سماجی رہنما محمد رفیق کا تعلق داد خیل میانوالی سے ہے۔ وہ سماجی کاموں، این جی اوز اور انسانیت کی خدمت کے مختلف کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میرے دل میں بھی ان کیلئے محبت اور احترام موجود ہے۔ ہماری ایک خوب صورت عادت یہ ہے کہ ہم روز ایک دوسرے کو صبح بخیر کا پیغام بھیجتے ہیں۔ ایک دن انہوںنے مجھے ایک ویڈیو بھیجی۔ ویڈیو میں ایک ماں اولڈ ایج ہاؤس میں موجود تھی۔ اس کے چہرے پر عمر کی تھکن، وہ بتا رہی تھی کہ جن بچوں کو اس نے اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھ کر پالا آج وہی بچے اسے اولڈ ایج ہاؤس میں چھوڑ گئے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ اب یہی اس کا ٹھکانہ ہے۔انہوں نے ویڈیو کیساتھ جو پیغام بھیجا، اس میں انہوں نے انسان کو اس کے اصل رشتوں، اس کی ذمہ داریوں اور آخرت کی جواب دہی کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ہم امت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، جن والدین نے ہماری پرورش میں اپنی زندگی کھپا دی، ہمیں کھلایا اور پڑھایا لیکن آج ہم انہی والدین کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں؟بچہ پیدا ہوتا ہے تو والدین اس کیلئے اپنی زندگی کا نقشہ بدل دیتے ہیں۔ رات کو بچہ روتا ہے تو ماں کی نیند ٹوٹ جاتی ہے۔ بخار چڑھے تو پوری رات اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا جاتا ہے۔بچہ چلنا سیکھتا ہے تو ماں باپ اس کے گرنے سے پہلے اپنے ہاتھ آگے کر دیتے ہیں ۔ وہ بولنا سیکھتا ہے تو اس کے ایک ایک لفظ پر خوش ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی محنت کا صلہ دولت کی صورت میں نہیں چاہیے ہوتا بلکہ ان کیلئے سب سے بڑی خوشی یہ ہوتی ہے کہ ان کا بچہ خوش ہے، آباد ہے اور عزت کی زندگی گزار رہا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب والدین بوڑھے ہونے لگتے ہیں۔ ہاتھوں میں پہلے جیسی طاقت نہیں رہتی، آنکھوں کی روشنی کم ہونے لگتی ہے، اور جسم بیماریوں کا گھر بن جاتا ہے۔ بچپن میں بچے نے والدین کا ہاتھ پکڑ کر چلنا سیکھا تھا، بڑھاپے میں والدین کو اولاد کے ہاتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔بچپن میں بچہ کھانا نہیں کھا سکتا تھا تو ماں اسے اپنے ہاتھ سے کھلاتی تھی، بڑھاپے میں والدین کے ہاتھ کانپتے ہیں تو انہیں بھی کسی کے ہاتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچپن میں بچہ رات کو جاگتا تھا تو ماں اس کے پاس بیٹھتی تھی، بڑھاپے میں اگر والدین رات کو جاگ جائیں تو ان کے پاس بیٹھنے والا بھی کوئی ہونا چاہیے۔ہمارے وسیب میں ایک تلخ حقیقت سامنے آ رہی ہے ۔ کچھ والدین اپنی ہی اولاد کیلئے بوجھ بن جاتے ہیں۔والدین کو اولڈ ایج ہاؤس میں رکھ دیا جائے۔اولڈ ایج ہاس اپنی جگہ ایک سماجی ضرورت ہوسکتا ہے۔ ہر شخص کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ بعض بزرگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا کوئی سہارا نہیں ہوتا، بعض کے بچے دنیا میں موجود نہیں ہوتے، بعض اکیلے رہ جاتے ہیں اور بعض کو مستقل نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے افراد کیلئے باعزت، محفوظ اور محبت بھرا ادارہ یقینا ضروری ہے لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اولڈ ایج ہاؤس کسی بے سہارا بزرگ کی ضرورت کے بجائے اولاد کی ذمہ داری سے فرار کا راستہ بن جائے ۔ جس ماں نے اپنے بچے کے گندے کپڑے دھوئے ہوں، اس کے بیمار ہونے پر راتیں جاگ کر گزاری ہوں، اسکول کی فیس کیلئے اپنے زیور بیچے ہوں، وہی ماں باپ اپنی اولاد کی موجودگی میں خود کو تنہا محسوس کرنے لگیں تو یہ صرف ایک گھر کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ پورے معاشرے کے اخلاقی معیار کا مسئلہ بن جاتا ہے۔سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ والدین اولڈ ایج ہاؤس میں پہنچ جاتے ہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ بعض اوقات انہیں وہاں چھوڑنے کے بعد اولاد مطمئن بھی ہو جاتی ہے ۔ والدین کی ضرورت صرف چار دیواری، بستر ، دوا اور کھانے سے پوری نہیں ہوتی۔ والدین کو اپنے بچوں کی آواز، ان کا وقت، ان کی توجہ، ان کے ہاتھ کا لمس چاہیے۔ ایک بوڑھی ماں کیلئے بیٹے کا چند منٹ پاس بیٹھ جانا کسی مہنگے تحفے سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔والدین کو ہمیشہ پیسوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ انہیں اپنائیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ہم نے ترقی کے نام پر گھروں کو خوب صورت بنا لیا، کمروں میں جدید فرنیچر رکھ لیا، گاڑیاں خرید لیں، بچوں کیلئے بہترین اسکول تلاش کر لیے، بیرون ملک جانے کے خواب پورے کر لیے لیکن اگر اسی ترقی کے سفر میں ہمارے والدین ہمارے گھروں سے نکل کر اولڈ ایج ہاؤس پہنچ جائیں تو ہمیں اپنی ترجیحات پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ زندگی کا قانون بہت سادہ ہے جو آج والدین کے ساتھ ہو رہا ہے، کل وہی منظر اولاد کے سامنے بھی آ سکتا ہے۔ بچے صرف ہماری باتوں سے نہیں سیکھتے، وہ ہمارے رویوں سے سیکھتے ہیں۔ ایک گھر میں بچے دیکھتے ہیں کہ والدین نے اپنے بوڑھے ماں باپ کو نظر انداز کر دیا ہے تو وہ اس رویے کو معمول سمجھ سکتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ دادا دادی یا نانا نانی عزت کے ساتھ گھر کا حصہ ہیں تو ان کے دل میں بزرگوں کے احترام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ والدین کی خدمت صرف مذہبی فریضہ نہیں بلکہ انسانی ذمہ داری بھی ہے۔ اسلام نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ والدین کیلئے اولاد کی خدمت دراصل اس قرض کا بدلہ نہیں جو کبھی مکمل طور پر ادا ہو سکتا ہے۔ ماں باپ نے بچوں کے بچپن میں جو کچھ کیا، اس کا حساب کتاب ممکن نہیں۔ اولاد اکثر والدین کی طرف سے دی جانے والی چیزوں کو اپنا حق سمجھتی ہے لیکن والدین اپنی اولاد کیلئے جو کچھ کرتے ہیں وہ محبت میں کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ماں کو کبھی یہ یاد نہیں رہتا کہ اس نے بچے کیلئے کتنی راتیں جاگ کر گزاری تھیں اور باپ کو یہ حساب نہیں رہتا کہ اس نے اولاد پر اپنی زندگی کی کتنی کمائی خرچ کی تھی۔ پھر بڑھاپے میں وہی والدین خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ جاتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ بچے مصروف ہیں، ان کے اپنے مسائل ہیں۔ وہ اکثر اپنی ضرورت بھی پوری طرح بیان نہیں کرتے تاکہ بچوں کو زحمت نہ ہو۔ ہمیں اپنے گھروں میں والدین کیلئے صرف جگہ نہیں، مقام پیدا کرنا ہوگا۔ ان کیلئے کمرہ کافی نہیں، دل میں جگہ ضروری ہے۔ ان کیلئے کھانا کافی نہیں، عزت ضروری ہے۔ دوا کافی نہیں، توجہ ضروری ہے۔ مالی مدد کافی نہیں، محبت ضروری ہے۔والدین دنیا کی وہ دولت ہیں جو ایک بار چلی جائے تو دوبارہ نہیں ملتی۔ ان کی قبر پر کھڑے ہو کر پچھتاوا، ان کے زندہ ہوتے ہوئے محبت کے چند لمحوں کا نعم البدل نہیں بن سکتا۔ اولڈ ایج ہاؤس میں رہنے والے ہر والدین کے پاس ایک کہانی ہوتی ہے مگر اس کہانی کا سب سے تکلیف دہ باب اکثر وہ ہوتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اولاد کیلئے گزار دی اور زندگی کے آخری حصے میں اولاد کیلئے ان کے پاس وقت نہیں تھا۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں