بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 28.2°C
Tuesday, 16 June 2026 | پاکستان: 1 محرم 1448

بجٹ کے بعد: عوامی امیدیں اور حکومت کا امتحان

Tuesday, 16 June, 2026

بجٹ 2026-27 کے حوالے سے ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستانی عوام اب محض اعلانات اور وعدوں سے مطمئن ہونے کو تیار نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے ہر حکومت اپنے بجٹ کو عوام دوست، ترقی پسند اور معاشی استحکام کا ضامن قرار دیتی رہی ہے، لیکن زمینی سطح پر عام آدمی کی مشکلات میں خاطر خواہ کمی نظر نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال بھی عوامی ردعمل کا مرکز بجٹ میں شامل اعداد و شمار نہیں بلکہ اس کے ممکنہ اثرات ہیں۔ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا ان کی زندگی آسان ہوگی یا نہیں، ان کے گھریلو اخراجات میں کمی آئے گی یا نہیں، اور کیا ان کے بچوں کے مستقبل کیلئے نئے مواقع پیدا ہوں گے یا نہیں ۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان میں متوسط طبقہ سب سے زیادہ دبا کا شکار ہے ۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی مہنگائی، دوسری طرف محدود آمدنی اور تیسری جانب مسلسل بڑھتے یوٹیلٹی بلز نے اس طبقے کی معاشی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ ماضی میں متوسط طبقہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا، لیکن آج یہی طبقہ مالی مشکلات کے باعث شدید ذہنی دبا کا شکار ہے۔ بجٹ کے موقع پر اس طبقے کی سب سے بڑی امید یہی تھی کہ حکومت ایسے اقدامات کرے گی جو ان کے معاشی بوجھ میں کمی لا سکیں۔ اگرچہ بعض ٹیکس ریلیف اور تنخواہوں میں اضافے کے اعلانات کیے گئے ہیں، تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ اقدامات موجودہ مہنگائی کے تناسب سے کافی ہیں؟ اسی طرح ملک کے لاکھوں پنشنرز بھی بجٹ سے بڑی توقعات وابستہ کیے ہوئے تھے۔ زندگی بھر سرکاری خدمات انجام دینے والے یہ افراد آج بڑھتی ہوئی ادویات کی قیمتوں، علاج معالجے کے اخراجات اور روزمرہ ضروریات کی مہنگائی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے لیے بجٹ میں دیا جانے والا ریلیف محض ایک مالی سہولت نہیں بلکہ ان کی زندگی کے معیار سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اگر پنشنرز کو مناسب تحفظ فراہم نہ کیا جائے تو وہ معاشی طور پر مزید کمزور ہو سکتے ہیں ۔پاکستان کی معیشت کا ایک اور اہم ستون چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ہیں ۔ یہ شعبہ لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے اور ملکی اقتصادی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم موجودہ معاشی حالات میں یہ کاروبار بھی شدید دبا کا شکار ہیں۔ بجلی، گیس، کرایوں اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کاروباری لاگت میں اضافہ کر دیا ہے۔ بہت سے چھوٹے کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ اگر حکومت انہیں مزید سہولیات فراہم نہ کر سکی تو کاروبار چلانا مشکل ہو جائے گا۔ اس تناظر میں بجٹ سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ کاروباری برادری کیلئے ایسی پالیسیاں متعارف کروائی جائیں گی جو سرمایہ کاری کو فروغ دیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں۔ تعلیم اور صحت جیسے شعبے بھی بجٹ کی ترجیحات میں نمایاں مقام کے مستحق ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس کے انسانی وسائل پر ہوتا ہے ۔ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور شہریوں کو بہتر صحت کی سہولتیں میسر نہ ہوں تو معاشی ترقی کے دعوے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں آج بھی لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں سہولتوں کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ بجٹ کے تناظر میں توانائی کا شعبہ بھی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ صنعتی اور تجارتی شعبوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ توانائی کے بلند اخراجات پیداواری لاگت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں جس کے اثرات بالآخر عام صارف تک پہنچتے ہیں۔ اگر حکومت توانائی کے شعبے میں موثر اصلاحات لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے مثبت اثرات پوری معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں ۔ عالمی سطح پر بھی معاشی حالات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھا، علاقائی تنازعات اور عالمی منڈیوں کی صورتحال براہ راست پاکستان کی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ بجٹ کو صرف ملکی تناظر میں نہیں بلکہ عالمی معاشی حالات کے پس منظر میں بھی دیکھنا ضروری ہے۔ حکومت کیلئے چیلنج یہ ہے کہ وہ بیرونی دبا کے باوجود داخلی معاشی استحکام کو برقرار رکھے اور عوامی مشکلات میں کمی لانے کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کرے۔ اس تمام صورتحال میں سب سے اہم عنصر عوامی اعتماد ہے۔ معیشت صرف اعداد و شمار سے نہیں چلتی بلکہ سرمایہ کاروں، تاجروں اور عوام کے اعتماد سے بھی مضبوط ہوتی ہے۔ اگر عوام کو یقین ہو کہ حکومتی پالیسیاں ان کی زندگی میں بہتری لائیں گی تو وہ معاشی سرگرمیوں میں زیادہ فعال کردار ادا کرتے ہیں لیکن اگر اعتماد کمزور ہو جائے تو معاشی اصلاحات کے نتائج بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ آج پاکستان ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں معاشی استحکام کو عوامی خوشحالی میں تبدیل کرنا سب سے بڑا امتحان ہے۔ بجٹ 2026-27 کو بھی اسی پیمانے پر پرکھا جائیگا۔ اگر آنے والے مہینوں میں مہنگائی میں کمی، روزگار کے مواقع میں اضافہ، سرمایہ کاری میں بہتری اور عوامی مشکلات میں واضح کمی نظر آتی ہے تو یہ بجٹ کامیاب قرار پائے گا۔ لیکن اگر عام آدمی کی زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ آئی تو تمام معاشی اہداف اور اعداد و شمار اپنی اہمیت کھو بیٹھیں گے۔ پاکستان کے عوام کی خواہش بہت سادہ ہے۔ وہ ایک ایسا معاشی نظام چاہتے ہیں جہاں محنت کا صلہ ملے، روزگار دستیاب ہو، تعلیم اور صحت کی سہولتیں بہتر ہوں، مہنگائی قابو میں ہو اور مستقبل کے حوالے سے امید پیدا ہو۔ یہی وہ خواب ہے جو ہر بجٹ کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے اور یہی وہ معیار ہے جس پر ہر حکومت کی معاشی کارکردگی کو جانچا جاتا ہے۔ وقت ثابت کرے گا کہ بجٹ 2026-27 عوامی توقعات پر کس حد تک پورا اترتا ہے، لیکن یہ حقیقت مسلم ہے کہ معاشی استحکام کی اصل منزل عوامی خوشحالی ہی ہے، اور جب تک اس منزل کو حاصل نہیں کیا جاتا، ترقی کے تمام دعوے ادھورے تصور کیے جائیں گے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *