بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 28.2°C
Wednesday, 08 July 2026 | پاکستان: 23 محرم 1448

بھارت میں دنیاکے سب سے بڑے قتل عام کا خدشہ

Wednesday, 8 July, 2026

مودی کے زیر اقتدار بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف جاری نفرت انگیز جرائم اور ریاستی ظلم و ستم نے بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ دنیا کے سامنے مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جس سے مودی سرکار میں ہلچل مچ گئی ہے۔انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر کی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2026 کے ابتدائی 4 مہینوں کے دوران بھارت کی 8 ریاستوں میں ہندو انتہا پسندوں نے منصوبہ بندی کے تحت 13 مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کر دیا ہے ۔ ساو¿تھ ایشیا جسٹس کمپین کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں ہجومی تشدد اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جعلی پولیس مقابلوں اور دورانِ حراست مشکوک ہلاکتوں کے ذریعے 4 مسلمانوں کی جانیں لی گئیں۔واضح رہے کہ بھارتی مسلمان اس وقت شدید خوف و ہراس کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ انہیں بنیادی شہری حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کو جبری نقل مکانی اور گھروں سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انتہا پسندی کا عروج یہ ہے کہ مسلمانوں کو نماز ادا کرنے اور روزہ افطار کرنے جیسے مذہبی فرائض کی انجام دہی پر بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل بین الاقوامی قوانین کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔سیاسی سطح پر بھی مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ جاری ہے جہاں متنازع اسپیشل انٹینسیو ریویڑن کے ذریعے 13 ریاستوں میں 56 ملین سے زائد ووٹرز کو انتخابی فہرستوں سے خارج کر دیا گیا ہے جن کی بڑی تعداد کا تعلق مسلم برادری سے ہے ۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم، وزیر داخلہ اور بی جے پی کے وزرائے اعلیٰ اپنی تقاریر میں مسلمانوں کےخلاف مسلسل زہر اگلتے ہیں۔ ریاستی طاقت کا ایسا وحشیانہ استعمال اقلیتوں کےلئے زندگی تنگ کرنے کا ایک منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ہندوستان میں اقلیتیں اپنی زندگی اور مذہب کے حوالے سے مسلسل خوف کا شکار ہیں۔ بالادست ہندوتوا حکومت ریاستی پالیسی کے طور پر اقلیتوں کی نسل کشی، ان کے مذہبی مقامات مسمار کرنے اور ان کی بے حرمتی کا ارتکاب کر رہی ہے۔ بھارتی ریاست عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے ۔ کشمیریوں کو مسلسل کرفیو، غیرقانونی حراستوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کا سامنا ہے۔ بھارتی بدنام زمانہ حکومت گزشتہ سات دہائیوں سے دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہے تاہم 2014 ء کے بعد سے اس میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ ہندوستانی حکومت نے اکثریت پسندی یعنی ہندو راشٹرا کی سیاست کے سہارے اقلیتوں کے ساتھ غیر انسانی امتیازی سلوک روا رکھا ہے۔ جب سے مودی حکومت اقتدار میں آئی ہے، آر ایس ایس کے انتہا پسندوں کے ذریعہ مساجد، گرجا گھروں اور مندروں پر حملوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔فاشسٹ بھارتی حکومت امتیازی قوانین اور میڈیا پروپیگنڈا مہم کی مدد سے اقلیتوں کو کم تر انسان ظاہر کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ ہندوتوا نظریات اقلیتوں کی شناخت، تاریخ، خصوصاً عبادت گاہوں کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ بابری مسجد کو شہید کرنے کےلئے استعمال کیے جانے والے حربے اور طریقے ہندوتوا شرپسندوں کےلئے ایک ترجیحی ماڈل بن چکے ہیں۔ ان حربوں اور طریقوں کو دوسری مساجد کو نشانہ بنانے کےلئے بار بار استعمال کیا گیا ۔ بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کےلئے پورے خطے بالخصوص پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے پر لگا ہوا ہے، بھارتی قیادت زمینی حقائق تسلیم کرنے سے گریزاں ہے، بھارت ایک ہندوتوا زدہ ناکام ریاست ہے تاہم اسے اپنے آپ کو بڑا دکھانے کی عادت ہو چکی ہے۔بھارت کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ بھارتی ریاست کی ناکامی کی وجوہات بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور مذہبی شدت پسندی ہے، اکھنڈ بھارت کا غیر حقیقی خواب اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی عکاسی کرتا ہے، ہندوتوا نظریے نے بھارت کے سیکولر چہرے کو مسخ کر دیا ہے، بھارت کی فوج بی جے پی کی متشدد اور مذہبی سیاست کی نذر ہو چکی ہے۔ تقسیم شدہ معاشرہ کی موجودگی میں بھارت کے شائننگ انڈیا ہونے کا نعرہ محض ایک ڈھکوسلہ ہے، بھارت کی ریاست درحقیقت ایک پولیس اسٹیٹ کا نام ہے جس میں آزادی رائے اور فریڈم آف پریس ریاستی کنٹرول میں رکھا جاتا ہے، دنیا کا اگلا سب سے بڑا قتلِ عام بھارت میں ہونے کا خدشہ ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اس قتلِ عام کی شدت غزہ اور فلسطین سے بھی بڑھ کر ہو گی۔ ہندوستان میں پائی جانےوالی تفریق اور اقلیتوں پر ہونے والے ظلم و ستم ہندوستان کی مزید تقسیم کا شاخسانہ بنیں گے، ہندوتوا کے پیروکار یہ سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو بھی جینے کا حق ہے، بھارت کے مسلمانوں کےلئے زندہ رہنے کی پہلی شرط ہندوتوا سوچ کے سامنے اپنی وفاداری کا ثبوت دینا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاو¿نی میں محصور ہیں جہاں ہر 7 سے 8 فرد پر ایک فوجی اہلکار تعینات ہے، بھارت آزادی کی تحریکوں کو چھپانے کے لیے پاکستان کا نام لے کر مختلف فالس فلیگ کا ڈھونگ رچاتا ہے جس کا مقصد دنیا کی توجہ بھی ہٹانا ہے، بھارتی جنونیت اور اجارہ داری ایک مضبوط، خوش حال اور معتدل پاکستان کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ پاکستان کے استحکام اور ترقی کو ہندوتوا کے پیروکار اپنی موت سمجھتے ہیں اسی وجہ سے بھارتی میڈیا اور سیاست دونوں پاکستان اور پاکستان کی افواج کے بارے میں بیانیہ بنانے میں الجھے رہتے ہیں، کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سرکردہ لیڈر شپ بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، ریاست پاکستان اور اس کی عوام بھارت سے نہ کبھی مرعوب تھے اور نہ ہی کبھی ہوں گے۔2021 ء میں بھارت میں مسلمانوں، مسیحیوں اور سکھوں کےخلاف نفرت پر مبنی جرائم کے کل 294 واقعات رپورٹ ہوئے۔ بھارت بھر میں درجنوں تاریخی مساجد ہندو شرپسندوں کے حملوں کی زد میں آئیں۔ 1600 سے زائد مساجد کے خلاف میڈیا میں مہم چلائی جا رہی ہے جبکہ منی پور میں سینکڑوں گرجا گھروں کو نذر آتش کیاگیا۔ بھارت میں مسیحیوں کے خلاف ہر سال مذہبی اور سیاسی بنیاد پر 100 کے قریب تشدد کے واقعات پیش آتے ہیں۔مسلم اور مسیحی آبادی کو بد نام کرنا بھارت کا سیاسی ایجنڈا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *