بھارت میں مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور حملوں میں دو سال کے دوران تقریباً 97 فیصد کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ڈوئچے ویلے اردو اور دیگر بین الاقوامی و ملکی رپورٹس کے مطابق، نفرت انگیز واقعات کی تعداد 2023 میں 668 سے بڑھ کر 2025 میں 1,318 تک پہنچ گئی ہے۔ دو سال کے عرصے میں نفرت انگیز بیانات اور حملوں میں 97 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔سال 2023 میں ایسے 668 واقعات ہوئے تھے، جو 2025 میں بڑھ کر 1,318 ہو گئے۔ان کارروائیوں اور تعصب کا سب سے زیادہ نشانہ بھارت کی مسلمان اقلیت بنی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور نفرت انگیز رویوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔جنیوا کے انسانی حقوق کے ادارے ”اریت اکیڈمی” نے ایک جامع اور تہلکہ خیز رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بھارت میں رہنے والے تقریباً 20 کروڑ مسلمانوں کے خلاف گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہونے والے منظم امتیازی سلوک، ریاستی سطح پر سرپرستی میں ہونے والی بربریت اور قانونی تعصب کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ہیٹ اسپیچ میں خطرناک حد تک اضافہ رائٹرز کی جانب سے نقل کردہ ”انڈیا ہیٹ لیب” کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریرکے واقعات 2023ء میں 668 سے بڑھ کر 2025ء میں 1,318 ہو گئے ہیں، جو دو سال کے قلیل عرصے میں تقریباً 97 فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، 2025ء کے کل واقعات میں سے 1,164 واقعات بی جے پی کے زیرِ حکومت ریاستوں میں پیش آئے، جن میں اتر پردیش سرفہرست ہے۔شہریت کا متنازع قانون اور آسام کے شہریت سے اخراج کا معاملہ رپورٹ کا ایک بنیادی حصہ 2019ء کے شہریت ترمیمی قانون کا احاطہ کرتا ہے، جو افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے چھ غیر مسلم مذاہب کے لوگوں کو تو شہریت کا آسان راستہ فراہم کرتا ہے لیکن مسلمانوں کو اس سے صریحاً محروم رکھتا ہے۔ اس میں مزید بتایا گیا ہے کہ تقریباً انیس لاکھ افراد، جن میں اکثریت بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی ہے، کو آسام کے حتمی نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز سے باہر کر دیا گیا، جس سے ان کے بے وطن ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔دہلی کے 2020ء کے فسادات اور پولیس کا کردار رپورٹ میں فروری 2020ء میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جن میں ہیومن رائٹس واچ کی دستاویزات کے مطابق کم از کم 53 افراد ہلاک ہوئے اور ان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ ایچ آر ڈبلیو کی 82 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ پولیس اہلکار یا تو مسلم شہریوں پر حملوں میں براہِ راست شریک رہے یا انہیں روکنے میں ناکام رہے۔ رپورٹ میں گجرات کے 2002ء کے فسادات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جنہیں مودی کے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں پیش آنے والا ایک ایسا نمونہ قرار دیا گیا ہے جہاں تشدد کے بعد مجرموں کو کھلی چھوٹ دی گئی، اور ایسے ہی ہتھکنڈے 2013ء کے مظفر نگر اور 2020ء کے دہلی فسادات میں بھی دہرائے گئے۔”بلڈوزر جسٹس” اور جائیدادوں کی بڑے پیمانے پر مسماری رپورٹ کے سب سے زیادہ تفصیلی حصوں میں سے ایک مسلم ملکیت کے گھروں اور کاروباروں کی غیر قانونی مسماری ہے، جسے بھارت میں عام طور پر ”بلڈوزر جسٹس” کہا جاتا ہے۔ ہاؤسنگ اینڈ لینڈ رائٹس نیٹ ورک کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف 2022ء سے 2023ء کے دوران 7 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد کو بے گھر کیا گیا اور ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک الگ تحقیق میں 2020ء سے 2022ء کے درمیان متعدد ریاستوں میں تقریباً 2,840 جائیدادوں کی مسماری کا دستاویزی ثبوت دیا گیا ہے۔حراستیں، یو اے پی اے کے تحت مقدمات اور سزاؤں کی انتہائی کم شرح رپورٹ میں بھارت کے انسدادِ دہشت گردی کے کالے قانون ”غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ” کی کڑی تنقید کی گئی ہے، جسے کارکنوں، طلبائ اور صحافیوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ 2016ء سے 2019ء کے درمیان UAPA کے مقدمات میں سزاؤں کی شرح محض 2.2 فیصد رہی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قانون مجرموں کو سزا دینے کے لیے نہیں بلکہ طویل قیدِ باجماعت اور زیرِ حراست رکھنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔روہنگیا مہاجرین اور دیگر کمزور طبقات رپورٹ میں میانمار سے نسل کشی کے باعث جان بچا کر بھارت آنیوالے تقریباً 40,000 روہنگیا مہاجرین کی ابتر حالت زار کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے کچھ روہنگیا افراد کے خلاف ملک بدری کی کارروائیاں شروع کی ہیں جو کہ بین الاقوامی اصولِ عدمِ واپسی کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ مطالعے میں 2022ء کے کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی اور ”لو جہاد” کے نام پر بنائے جانیوالے جبری تبدیلیِ مذہب کے قوانین کا بھی جائزہ لیا گیا ہے، جو رپورٹ کے مطابق غیر متناسب طور پر مسلم خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں