بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 13 August 2026 | پاکستان: 2 ر بیع الاول 1448

خواب کی تعبیر یا تعبیر کی تلاش؟

Thursday, 13 August, 2026

14 اگست 1947صرف تاریخ نہیں، ایک عہد، نظریہ اور ایسی اجتماعی آرزو کی تعبیر ہے جس کیلئے لاکھوں مسلمانوں نے جان، مال، گھر، زمین اور اپنوں کی قربانیاں دیں۔ پاکستان شعوری جدوجہد کا ثمر اور ایسی ریاست کا تصور تھا جہاں قانون طاقت سے بالاتر، انصاف ہر شہری کا حق، مذہبی آزادی ہر فرد کا استحقاق اور انسانی وقار ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہو۔علامہ محمد اقبال نے جس مملکت کا خواب دیکھا وہ کردار، عدل اور خودداری کی علامت تھی۔ ایک مقام پر وہ قوموں کی بقا کا راز یوں بیان کرتے ہیں:
افرِاد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
قائداعظم محمد علی جناح نے بھی قوم کو واضح پیغام دیا تھا:کام، کام اور صرف کام۔ 11 اگست 1947 کی انہوں نے اپنی تاریخی تقریر میں فرمایا:”آپ آزاد ہیں؛ آپ آزاد ہیں کہ اپنی عبادت گاہوں میں جائیں، آپ آزاد ہیں کہ اپنی مساجد میں جائیں، یا اس ریاستِ پاکستان میں کسی بھی دوسری عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔”یہ وہ پاکستان تھا جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا 78 برس بعد ہم اس منزل کے قریب پہنچ سکے ہیں؟اگر آزادی کا مفہوم صرف بیرونی تسلط سے نجات ہے تو پاکستان یقینا آزاد ریاست ہے، مگر اگر آزادی کا مطلب قانون کی بالادستی، معاشی خودمختاری، فکری استقلال، مذہبی آزادی، انسانی حقوق اور قومی خود اعتمادی ہے تو ہمیں اپنی کیفیت کا دیانت دارانہ جائزہ لینا ہوگا۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج بھی ملک میں قانون کا اطلاق یکساں نہیں۔ طاقتور اور کمزور کیلئے انصاف کا معیار مختلف دکھائی دیتا ہے۔ غیر آئینی جرگے، غیرت کے نام پر قتل، خواتین اور کمزور طبقات کے ساتھ ناانصافیاں، اور اقربا پروری ایسے زخم ہیں جو قومی ضمیر کو مسلسل لہولہان کر رہے ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم واضح اعلان کرتا ہے کہ “جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔” ایسے میں یہ سوال بجا ہے کہ کیا انصاف کے بغیر آزادی مکمل ہو سکتی ہے؟ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا، اور آئین پاکستان ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ریاست ہر مکتبِ فکر اور ہر اقلیت کے آئینی حقوق کے تحفظ کو مزید مثر بنائے، کیونکہ کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان اکثریت کی طاقت نہیں اقلیت کے تحفظ سے ہوتی ہے۔اسی طرح معاشی خودمختاری بھی حقیقی آزادی کا بنیادی ستون ہے۔ جب قومی بجٹ، اقتصادی پالیسیاں اور مالی فیصلے بیرونی قرضوں اور عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط سے متاثر ہوں تو یہ سوال فطری طور پر جنم لیتا ہے کہ کیا ہم معاشی اعتبار سے مکمل خودمختار ہیں؟ اس حقیقت کا اعتراف کمزوری نہیں اصلاح کی پہلی سیڑھی ہے ۔ مضبوط معیشت ہی مضبوط سیاست اور آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد بنتی ہے۔کیا ہم اپنے فیصلے خود کر رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں ہمیں حقائق سے تلاش کرنا ہوگا۔ قومی خودمختاری صرف سرحدوں کے تحفظ کا نام نہیں اداروں کی مضبوطی، اقتصادی استحکام، سیاسی بلوغت اور عوامی اعتماد کا مجموعہ ہے۔ جب اندرونی کمزوریاں بڑھتی ہیں تو بیرونی اثرات بھی گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔پھر سوال یہ بھی ہے کہ کیا صرف ہر سال جھنڈیاں لہرانے، قومی نغمے گانے، عمارتوں کو سجانے اور آتش بازی کرنے سے آزادی کا حق ادا ہو جاتا ہے؟ یقینا نہیں۔ یومِ آزادی جشن کے ساتھ احتساب کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف تقریبات سے نہیں کردار، علم، دیانت، محنت اور قانون کی پاسداری سے ترقی کرتی ہیں۔آج ضرورت ہے کہ سیاست خدمت کا استعارہ بنے، ریاست میرٹ کو شعار بنائے، عدل ہر دروازے تک پہنچے، تعلیم قومی ترجیح بنے، تحقیق کو سرمایہ کاری سمجھا جائے، اور ہر شہری اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھے۔ آزادی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، یہ ہر پاکستانی کے کردار سے وابستہ مسلسل عمل ہے۔ ہمیں جشن آزادی ضرور منانا چاہیے، مگر اس سے بڑھ کر تجدیدِ عہد کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے ماضی پر فخر، حال کا بے لاگ احتساب اور مستقبل کیلئے واضح سمت اختیار کرنا ہوگی۔ قومیں اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب وہ تلخ سوالوں سے فرار نہیں ان کے جواب تلاش کرتی ہیں ۔ پاکستان آزاد ہے اور انشا اللہ آزاد رہے گا۔ لیکن حقیقی آزادی اس دن مکمل ہوگی جب ہر شہری خود کو قانون کے سامنے برابر، عقیدے میں محفوظ، اپنی رائے میں باوقار، معیشت میں خودمختار اور مستقبل کے بارے میں پرامید محسوس کرے ۔ ہمیں یہ احساس بھی اپنے اجتماعی شعور کا حصہ بنانا ہوگا کہ آزادی اور مادر پدر آزادی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ آزادی قانون، ذمہ داری، نظم و ضبط اور دوسرے کے حقوق کے احترام کا نام ہے، جبکہ قانون سے بالاتر ہو کر اپنی خواہش کو حق سمجھ لینا درحقیقت آزادی نہیں معاشرتی انتشار کی بنیاد ہے۔ جو قومیں آزادی کی قدر نہیں کرتیں، وہ رفتہ رفتہ اس کی روح بھی کھو دیتی ہیں ۔ ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ آزادی کے دشمنوں، آئین سے انحراف کرنیوالوں اور ریاستی وحدت کو نقصان پہنچانے والی ہر سوچ اور ہر عمل کو پہچانا جائے۔ وطن سے محبت صرف نعروں، جذباتی تقاریر یا سوشل میڈیا کی مہمات سے ثابت نہیں ہوتی قانون کی پاسداری، قومی مفادات کے تحفظ اور ریاستی اداروں کے استحکام میں اپنا کردار ادا کرنے سے ظاہر ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم آزادی کی حقیقی روح کو سمجھتے بھی ہیں اور اس کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض طاقتور اور بااثر طبقات نے آزادی کو جواب دہی سے استثنا کا مترادف سمجھ لیا ہے۔ وہ اپنے لیے ہر سہولت ، اختیار اور رعایت کو حق تصور کرتے ہیں، مگر یہ رویہ کمزور اور عام شہری کے بنیادی حقوق سلب کر دیتا ہے۔ حالانکہ حقیقی آزادی کا حسن اسی وقت نمایاں ہوتا ہے جب طاقتور اپنی طاقت کو قانون کے تابع اور کمزور کے حق کے محافظ کے طور پر استعمال کرے۔اس حقیقت کو روزمرہ زندگی کی ایک معمولی سی مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ سڑک پر چلنے کا حق سب کو برابر حاصل ہے، لیکن جب بڑی گاڑی کا مالک یا بااثر شخص اپنی حیثیت کے زعم میں موٹر سائیکل سوار،یا پیدل چلنے والے کو راستہ دینا اپنی توہین سمجھنے لگے تو یہ صرف ٹریفک کا مسئلہ نہیں رہتا اجتماعی رویوں کی عکاسی بن جاتا ہے۔ جس معاشرے میں طاقتور کمزور کو راستہ دینا سیکھ لے، وہاں صرف ٹریفک نہیں انصاف، تہذیب اور آزادی بھی اپنی صحیح معنوں میں سفر کرنے لگتے ہیں۔یہ اصول ریاست کے ہر ستون پر یکساں طور پر نافذ ہوتا ہے۔ عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ، صحافت اور دیگر تمام قومی اداروں کی اصل طاقت ان کے اختیارات میں نہیں اس احساس میں ہے کہ ہر اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی لازم ہے۔ جب ادارے اپنی آئینی حدود، قومی ذمہ داری اور عوامی اعتماد کا حقیقی ادراک حاصل کر لیتے ہیں تو آزادی ہر شہری کی روزمرہ زندگی کا عملی تجربہ بن جاتی ہے۔آج، جب ہم یومِ آزادی کا جشن منا رہے ہیں، تو یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم صرف آزاد وطن کے وارث نہیں اس آزادی کے امین بھی ہیں۔ ہم پرچم لہرائیں، قومی نغمے گائیں، خوشیاں بھی منائیں، مگر اپنے کردار، اپنے رویوں، دیانت اور ذمہ داری کے احساس کو بھی اسی طرح بلند کریں۔ کیونکہ قوموں کی اصل عظمت ان کے نعروں سے نہیں، ان کے اجتماعی کردار، انصاف، قانون کی حکمرانی اور مسلسل عمل سے جنم لیتی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *