وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے خوردہ فروشوںکو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کیلئے حالیہ مراعاتی اسکیم کا ایک بار پھر جائزہ لیا ہے اور یہ اجلاس بھی مایوس کن نتائج کے پس منظر میں منعقد ہوا۔ اورنگزیب کا کہنا ہے کہ خوردہ فروشوں کیلئے ٹیکس سکیم کو محض ایک سالہ انتظام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔یہ بات بذاتِ خود ایک اعتراف ہے ۔ آسان شرائط پر پیش کئے جانیوالے سادہ طریقہ کار کے باوجود یہ شعبہ اس میں شامل ہونے پر آمادہ نہیں ہوااور اب حکومت طویل انتظار کی تیاری کر رہی ہے۔یہ کوئی پہلی کوشش نہیں ہے۔تاجر دوست سکیم کے تحت صرف اٹھاون ہزار رجسٹریشنز ہوئیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ پچاس ارب روپے کے محصولات کے ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی۔اس سے قبل فکسڈ ٹیکس کے نظام ، ایمنسٹی اسکیمیں اور کم شرحیں متعارف کرائی گئی تھیں۔ہر کوشش کا اختتام ایک نئی اسکیم کی تیاری پر ہوا۔ظاہر ہے،جب نظام سے باہر رہنے کی کوئی قیمت نہیں چکانی پڑتی تو تاجر اور ہول سیلرز رضاکارانہ طور پر اس نظام میں شامل نہیں ہوں گے ۔مراعات تب ہی کارگر ثابت ہوتی ہیں جب متبادل کے طور پر جرمانے کا سامنا ہو۔اس کے برعکس، ریٹیل،رئیل اسٹیٹ اور زراعت وہ تین بڑے شعبے ہیں جن پر ریاست نے کبھی بھی ان کے حجم کے تناسب سے ٹیکس نہیں لگایا۔ریٹیل کے شعبے کے پاس’شٹر ڈائون’کی طاقت ہے: ہڑتال اور بازار بند کرنے کی دھمکی نے حکومتوں کو دستاویزی نظام کے اقدامات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ٹیکس کون ادا کرتا ہے۔مالی سال 26 میں،تنخواہ دار طبقے نے 633 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کیے،جو رئیل اسٹیٹ اور خوردہ فروشوں کے مجموعی ٹیکس سے کہیں زیادہ ہے۔تنخواہ دار افراد پر ٹیکس ماخذ پر ہی لاگو ہو جاتا ہے اور وہ چھپ نہیں سکتے جبکہ نقد لین دین کرنے والا خوردہ فروش ایسا کر سکتا ہے۔منظم کارپوریٹ سیکٹرجس پر سپر ٹیکس اور بھاری ایڈوانس ٹیکس لاگو ہوتے ہیں،کی صورتحال بھی یہی ہے۔بوجھ ان لوگوں پر پڑتا ہے جو دستاویزی نظام کا حصہ ہیںکیونکہ ان تک رسائی سب سے آسان ہوتی ہے ۔ ٹیکس کا محدود دائرہ کار اس میں شامل لوگوں کیلئے ٹیکس کی شرحوں کو بلند رکھتا ہے جس سے باضابطہ ملازمت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔اس سے سماجی اخراجات کیلئے بجٹ میں فنڈز کی کمی ہو جاتی ہے ، لہٰذااس خلا کو قرض لیکر اور صحت،تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے بجٹ میں کٹوتی کر کے پر کیا جاتا ہے ۔اس کے نتیجے میں معاشی ترقی کی رفتار سست پڑتی ہے،ملازمتیں کم ہوتی ہیں اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے؛اور یہ عوامل بالآخر ٹیکس کے دائرہ کار کو مزید سکوڑ دیتے ہیں ۔ حکومت اس انداز میں اپنے مالی معاملات نہیں چلا سکتی۔اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ کوئی نئی سکیم نہیں ہے۔اس کے بجائے،پرچون فروشوں اور تھوک فروشوں کیساتھ بھی دیگر ٹیکس دہندگان جیسا ہی سلوک کیا جانا چاہیے۔اس کا مطلب ہے لازمی رجسٹریشن،’پوائنٹ آف سیل’ سسٹمز کا ایف بی آر کے ساتھ انضمام،اور غیر رجسٹرڈ افراد کی نشاندہی کیلئے بجلی کے کنکشنز ، بینک لین دین اور کرائے و جائیداد سے متعلق ڈیٹا کا استعمال۔ایسا ٹیکس نظام جو بااثر افراد کو استثنیٰ دے اور ٹیکس قوانین کی پاسداری کرنیوالوں پر بوجھ ڈالے، نہ تو معاشی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے اور نہ ہی اسے منصفانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہر قسم کی آمدنی پر منصفانہ انداز میں ٹیکس عائد کیا جانا چاہیے۔
یمن میں کشیدگی میں اضافہ
حوثی’انصار اللہ’تحریک کی جانب سے سعودی عرب کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے باعث خطہ ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔حوثی حملے خاص طور پر ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانیوالے حملے تیزی سے تباہ کن ہوتے جا رہے ہیں؛ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں کئی افراد ہلاک اور اطلاعات کے مطابق سینکڑوں زخمی ہوئے۔کہا جا رہا ہے کہ یہ حملہ مملکت میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہونیوالا سب سے مہلک حملہ تھا۔ہوائی اڈے پر ہونے والے ان حملوں کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی ہے اور بڑی تعداد میں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔اتوار کے روز ایرانی اور سعودی وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت سے ایک چھوٹا سا موقع پیدا ہوا ہے۔اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے کہا کہ عسکری طریقہ کار یمن میں معاملات کو”پیچیدہ”بنا دے گا،اور ساتھ ہی انہوں نے’انصار اللہ’کے ساتھ ثالثی کیلئے تہران کی خدمات پیش کیں۔حوثی ایک آزاد فریق ہیں ایران کے ساتھ ان کی نظریاتی اور جغرافیائی و سیاسی ہم آہنگی موجود ہے اور اگر تہران بات کرے تو حوثی یقینا بات سنیں گے۔لہٰذاسعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان مذاکرات میں ایران کو شامل کرنے سے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔اگر ریاض کو کوئی تحفظات ہوں تو پاکستان جس کے سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ رابطے قائم ہیں کو بھی اس عمل میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔عمان بھی ثالثی کرنیوالا ایک اور فریق ہو سکتا ہے کیونکہ اس سلطنت کے ریاض اور تہران دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور حوثیوں کے ساتھ بھی اس کا رابطہ برقرار ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مسلم ممالک عرب اور غیر عرب یمن کے اندر اور سعودی عرب و انصار اللہ کے مابین کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔امریکہ نے یمن میں دوبارہ عسکری مداخلت کی دھمکی دی ہے۔یہ اقدام ایک بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی کافی نقصان پہنچا چکا ہے، اور اب امن عمل کی قیادت خطے کے ممالک کو ہی کرنی چاہیے ۔ چاہے ایران کی پیشکش قبول کی جائے یا پاکستان اور عمان مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی نئی کوشش کریں ، دیرپا امن کے قیام کیلئے چند اہم نکات کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔اول یہ کہ سعودی عرب اور یمن کی باہمی سلامتی کو ترجیح دی جائے اور ہوائی اڈوں جیسے شہری اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔اس کے بعد عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا جانا چاہیے تاکہ دونوں فریقین کو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی میز پر آنے کا موقع مل سکے۔یمن کے اندر پائیدار امن کا حصول صرف اسی صورت ممکن ہے جب امن عمل کی قیادت اور ملکیت خود یمنی عوام کے ہاتھ میں ہو۔اس طرح کا معاہدہ یمن میں انسانی بحران کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں امن قائم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے ۔ تاہم کسی بھی فریق کی جانب سے کشیدگی میں اضافہ یمن کے تنازع کو ایک علاقائی جنگ میں تبدیل کر سکتا ہے ایک ایسی صورتحال جسے روکنے کیلئے امن کے تمام ثالثوں کو اپنی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔
آثار قدیمہ کی دریافت
ایک پہاڑی کو ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ قبل کھنڈرات کے ناقابل ذکر ڈھیر کے طور پر مسترد کر دیا گیا تھا جس سے ٹیکسلا کی سب سے دلچسپ آثار قدیمہ کی دریافت ہوئی ہے۔اطالوی ماہرین آثار قدیمہ کی سربراہی میں جنڈیال میں کھدائی نے تقریباًسومیٹر لمبا اورپچاس میٹر سے زیادہ چوڑا ڈھانچہ بے نقاب کیا ہے۔یہ قدیم شہر سرکاپ کی دیواروں کے باہر جنڈیال کے یونانی طرز کے Ionic مندر سے ایک قدیم سڑک پر واقع ہے۔کیا یہ عبادت گاہ تھی،عوامی عمارت تھی یا کسی بڑے کمپلیکس کا حصہ؟ ابھی تک کوئی نہیں جانتا۔یہ غیر یقینی صورتحال بالکل وہی ہے جو دریافت کو دلچسپ بناتی ہے۔ٹیکسلا لوگوں،عقائداور تعمیراتی روایات کے ملنے کی جگہ تھی، اور نئی دریافت ہونیوالی باقیات یہ بتانے میں مدد کر سکتی ہیں کہ اس کی کمیونٹیز نے شہر کی دیواروں سے باہر اپنی زندگیوں کو کس طرح منظم کیا۔یہ تلاش بھیر ٹیلے میں گزشتہ سال کی دریافتوں کے بعد ہوئی ہے جس نے اس بارے میں تازہ سوالات اٹھائے کہ اس خطے میں شہری زندگی کی ابتدائی ترقی کیسے ہوئی۔آثار قدیمہ کے ماہرین کو یادگار کی عمر،مقصد اور پڑوسی مقامات کے ساتھ تعلق قائم کرنے کیلئے وقت درکار ہے۔ان کے نتائج بشمول منصوبوں،تصاویر اور سائنسی جائزوں کو محققین اور عوام کیلئے قابل رسائی بنایا جانا چاہیے۔ممکنہ شواہد کے غائب ہونے سے پہلے حکام کو ارد گرد کی زمین کو تعمیرات اور تجاوزات سے بچانا چاہیے۔اس سال کے شروع میں یونیسکو کے خدشات کے پیش نظر یہ خاص طور پر اہم ہے کہ موہڑہ موراڈو اور سرکاپ میں بحالی کے کام نے ان کی قدیم باقیات کی صداقت پر سمجھوتہ کیا ہے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں