بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 25.8°C
Monday, 20 July 2026 | پاکستان: 7 صفر 1448

تیس ہزار سکھوں کا قتل عام

Monday, 20 July, 2026

انیس سے چوراسی سے انیس سوچورانوے کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور حکومت کی سرپرستی میں ہونے والے فسادات میں ہزاروں سکھ ہلاک ہوئے۔ بھارتی حکومت کے مطابق نومبر انیس سوچوراسی کے فسادات میں تقریباً تیس ہزار سکھ مارے گئے، جبکہ سکھ تنظیموں اور انسانی حقوق کی عالمی رپورٹوں کے مطابق اس پورے عشرے میں ہلاکتوں کی تعداد دسیوں ہزار تک پہنچتی ہے۔ سکھوں کیخلاف ہونیوالے آپریشن بلیو سٹار میںبھارتی فوج کی جانب سے گولڈن ٹیمپل اور دیگر گردواروں پر فوجی حملہ، جس کے بعد سکھوں اور بھارتی ریاست کے درمیان کشیدگی بڑھی۔ سکھ ذرائع کے مطابق تیس ہزار تک سکھ ہلاک ہوئے۔اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دلی اور دیگر شہروں میں حکومتی سرپرستی میں پرتشدد ہجوم نے سکھوں کو نشانہ بنایا، ان کے گھر جلائے اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ریاست پنجاب میں سکھ نوجوانوں کی ماورائے عدالت ہلاکتیں، حراستی تشدد اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری رہا۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے مطابق، ان ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا نہیں دی گئی۔ سکھ تنظیموں کا موقف ہے کہ ان دہائیوں پر محیط واقعات میں تیس ہزار سے زائد سکھوں کو قتل کر کے ان کی نسل کشی کی گئی۔ ذرائع ابلاغ کے معروف بین الاقوامی ادارے الجزیرہ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت فلم’ ‘ستلج” پر پابندی لگاکر انیس سوچوراسی کے واقعات اور سکھوں کے خلاف تشدد کی سیاہ تاریخ مٹانے کی کوشش کررہا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ بھارتی حکومت طویل عرصے سے سکھوں پر تشدد کے واقعات کونظرانداز کرتی رہی ہے۔فلم ‘ستلج’ کی نمائش کو تین سال تک روکا گیا اورتقریباً 130 مناظر حذف کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔فلم انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی، تحقیقات، حراستی تشدد اورانیس سوپچانوے میں ان کے قتل کی کہانی پر مبنی ہے۔ ابتدائی طور پر ‘پنجاب پچانوے’ کے نام سے بننے والی فلم کو بھارتی سنسر بورڈ نے تین سال تک روکے رکھا اور اس میںتقریباً 130 ترامیم کا مطالبہ کیا۔فلم سازوں نے اسے 3 جولائی کو” زی فائیو” پر جاری کیا لیکن صرف اڑتالیس گھنٹوں بعد اسے سیکیورٹی خدشات کی آڑ میں ہٹا دیا گیا۔ جسونت سنگھ کھالڑا نے شمشان گھاٹوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر کہاتھا کہ ہزاروں لاپتہ افراد کی لاشیں ان کے اہلخانہ کو مطلع کئے بغیر خفیہ طور پر نذرآتش کی گئیں۔ مسلسل دھمکیوں کے باوجود تحقیقات جاری رکھنے پر کھالڑا کو 6 ستمبرانیس سوپچانوے کو گھر کے باہر سے گرفتارکیا گیا جس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ جسونت سنگھ کھالڑا کی اہلیہ پرمجیت کور کی قانونی جدوجہد کے نتیجے میں سی بی آئی نے کیس کی تحقیقات کی اور پانچ پولیس اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ پنجاب کی خالصتان تحریک کے دوران بھارتی فورسز تشدد، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اوردوران حراست ہلاکتوں میں ملوث رہیں ، فلم ”ستلج ”نے پنجاب کے تاریخی زخم دوبارہ تازہ کر دیے۔ سرکاری پابندی کے باوجود پنجاب، لندن، نیویارک اور ٹورنٹو میں گردواروں اور کمیونٹی ہالز میں فلم کی نمائش جاری ہے۔ تجزیہ کارروں کا کہنا ہے کہ پچیس ہزار افراد کی خفیہ طورپر آخری رسومات کی تحقیقات دبانا متاثرین کی اجتماعی یادداشت متاثر کرنے کے مترادف ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت سکھوں پر منظم تشدد کے پہلوؤں کو تاریخ سے اوجھل رکھنے کی کوشش کررہا ہے جو ممکن نہیں ہے۔ مقتول سکھ رہنما جسونت سنگھ کھالرا کی زندگی پرمبنی فلم پابندی کے باوجود بھارت میں نمائش کیلئے پیش کی جا رہی ہے، جسونت سنگھ کھالرا نے ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تحقیقات کرتے ہوئے بھارت کا مکروہ چہرہ عیاں کیا۔فلم میں مرکزی کردار نبھانے والے بھارتی اداکار دلجیت دوسانجھ کا کہنا تھا کہ انیس سوپچانوے میں جسونت سنگھ کی آواز دبانے والی بھارتی حکومت دوہزارچھبیس میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔اکتوبر انیس سوچوراسی کو اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہندوستان میں سکھوں کا قتل عام کیا گیااس دوران 31 ہزار سکھ کو ہلاک جبکہ سینکڑوں خواتین عصمت دری کا شکار ہوئیں۔انتہاپسند ہندوؤں نے ووٹنگ لسٹوں کے ذریعے چن چن کر سکھوں کو موت کے گھاٹ اتارا،ووٹنگ لسٹوں کے ذریعے سکھوں کا نام پتا معلوم کرکیانتہا پسند ہندو رات کے اندھیرے میں گھروں پرنشان لگا جاتے،اگلے دن انتہا پسند ہندو حملہ آور ہوکر سکھ مکینوں کو قتل اور گھروں کو نذ ر آتش کر دیتے تھے۔ ہندوستانی حکومت کی سرپرستی میں سکھوں کیخلاف باقائدہ نسل کشی کی مہم چلائی گئی،سکھوں کیخلاف قتل عام 3 دن بلا روک ٹوک تک جاری رہا،شواہد سے ثابت ہوا کہ سکھوں کیخلاف قتل و غارت کو ہندوستان حکومت کی حمایت حاصل تھی۔سمندرپارمقیم سکھوں کو بھی ہندوستانی حکومت ٹارگٹ کلنگ کیذریعے قتل کررہی ہے، اٹھارہ جون دوہزارتئیس کو سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجرکو کینیڈا میں گردوارے کے باہر قتل کردیا گیا تھا۔کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ہردیپ سنگھ کے قتل میں ہندوستانی حکومت کے ملوث ہونے کی تصدیق کی،بھارت کے سکھوں کے خلاف مظالم اندرون ملک اور بیرون ملک بدستور جاری ہیں۔ امریکی جریدہ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مشرقی پنجاب کے مختلف دیہات میں سکھ تنظیموں، مقامی کارکنوں اور شہریوں نے کمیونٹی سکریننگز کا آغاز کر دیا، اس فلم کے ذریعے انسانی حقوق کی تنظیموں نے جبری گمشدگیوں، حراستی ہلاکتوں اور خفیہ تدفین کا انکشاف کیا۔مزید براں مودی حکومت ایسی فلموں کو فروغ دیتی ہے جو صرف اس کے قوم پرستانہ بیانیے کے مطابق ہو۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *