اقوام متحدہ کے تین خصوصی نمائندوں نے بھارتی حکومت کے نام کھلا خط لکھا ہے جس میں لاکھوں مسلمانوں کا نام ووٹر فہرستوں سے نکالنے پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں تقریباً 91 لاکھ نام انتخابی فہرستوں سے حذف کرنے کے الزامات ہیں، 12 ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 5 کروڑ 20 لاکھ نام حذف کرنے کے الزامات ہیں۔ مسلم اور بنگالی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو خصوصاً ٹارگٹ کرکے فہرستوں سے نکالا گیا ہے، نندی گرام میں حذف ووٹرز میں 95 فیصد مسلمان تھے جبکہ حلقے میں مسلم ووٹر 25 فیصد تھے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں سے بڑے پیمانے پر نام حذف کرنے سے اقلیتیں، خصوصاً مسلمان متاثر ہوئے ہیں، بی جے پی کے سرکاری نمائندے اپنی تقاریر سے امتیازی رویوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ انتخابی عمل میں امتیازی سلوک نہ ہونے کی تفصیلات فراہم کی جائیں، 34 لاکھ اپیلون کو مغربی بنگال کے اپریل 2026 کے الیکشنز سے پہلے حل نہ کیا جاسکا جبکہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کو من پسند انتخابی عمل کے لیے استعمال کیا گیا۔اقوام متحدہ نے بھارت سے انتخابی فہرستوں میں شفافیت، غیرجانبداری یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ الزامات درست ہوئے تو یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہوں گی۔ اقوام متحدہ کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ انتخابی فہرستوں سے لاکھوں نام حذف کیے جانے کے الزامات موصول ہوئے ہیں، جن میں مذہب اور نسلی بنیادوں پر ممکنہ اخراج کے دعوے بھی شامل ہیں،اقوامِ متحدہ نے بھارت سے مذہب اور نسلی بنیاد پر حذف کیے گئے ووٹروں کا تفصیلی ڈیٹا طلب کیا ہے۔مسلم اور بنگالی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو خصوصا نشانہ بنا کر انتخابی فہرستوں سے نکالے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ نندی گرام کے علاقے میں حذف شدہ ووٹرز میں 95 فیصد مسلمان ہونے کا دعوی کیا گیا، جبکہ حلقے میں مسلم ووٹرز کی تعداد 25 فیصد بتائی گئی۔مراسلے میں بھارتی حکومت سے انتخابی عمل میں امتیازی سلوک نہ ہونے کی تفصیلات فراہم کرنے، متاثرہ ووٹروں کیلئے موثر قانونی چارہ جوئی اور حقِ رائے دہی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے حالیہ خدشات مغربی بنگال میں بڑے پیمانے پر انتخابی فہرستوں کی نظرثانی (ووٹر لسٹوں کی پڑتال) سے متعلق ہیں، جہاں اقوامِ متحدہ کے خصوصی مبصرین نے ووٹر لسٹوں سے لاکھوں نام خارج کیے جانے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل سے مسلمان اور دیگر اقلیتی برادریاں غیر متناسب طور پر بہت زیادہ متاثر ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ خاص طور پر یہ الزامات انتہائی تشویشناک ہیں کہ کچھ حلقوں میں نکالے گئے ووٹرز کی ایک بہت بڑی تعداد مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھی، جبکہ مقامی ووٹرز میں ان کا تناسب بہت کم تھا۔ اسی طرح سینئر بھارتی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر استعمال کی جانے والی زبان بھی اتنی ہی پریشان کن تھی۔ اقوامِ متحدہ کے مراسلے کے مطابق عوامی سطح پر ”غیر قانونی بنگلادیشی تارکینِ وطن” کی شناخت کے حوالے اور ”تلاش کرو، خارج کرو اور ملک بدر کرو” جیسی پالیسی کی وکالت کرنے والے نعرے بھارتی مسلمان شہریوں کو غیر ملکی باشندوں کے ساتھ گڈ مڈ کرنے کا سبب بنتے ہیں، جس سے پوری مذہبی برادری کے خلاف امتیازی رویوں کو جواز ملتا ہے۔ ایسی نعرے بازی کے اثرات انتخابی انتظام و انصرام سے کہیں آگے تک جاتے ہیں۔ جب حکومتیں شہریت کی تعریف مذہب یا نسل کے چشمے سے کرنے لگیں تو عوامی اداروں کے خود بھی برابر تحفظ فراہم کرنے کے بجائے تفریق پیدا کرنے کا ذریعہ بن جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ان واقعات کو الگ تھلگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ جب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) برسرِ اقتدار آئی ہے، مذہبی اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے خدشات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ شہریت ترمیمی ایکٹ ، مجوزہ نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنز ، مسلم برادریوں پر اثر انداز ہونے والی پابندیاں، انتہا پسند گروپوں کے حملے، مسلم محلوں کو نشانہ بنانے والی مسماری مہم اور بار بار کی جانے والی فرقہ وارانہ نعرے بازی نے مل کر ایک ایسا سلسلہ بنا دیا ہے جس پر اب بین الاقوامی سطح پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ انفرادی طور پر تو حکومت ہر اقدام کا انتظامی یا قانونی بنیادوں پر دفاع کر سکتی ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ ایک ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جسے نظر انداز کرنا اب کئی مبصرین کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔بھارت طویل عرصے سے خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر پیش کرتا رہا ہے، یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو وقار کے ساتھ ساتھ ذمہ داریاں بھی لاتا ہے۔ جمہوری جواز صرف وقتاً فوقتاً انتخابات کرانے پر منحصر نہیں ہوتا۔ اس کے لیے یکساں شہریت، غیر جانبدار ادارے، آزاد عدالتی نگرانی اور اس یقین دہانی کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہر اہل شہری مذہب، نسل یا سیاسی شناخت کی بنیاد پر کسی بھی امتیاز کے بغیر انتخابی عمل میں حصہ لے سکے۔ انتخابی نظام اس وقت اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں جب معاشرے کا ایک بڑا حصہ یہ سمجھنے لگے کہ انتظامی طریقہ کار کو چن چن کر ان کیخلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔اس کے اثرات بھارت کی سرحدوں سے باہر تک پھیلے ہوئے ہیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں