حضرت محمدۖ کی مجلس ہے۔آپ کے صحابہ کرام جمع ہیں۔آپۖ ارشاد فرماتے ہیں” ایک وقت آئے گاکہ دوسری قومیں میری امت پراس طرح چڑھ دوڑیں گی جیسے بھوکا دستر خوان پر،پوچھا گیا کہ یا رسول ﷲۖ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان کیا ا’س وقت ا’مت مسلمہ تعداد میںکم ہو گی؟ آپ نے فرمایا نہیں ہر گز نہیں، تعداد میں تو بہت زیادہ ہوں گے مگر ان کی حیثیت سمندر میں جھاگ کی مانند ہو گی صحابہ کرام پوچھتے ہیں یا رسول اﷲۖ پھر ایسا کیوں ہو گا؟ تب خدا کے محبوب جواب دیتے ہیں” میرے امتیوں کی یہ حالت اس وجہ سے ہو گی کہ وہ دنیا کی محبت کے اسیر ہو جائیں گے اور موت سے ان کو نفرت ہو جائے گی”۔ آج اگر ہم جائزہ لیں تو ہمیں ایس ہی صورت حال دکھائی دیتی ہے۔ ہر جگہ ہم مغلوب ہیں ۔ ہماراآخرت پرقولاً تو یقین ہے مگر ہمارا عمل ہمارے دعوے کی نفی کرتا ہے۔موت اور آخرت کو بھلا کر، دوسرے کا حق مار کر،اقربا پروری کر کے ہم دنیا کمانے کی دھن میں مگن ہیں۔ اپنے ارد گرد روز مرہ کے واقعات کو بھول جاتے ہیں۔فلاں وزیر اعظم کو قتل کر دیا گیا۔ فرعون و شداد کی مثالیں رہنے دیں۔ یہ قذافی و حسنی مبارک کوئی قصہ پارینہ نہیں جن کو اقتدار پر کلی اختیار تھا، آج کہاں ہیں؟ پڑوس میں دیکھئے اندرا گاندھی کتنا عرصہ اقتدار میں رہیں، ان کا خاتمہ کس نے کیا،ان کا جانشین راجیو گاندھی کہاں چلا گیا، پاکستان کو توڑنے والوں کا انجام کیا ہوا۔ بنگلہ دیش میں اقتدار کی باگ ڈور پر جس شیخ مجیب کو مکمل دسترس حاصل تھی اسے اور اس کے سارے خاندان کو اپنی ہی فوج نے قتل کر دیا۔ ایک بیٹی حسینہ موقع پر موجود نہ ہونے کی بنا پر بچ گئی۔آج اقتدار پربلا شرکت غیرے وہ قابض ہے مگر ماضی فراموش کر کے اس وقت کے محب وطن عمر رسیدہ بے گناہ افراد کو پھانسی کی سزائیں سنوا رہی ہے۔ہر طرف دنیا اور اس کی دلکشی ہمیں اپنا اسیر بنا رہی ہے۔ ہم میں سے بہت سوں کو مرنے سے قبل ” وصیت” قلمبند کرنے کا موقع ہی میسر نہیں آتا۔جن کو یہ موقع نصیب بھی ہوتا ہے ان میں سے اکثریتی وصیتیں دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ فلاں فیکٹری فلاں کیلئے، فلاں بنگلہ بیٹے کیلئے،مغربی ممالک کے بڑے شہروں کی یہ پراپرٹی فلاں کیلئے۔الغرض موت کا فرشتہ سر پر سوار ہوتا ہے پھر بھی ہمیں آخرت کا کوئی فکر نہیں ہوتا۔ذیل میں درج وصیت پر توجہ دیں۔اس وصیت کی روشنی میں ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔اقتدار کے ایوانوں پر مکمل اختیار رکھنے والے بھی چند لمحوں کیلئے سوچیں کہ وہ پاکستان کو کہاں لے کر جائیں گے۔دیکھئے عظیم فلسفی اپنے بیٹے کو کیا کہتے ہیں” اے مرے فرزند! زمانے کی گردش، دنیا کی بے وفائی اور آخرت کی نزدیکی نے مجھے ہر طرف سے غافل کر کے صرف آنے والی زندگی کے اندیشوں میں مبتلا کر دیا ہے۔اب مجھے اپنی فکر ہے۔تمام نشیب وفراز پیش نظر ہیں۔بے نقاب حقیقت آنکھوں کے سامنے ہے۔سچا معاملہ روبرو ہے۔اسی لئے میں نے یہ وصیت تیرے نام لکھی ہے، خواہ تیرے لئے زندہ رہوں یا فوت ہو جائوں کیونکہ مجھ میں تجھ میں کوئی فرق نہیں۔تو میری جان ہے ،میری روح ہے۔ تجھ پر آفت آئے گی تو مجھ پر پہلے آئے گی۔تیری موت میری موت ہو گی۔فرزنددل کو مو عظمت سے زندہ کر،زہد سے مار،یقین سے قوت دے،حکمت سے روشن کر، موت کی یاد سے اس پر قابو پا،فانی ہونے کا اس سے اقرار لے، مصائب یاد دلا کراسے ہوشیار بنا،زمانے کی نیرنگیوں سے اسے ڈرا،بچھڑ جانے والوں کی حکائتیں اسے سنا،گزرے ہوئوں کی تباہی سے اسے عبرت دلا،ان کی اجڑی بستیوں میںگشت کر،ان کی عمارتوں کے کھنڈر دیکھ اور دل سے سوال کر: ان لوگوں نے کیا کیا؟کہاں چلے گئے؟کدھر رخصت ہو گئے؟کہاں جا کر آباد ہو گئے؟ ایسا کرنے سے تجھے معلوم ہو جائے گا کہ وہ اپنے دوست احباب سے جدا ہو گئے،ویرانوں میں جا بسے اور تو بھی بس دیکھتے ہی دیکھتے انہی جیسا ہو جائے گا۔فرزند!( میں تجھے وصیت کرتا ہوں)خدا سے خوف کر۔ اس کے حکم پر کاربند ہو۔اس کے ذکر سے قلب کو آباد کر۔اسی کی رسی کو مضبوطی سے تھام کیونکہ اس رشتے سے مستحکم کوئی رشتہ نہیں جو تجھ میں اور تیرے خدا میں موجود ہے،بشرطیکہ تو خیال کرے لہذا اپنی جگہ درست کر لے۔آخرت کو دنیا کے بدلے نہ بیچ،بے عملی کی حالت میں بولنا چھوڑ دے، بے ضرورت گفتگو سے پرہیزکر،جس راہ میں بھٹک جانے کا اندیشہ ہواس سے باز رہ کیونکہ قدم کا روک لینا ہولناکیوں میں پھنسنے سے بہتر ہے۔تو نیکی کی تبلیغ کرے گا تونیکوں میں سے ہو جائے گا ۔ برائی کو اپنی زبان سے برا ثابت کر،بروں سے الگ رہ،خدا کی راہ میں جہاد کر،جیسا حق ہے جہاد کرنے کا۔خدا کے معاملے میں ملامت کرنے والوں کی ملامت سے نہ ڈر۔حق کیلئے مصائب کے طوفان میں کود جا۔دین میں تفقہ حاصل کر۔مصائب کی برداشت کا عادی بن،کیونکہ برداشت کی قوت بہترین قوت ہے۔سب کاموں میںاپنے لئے خدا کی پناہ تلاش کر، اسی طرح تو مضبوط جائے پناہ اور غیر مسخر قلعے میں پہنچ جائے گا۔اپنے خدا سے دعاکرنے میں کسی کو شریک نہ کر کیونکہ بخشش وعطا،منع وحرمان،سب خدا کے ہاتھ میں ہے۔استخارہ زیادہ کیا کر۔میری یہ وصیت خوب سمجھ لے۔اس سے روگردانی نہ کرنا۔وہی بات ٹھیک ہوتی ہے جو مفید ہوتی ہے۔بے فائدہ علم بے کار ہے اور اس کی طلب ناروا۔فرزند! جب میں نے دیکھا کہ آخر عمر کو پہنچ گیا ہوں اور ضعف بڑھتا جاتا ہے تو یہ وصیت لکھنے میں مجھے جلدی کرنا پڑی،میں ڈرا کہ کہیں وصیت سے پہلے ہی مجھے موت آجائے یا جسم کی طرح عقل بھی کمزور پڑ جائے یا تجھ پر نفس کا غلبہ ہو جائے یا دنیاوی فکریں تجھے گھیر لیں اور تو سرکش گھوڑے کی طرح قابو سے باہر ہو جائے۔نو عمروں کادل خالی زمین کی طرح ہوتا ہے جو ہر بیج قبول کر لیتی ہے۔اسی خیال سے میں نے وصیت لکھنے میں جلدی کی تا کہ دل کے سخت ہونے اور ذہن کے دوسری طرف لگ جانے سے پہلے ہی تو اس معاملے کو سمجھ لے،جس کے تجربے اور تحقیق سے اگلوں نے تجھے بے نیاز کر دیا ہے۔اس کی راہ کی تگ و دو اور تجربے کی تلخیوں سے تجھے بچا لیا ہے۔وہ چیز تیرے پاس بلا کلفت پہنچ رہی ہے جس کی جستجو میں ہمیںخود نکلنا پڑا تھا،اب وہ سب تیرے سامنے آرہا ہے جو شائد ہماری نگاہوں سے بھی اوجھل رہ گیا ہو۔فرزند! میری عمر اتنی دراز نہیں جتنی اگلوں کی ہوا کرتی تھی تا ہم میں نے ان کی زندگی پر غور اور ان کے حالات میں تفکر کیا ہے،ان کے پیچھے بحث و جستجو میں نکلا ہوں حتیٰ کہ اب میں انہی کا ایک فرد ہو چکا ہوں بلکہ ان کے حالات سے حد درجہ واقف ہونے کی وجہ سے گویا ان کا اور ان کے بزرگوں کا ہم سن بن گیا ہوں۔اسی طرح یہاں کا شیریں و تلخ،سفیدو سیاہ،سودوزیاں سب مجھ پر کھل گیا ہے۔اس سب میں سے میں نے تیرے لئے ہر اچھی بات چن لی ہے،ہر خوشنما چیز منتخب کر لی ہے۔ہر بری اور غیر ضروری بات تجھ سے دور رکھی ہے اور چونکہ مجھے تیرا ویسا ہی خیال ہے جیسا شفیق باپ کو بیٹے کا ہوتا ہے،اس لئے میں نے چاہا کہ یہ وصیت ایسی حالت میں ہو کہ تو ابھی کم عمر ہے،دنیا میں نووارد ہے۔تیرا دل سلیم ہے،نفس پاک ہے۔ پہلے میں نے ارادہ کیا تھا کہ تجھے صرف کتاب اﷲ اور اس کی تفسیر اور شریعت اور اس کے احکام حلال وحرام کی تعلیم دوں گا،پھر خوف ہوا مبادہ تجھے بھی اسی طرح شکوک و شبہات گھیر لیں گے جس طرح لوگوں کو نفس پرستی کی وجہ سے گھیر چکے ہیں لہذا میں نے یہ وصیت ضروری سمجھی۔یہ تجھ پر شاق ہو سکتی ہے مگر میں نے اسے پسند کر لیا اور گوارا نہ کیا کہ ایسی راہ میں تجھے تنہا چھوڑ دوں جس میں ہلاکت کا اندیشہ ہے۔ امید ہے خدا میری وصیت کے ذریعے تجھے ہدائت دے گا اور سیدھی راہ کی طرف تیری راہنمائی کرے گا۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں