم میں مظاہرین نے نیدرلینڈز اور یورپی یونین سے طالبان کو تسلیم نہ کرنے اور افغان خواتین کے حقوق کو ترجیح دینے کا مطالبہ کیا۔افغان میڈیا کے مطابق جنیوا میں بھی اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے افغان باشندوں نے احتجاجی ریلی نکالی اور طالبان رجیم کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ جرمنی کے شہروں اسٹٹگارٹ اور ہیمبرگ میں بھی مظاہرین نے ”روٹی، کام، آزادی” کے نعرے لگائے اور عالمی برادری سمیت جرمن حکومت سے طالبان رجیم کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں طالبان رجیم کے خلاف بڑھتے احتجاج اور مظاہرے اس امر کا واضح اشارہ ہیں کہ عالمی سطح پر طالبان کو قبولیت یا کسی بھی قسم کی نارملائزیشن حاصل نہیں ہوگی۔بیرونِ افغانستان بڑھتی احتجاجی لہر اور ملک کے اندر مزاحمتی تحریکوں میں تیزی طالبان رجیم کے خلاف عوامی ردِعمل میں اضافے اور مستقبل میں اس کے خاتمے کی راہ ہموار ہونے کی علامت ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے نشاندہی کی کہ خواتین کے حقوق، تعلیم، آزادیِ اظہار اور دیگر بنیادی انسانی حقوق سے متعلق طالبان کی پالیسیوں پر عالمی سطح پر مسلسل تشویش پائی جاتی ہے۔بین الاقوامی قانونی ادارے بھی طالبان قیادت کے بعض اقدامات پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں، جبکہ متعدد طالبان رہنما مختلف بین الاقوامی پابندیوں کی فہرستوں میں شامل ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر منتخب حکومت کو بین الاقوامی سطح پر سیاسی اسپیس فراہم کرنا افغانستان کے لاکھوں شہریوں، خصوصا خواتین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی آواز کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ افغان عوام، بالخصوص خواتین کو بنیادی حقوق کی فراہمی، تعلیم اور روزگار تک رسائی، اور عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل تک طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنے کے مطالبات کو احتیاط سے دیکھا جانا چاہیے۔افغانستان کی اقتدار پر قابض غیر منتخب طالبان حکومت اپنی دہشت گردانہ سوچ اور ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسیوں کے باعث دنیا بھر میں سیاسی اچھوت بن چکی ہے، جس کے نتیجے میں کابل رجیم پر عالمی تنہائی کا گھیرا مزید تنگ ہو گیا ہے۔ بندوق کے زور پر آنے والی اس غیر منتخب رجیم کو کسی بھی قسم کا سفارتی اسٹیج یا بین الاقوامی اسپیس فراہم کرنا ایک بھیانک غلطی ہوگی۔ یہ اقدام افغانستان کے ان کروڑوں مظلوم مردوں اور حقوق سے محروم خواتین کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کے مترادف ہوگا جو اس وقت بدترین جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔انسانی حقوق کے ان عالمی اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ یورپی یونین اور بین الاقوامی برادری طالبان کے ساتھ پینگیں بڑھانے کے بجائے ان کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف سخت ترین موقف اختیار کرے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ جب تک افغان عوام کو ان کے بنیادی حقوق نہیں ملتے، تب تک طالبان کو کسی بھی عالمی فورم پر خوش آمدید کہنا انسانیت کے خلاف جرائم پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے کے برابر مانا جائے گا۔کابل میں انسانی حقوق کے کارکنان نے افغان طالبان کی جانب سے تعلیم، اظہارِ رائے اور فکری آزادی پر سخت پابندیوں کو دہشت گردی کے فروغ کے لیے خطرناک بنیاد قرار دیا ہے۔ کارکنان انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ طالبان ایک خاموش، خوف زدہ اور فکری طور پر محروم معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں افغانستان شدید تعلیمی و فکری دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔طالبان نے خواتین کی تعلیم پر سخت پابندیاں عائد کر کے نہ صرف لڑکیوں کے تعلیمی مستقبل کو تاریک بنا دیا ہے بلکہ خواتین اساتذہ کی بڑی تعداد بھی بے روزگار ہو چکی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *