صاحبو !یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔امریکہ سوتے جاگتے اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لئے ہمہ تن گوش رہتا ہے ۔ابراہم اکارڈ کے نام سے اسرائیل کو تسلیم کروانے کی کون سی کوشش اس نے نہیں کی ۔حماس کے اسرائیل پر حملے اور پھر مسلسل فلسطین پر اسرائیل کی بر برایت سے قبل بھی امریکہ اس سلسلہ میں سنجیدہ کوششیں کر چکا ہے ۔ اور اس کی یہ کوشش ایک حد تک بھرپور بھی ثابت ہوئی ۔کہ یو اے ای سمیت بعض خلیجی ممالک نے اس معائدہ پر دستخط کر کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کر لئے ۔خطے کا اہم ملک سعودی عرب اور دیگر نے نہ صرف ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا بلکہ فلسطین پر حملوں کی وجہ سے صاف انکار کر دیا ۔اور شرط رکھ دی ۔کہ پہلے فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے ۔جو امریکہ کو قبول نہیں ۔حالانکہ کہ امریکہ خود دو ریاستی حل کا محرک رہ چکا ہے۔ اور اسپین سمیت کئی مغربی ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے لیکن جب عملی اقدام کی طرف بات آتی ہے تو اسرائیل انکار کر دیتا ہے ۔اور امریکہ اس کی حمایت میں ویٹو تک جا پہنچتا ہے۔فلسطین پر جنگ روکنے کے معائدہ میں بھی ابراہم اہکارڈ کو مرکزی حیثیت حاصل رہی پیس کمیٹی کا ڈھول ڈالا گیا جسے اسرائیل نے کئی بار سبوتاژ کیا اور کر رہا ہے۔ایران امریکہ جنگ نے وقتی طور پر اس معاملہ کو پس_ پشت ڈال دیا ۔40 روزہ اس مسلسل جنگ کے بعد پاکستان کی کوششوں سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی سعی کا آغاز ہوا تو پھر بھی ٹرمپ نے پھبتی کسی کہ ایران امریکہ مفاہمتی سرمنی کے بعد خلیجی ممالک سمیت کئی مسلمان ممالک ابراہم ایکارڈ پر بھی دستخط کر دیں گے جس پر پاکستان اور سعودی عرب سمیت کئی اسلامی ممالک کے کان کھڑے ہو گئے ۔اور سعودی عرب کو اعلان کر نا پڑا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر ایسا ممکن نہیں ۔تو ٹرمپ وقتی طور پر خاموش ہو گیا ۔اب جب کہ ایک بار پھر ایران امریکہ جنگ عروج پر ہے ۔تو امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ نیوکلیر ڈیل کا اعلان کرتے ہوئے ۔ابراہم ایکارڈ کی شرط بھی رکھ دی۔یعنی وہ خواب میں بھی اس معائدہ کو بھولا نہیں۔ ۔جس کے دو مقاصد ہیں ۔ایک یہ ایران کو باور کرایا جائے کہ سعودی عرب ایران کے ہم پلہ ایٹمی پیش رفت کی طرف جا رہا ہے ۔دوسرا ایران کو سعودی عرب پر حملوں کے لئے اکسایا جائے تاکہ سعودی عرب عملی طور پر اس جنگ میں شامل ہو جائے۔ جس کاصاف مطلب پاکستان کو اس جنگ میں الجھانا ہے ۔اور امریکہ اسرائیل نے بیٹھ کر تماشہ دیکھنا ہے ۔شیطان شیرا لگا رہا ہے ۔باقی کام خود بخود ہو تا چلا جائے گا۔ نیوکلر ڈیل ٹریپ کرنے کا حربہ ہے ابرہم ایکارڈ پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد امریکہ کسی بھی نیوکلیر ڈیل سے مکر سکتا ہے اور یہی اس کا ٹریک ریکارڈ ہے ۔اس لئے سعودی عرب کو اس معاملہ سے نہ صرف دور رہنا چائیے بلکہ دوٹوک اعلان کرنا چاہییکہ وہ کسی ابراہم ایکارڈ کے نام پر کسی نام نہاد نیو کلر ڈیل کا حصہ نہیں بننے جا رہا ۔یقینا پاکستان بھی اس سازش کا ادراک کرے گا۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں