(گزشتہ سے پیوستہ)
بینظیر بھٹو کے دوسرے دور میں پیپلز پارٹی نے پیر صابر شاہ کی مسلم لیگ(ن)کی مخلوط حکومت کیخلاف جو اکتوبر 1993 سے قائم تھی 7 فروری 1994 کو عدم اعتماد کی تحریک پیش کی۔ 23 فروری کو اسمبلی میں ہاتھا پائی ہوئی وزیراعلیٰ پیر صابر شاہ کی حکومت کو شکست کا خطرہ تھا اس لئے مسلم لیگ(ن)کی پارلیمانی پارٹی نے اپنے منحرف ارکان کو پارٹی سے نکال کر نااہل قرار دینے کا فیصلہ کیا۔ سپیکر نے ان ارکان کو اجنبی قرار دیکر ایوان سے باہر نکالنے کا حکم دیا جس پر اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی اور مارکٹائی ہوئی اور تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ ہو سکی اور 25 فروری کو صدر فاروق لغاری نے اسمبلی معطل کر کے اختیارات گورنر خورشید علی خان کو سونپ دیے۔ مگر یہ معاملہ بالآخر سڑک پر نہیں، اسمبلی کے فلور پر طے ہوا: 24 اپریل کو سپریم کورٹ کے حکم پر ہونیوالی عدم اعتماد کی ووٹنگ کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے آفتاب احمد خان شیرپا، شہید حیات شیرپا کے چھوٹے بھائی، وزیر اعلی بنے۔نواز شریف کی دوسری حکومت سندھ میں مسلم لیگ(ن)اور ایم کیو ایم کے اتحاد کے ذریعے وزیر اعلیٰ لیاقت علی جتوئی کی صورت میں حکومت کر رہی تھی۔ 17 اکتوبر 1998 کو مخیر شخصیت اور سابق گورنر حکیم محمد سعید کراچی کے علاقے آرام باغ میں قتل کر دیے گئے۔ حکومت نے ایم کیو ایم کو ذمہ دار ٹھہرایا، جو اتحاد سے نکل گئی ۔ 30 اکتوبر کو ایک وفاقی حکم نامے کے ذریعے گورنر لیفٹیننٹ جنرل(ر)معین الدین حیدر کو صوبے کے اختیارات سنبھالنے کی ہدایت کی گئی، اور وہ سندھ کے چیف ایگزیکٹو بن گئے۔ حکم نامے میں خود “بیرونی یا اندرونی تخریب کاری کا مقابلہ کرنے” اور “اہم قومی اداروں کو بیرونی اور اندرونی خطرات سے بچانے” کی بات کی گئی تھی۔ جون 1999 میں معین الدین حیدر کی جگہ ممنون حسین گورنر بنے اور سید غوث علی شاہ چیف ایگزیکٹو، اور یہ بندوبست 12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف کی بغاوت کے ساتھ ہی ختم ہوا۔ جس حکومت نے سندھ کو گورنر کے حوالے کیا تھا، ایک سال بعد خود ایک جرنیل کے حوالے ہو گئی۔25 فروری 2009 کو سپریم کورٹ نے نواز شریف اور ان کے بھائی، وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف، کو نااہل قرار دیا۔ اسی روز صدر زرداری نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی ایڈوائس پر گورنر سلمان تاثیر کی سربراہی میں دو ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کیا۔ نااہلی کا فیصلہ عدالت کا تھا؛ حکومت نے آئینی خلا پر کیا، اور اسمبلی کو توڑا نہیں گیا، صرف وزیر اعلی اور کابینہ کو عہدے سے روکا گیا۔ 30 مارچ کو گورنر راج اٹھا لیا گیا اور شہباز شریف دوبارہ وزیر اعلی بنے۔ تقریبا ایک ماہ میں گورنر راج کا خاتمہ اس بات کا ثبوت تھا کہ حکومت نے ضد کے بجائے مفاہمت کا راستہ چنا۔10 جنوری 2013 کو کوئٹہ کی علمدار روڈ پر ایک سنوکر ہال میں خودکش دھماکوں میں نوے سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں اکثریت شیعہ ہزارہ کی تھی۔ لشکرِ جھنگوی نے ذمہ داری قبول کی۔ ہزارہ برادری نے اپنے پیاروں کو دفنانے سے انکار کر دیا اور تین دن تک کڑاکے کی سردی میں اپنے پیاروں کی میتوں کے ساتھ دھرنا دیے بیٹھی رہی، مطالبہ یہ تھا کہ شہر فوج کے حوالے کیا جائے، جبکہ پورے ملک میں احتجاج پھیل گیا۔ پیپلز پارٹی کے وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی ملک سے باہر تھے۔ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف خود کوئٹہ پہنچے اور 13 جنوری کی رات ہزارہ برادری کے نمائندوں کے سامنے آرٹیکل 234 کے نفاذ کا اعلان کیا۔ 14 جنوری کو گورنر نواب ذوالفقار علی مگسی کے تحت گورنر راج نافذ ہوا، جو 13 مارچ 2013 تک رہا۔ پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے اپنی ہی جماعت کا وزیر اعلی ہٹایا، اور شاید پاکستان کی تاریخ کا یہ واحد گورنر راج ہے جو اقتدار کی کشمکش کے بجائے سوگواروں کے آنسوں کے جواب میں لگا۔سہیل آفریدی 13 اکتوبر 2025 کو اس وقت وزیر اعلی منتخب ہوئے جب علی امین گنڈاپور نے عمران خان کی ہدایت پر استعفی دیا، اور ان کا حلف بھی پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر ہی ہو سکا۔ پہلے دن سے انہوں نے نئے فوجی آپریشنوں کی مخالفت کی، دہشت گردی کی واپسی کا ذمہ دار وفاق کی ناقص پالیسیوں کو ٹھہرایا اور کابل سے مذاکرات کی وکالت کی۔ جواب میں فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے صوبے میں سیاسی دہشت گرد گٹھ جوڑ کی بات کی۔ تشدد کے اعداد حقیقی ہیں۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق ملک بھر میں دہشت گردی سے ہلاکتیں 2024 میں 2,555 سے بڑھ کر 2025 میں 3,417 ہو گئیں، اور اس اضافے کا چار بٹا پانچ سے زیادہ حصہ خیبر پختونخوا کا تھا۔4اکتوبر کو تحریک انصاف نے عمران خان کی رہائی کیلئے لانگ مارچ شروع کیا جس کی قیادت صوبے میں آفریدی خود کر رہے تھے۔ اس سے ایک دن پہلے، 3 اکتوبر کو، حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر ٹوٹ چکے تھے۔ نفاذ سے ایک روز قبل آفریدی نے کہا کہ ان سے ایک دستاویز پر دستخط کا کہا گیا اور انہوں نے انکار کر دیا۔ 11 اکتوبر کو وفاقی کابینہ نے صوبائی حکومت کی “دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی” کا حوالہ دیا اور صدر نے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) نافذ کیے۔کسی پچھلے گورنر راج میں غیر ملکی سوال اتنا مرکزی نہیں رہا جتنا اس میں ہے۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔ اکتوبر 2025 میں دونوں ملکوں کے درمیان 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سب سے ہلاکت خیز سرحدی جھڑپیں ہوئیں، 19 اکتوبر کو قطر اور ترکیہ کی ثالثی سے دوحہ میں جنگ بندی ہوئی، اور مہینے کے آخر میں استنبول مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے۔ ایمرجنسی کی منظوری دینے والے کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان بارہا افغانستان سے دہشت گرد عناصر کو لگام دینے کا کہہ چکا ہے، مگر “وہ اب بھی نہیں سمجھتے”۔ وفاق کو افغان طالبان سے مذاکرات کے بارے میں خیبر پختونخوا کے موقف پر اعتراض ہے، جبکہ صوبائی جرگہ مطالبہ کر چکا ہے کہ اسلام آباد کابل سے بات چیت کو ترجیح دے اور افغان پالیسی پر صوبے کو اعتماد میں لے۔آئینی حساب کتاب اس میں ایک اور پرت جوڑتا ہے۔ چونکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد اندرونی خلفشار کی بنیاد پر ایمرجنسی کیلئے یا صوبائی اسمبلی کی قرارداد چاہیے،جو تحریک انصاف کی اکثریت والی اسمبلی کبھی منظور نہیں کرے گی، یا پارلیمان کی منظوری، اس لیے خطرے کا بیرونی پہلو محض سیاسی بیان بازی نہیں رہتا؛ یہ وہ قانونی محور بن سکتا ہے جس پر اس اعلان کا کھڑا رہنا یا گرنا منحصر ہو۔ ناقدین، جن میں تحریک تحفظ آئین پاکستان بھی شامل ہے، پیپلز پارٹی کو اس کی تاریخ یاد دلا رہے ہیں۔ مگر یہی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جس جماعت نے یہ حفاظتی دیواریں کھڑی کیں، اسی کے پاس اب انہیں عزت دینے کی ذمہ داری ہے۔اب جبکہ صدارت بھی پیپلز پارٹی کے پاس ہے اور پشاور کا گورنر ہاس بھی، اس کے سامنے ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ ثابت کرے کہ یہ گورنر راج روایت کا تسلسل نہیں بلکہ اس سے انحراف ہے۔ دو ماہ کی مہلت کو مذاکرات کے لیے استعمال کیا جائے، دہشت گردی کے خلاف صوبے کو ساتھ ملایا جائے، اور منتخب حکومت کو جلد از جلد بحال کیا جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ گورنر ہاس سے صوبے چلائے جا سکتے ہیں، دل نہیں جیتے جا سکتے۔(ختم شد)






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں