پاکستان میں آئی پی پیز یعنی بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں کے ساتھ کیے گئے معاہدے اس وقت ملکی معیشت اور عوام کے لیے سب سے بڑا بوجھ بن چکے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں “معیشت کیلئے زہرِ قاتل” قرار دیا جا رہا ہے۔عوام اور ماہرینِ معیشت کی جانب سے ان معاہدوں پر شدید ترین تنقید کی بڑی وجوہات میں ایک وجہ کپیسیٹی چارجز کا ظالمانہ نظام ہے ۔ان معاہدوں کی سب سے متنازع شرط “کپیسیٹی پیمنٹ” ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت پاکستان ان نجی کمپنیوں کو بجلی خریدنے یا نہ خریدنے، دونوں صورتوں میں اربوں روپے ادا کرنے کی پابند ہے۔ اگر کوئی بجلی گھر بند بھی پڑا ہو، تب بھی اس کی پیداواری صلاحیت کا کرایہ (کپیسیٹی چارج) عوام کے بجلی کے بلوں سے نچوڑا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈالرز میں ادائیگیاں اور مہنگی بجلی زیادہ تر آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے امریکی ڈالر کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔ جیسے جیسے ڈالر مہنگا ہوتا ہے، بجلی کی قیمت خود بخود بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، فرنس آئل اور درآمدی کوئلے پر چلنے والے پلانٹس کی وجہ سے پاکستان میں بجلی کی پیداواری لاگت دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ملکی معیشت اور سرکولر ڈیٹ کا بحرانحکومت کی جانب سے آئی پی پیز کو وقت پر ادائیگیاں نہ کرنے کی وجہ سے ملک میں گردشی قرضہ کھربوں روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس بحران کو ٹالنے کے لیے حکومت مسلسل آئی ایم ایف کی شرائط پر بجلی کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں اضافہ کرتی ہے، جس کا پورا بوجھ غریب اور مڈل کلاس عوام پر پڑتا ہے۔پاکستان میں اس وقت بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت ملک کی مجموعی طلب سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ضرورت سے زیادہ بنائے گئے ان بجلی گھروں کو بھی حکومت صرف “موجود رہنے” کا بھاری معاوضہ ادا کر رہی ہے، جو ملکی خزانے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے ان “اندھے معاہدوں” کے خلاف ملک گیر احتجاج اور دھرنے دیے جا رہے ہیں۔ عوامی دباؤ اور معاشی تباہی کے پیشِ نظر اب حکومت پر شدید دباؤ ہے کہ وہ ان آئی پی پیز کے مالکان کے ساتھ بیٹھ کر معاہدوں پر نظرثانی کرے یا انہیں فوری طور پر ریوائز کرے تاکہ عوام کو سستی بجلی فراہم کی جا سکے اور معیشت کو اس زہرِ قاتل سے بچایا جا سکے۔آئی پی پیز کے حکومت پاکستان کے ساتھ معاہدے منظر عام پر لانے کا مطالبہ تحریک بنتا جا رہا ہے ۔جماعت اسلامی نے راولپنڈی اور کراچی میں احتجاجی دھرنے دیئے۔محترم لیاقت بلوچ، نائب امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ہاتھوں یرغمال حکومت پاکستان نے بجلی کے بلوں میں کئی سو گنا اضافہ کر کے عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبورکر دیا ،کہیں بھائی کے ہاتھوں بھائی قتل تو کہیں لوگ ادویات کے پیسے بجلی کے بلوں میں خرچ ہونے پر خودکشی کرنے پر مجبورہیں۔بجلی کے بلوں کی ادائیگی وبال جان بن گئی ہے ،لوگ حکومت کو بدعائیں دیتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں بجلی پیدا کرنیوالے نجی ادارے آئی پی پیز کو کی جانے والی کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگیوں کو لے کر ایک وبال کھڑا ہے۔ عوام سوال کر رہے ہیں کہ یہ کارخانے بجلی بناتے ہی نہیں تو ان کو اربوں روپے کی ادائیگیوں کی کیا ضرورت ہے۔ یہ الزام بھی ہے کہ ان آئی پی پیز کے پیچھے دراصل ملک کی اشرافیہ بشمول سیاستدان اور کاروباری شخصیات ہیں جو بے جا فائدہ اٹھا رہے ہیں بعض حکومتی عہدیداروں کے عزیز واقارب اور رشتہ دار بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ گنے کے پھوک سے چلنے والے بجلی کے کارخانوں کو صرف اس بجلی کی قیمت ادا کی جاتی ہے جو گرڈ کو دی جاتی ہے اور اگر پلانٹ نہیں چل رہا تو اسے ادائیگی نہیں کی جاتی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا واقعی بیگاس سے چلنے والے بجلی گھروں کو کپیسِٹی پیمنٹ نہیں کی جاتی۔ملک میں موجود آئی پی پیز کے مالکان کون ہیں۔ پاکستان کی بااثر سیاسی شخصیات اور اس کے عزیز و اقارب بھی آئی پی پیز معاہدوں سے اربوں روپے کمانے والوں میں سرفہرست ہیں۔نیپرا کے سابق چیئرمین توصیف فاروقی نے آئی پی پیز پر اٹھنے والے شو ر پر لب کشائی کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ادائیگیاں تو گزشتہ کئی برسوں سے کی جا رہی ہیں لیکن اس پر کبھی کوئی بحث نہیں ہوئی تاہم جب ڈالر ریٹ بڑھا اور ادائیگیوں کی مالیت بہت زیادہ بڑھنے کی وجہ سے صارفین پر بوجھ پڑا تو پھر یہ بحث شروع ہوئی کہ یہ ادائیگیاں کیسے صارفین پر بوجھ بن رہی ہیں جس حساب سے یہ پلانٹس لگائے گئے اگر پاکستان کی معیشت سات فیصد کی شرح سے ہر سال ترقی کرے تو پھر بجلی کی اتنی زیادہ کھپت ہو سکتی ہے لیکن معیشت میں یہ گروتھ نہیں ہو سکی اور یہ مسئلہ بن گیا، ڈالر کی قیمت بڑھنے کے ساتھ ادائیگیوں کا حجم بھی بڑھا اور عوام پر بوجھ بڑھ گیا۔ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کیلئے سیدھا راستہ یہی ہے کہ وہ مطالبات تسلیم کرلیں ورنہ احتجاج کا دائرہ کار بڑھتا جائے گا۔اگر مذاکرات میں سچ جھوٹ اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنا ہے تو پھر میڈیا کے سامنے مذاکرات کرلو، بجلی بلوں سے فیکٹریاں بند، گھریلو نظام مفلوج، لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبورہیں، تاجر اوربزنس کمیونٹی پاکستان چھوڑ کر بھاگ رہی ہے، لاکھوں لوگ بیروزگار ہیں چند حکومتی لٹیرے آئی پی پیز کے نام پر خزانے کو دیمک کی طرح خالی کررہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں شروع ہونے والا دھندہ پرویز مشرف دور اور پھر ن لیگ کے دور میں بھی جاری رہا اور اب تک جاری ہے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں