بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 25.1°C
Thursday, 10 September 2026 | پاکستان: 29 ر بیع الاول 1448

جابر بن حیان، جب ایک چراغ نے کائنات سے سوال کیا

Thursday, 10 September, 2026

تاریخ میں کچھ چراغ ایسے ہوتے ہیں جو تیل ختم ہونے سے نہیں بجھتے۔ وہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ ایک کتاب سے دوسری کتاب اور ایک صدی سے دوسری صدی تک سفر کرتے ہیں ۔ ان کی روشنی صرف راستہ نہیں دکھاتی انسان کے سوال بدل دیتی ہے۔ تقریباً بارہ سو برس پہلے بغداد کی ایک خاموش رات میں ایسا ہی ایک چراغ جل رہا تھا۔ اس کے سامنے ایک شخص بیٹھا تھا۔ باہر دجلہ بہہ رہا تھا شہر سو رہا تھا مگر اس شخص کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔ اس کے سامنے آگ دہک رہی تھی شیشے کے برتن میں ایک محلول حرکت کر رہا تھا اور اس کے ذہن میں ایک سوال مسلسل جاگ رہا تھا ۔ قدرت کے اس بظاہر خاموش نظام کے پیچھے آخر کون سا قانون کام کر رہا ہے۔ یہ جابر بن حیان تھے۔ان کا زمانہ وہ تھا جب بغداد کوفہ بصرہ اور دمشق علم و فکر کے بڑے مراکز بن رہے تھے۔ کتابیں پڑھی جا رہی تھیں ترجمے ہو رہے تھے اور مختلف تہذیبوں کا علمی سرمایہ ایک نئی فکری دنیا تشکیل دے رہا تھا۔ اسی ماحول میں جابر کے نام سے وابستہ ایک ایسی علمی روایت سامنے آئی جس نے مادّے کو محض فلسفیانہ بحث کا موضوع رکھنے کے بجائے اسے تجربے کی میز پر رکھنے کی کوشش کی۔یہ تبدیلی معمولی نہیں تھی ۔اس دور میں کیمیا کا بڑا حصہ دھاتوں کو سونے میں بدلنے حیاتِ ابدی کے راز تلاش کرنے اور پراسرار مرکبات کے تصورات سے وابستہ تھا۔ جابر سے منسوب روایت نے اس دنیا میں تجربے مشاہدے اور عملی طریقوں کی اہمیت بڑھائی۔ گویا سوال یہ بن گیا کہ جو بات کہی جا رہی ہے اسے آزمایا کیسے جائے۔ یہیں جابر کی اصل اہمیت سامنے آتی ہے۔کہانی کیا ہے آئیے سمجھتے ہیں۔ وہ مادّے کو دیکھتے تھے تو صرف اس کی ظاہری شکل نہیں دیکھتے تھے۔ ایک دھات ان کیلئے محض دھات نہیں تھی وہ اس کے اندر تبدیلی کے امکان کو تلاش کرتے تھے۔ ایک محلول صرف مائع نہیں تھا وہ اس کے رویے میں قدرت کا کوئی اصول پڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ بھٹی کی آگ صرف جلانے والی آگ نہیں تھی وہ تجربے کی زبان تھی۔ان سے منسوب علمی روایت میں تقطیر، تصعید، تبخیر، چھاننے، تبلور اور تکلیس جیسے طریقوں کو نمایاں مقام حاصل رہا۔ مختلف مادّوں کی خصوصیات ان کی تبدیلیوں اور تجربہ گاہ کے عملی طریقوں کو سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ تیزابوں کی تیاری دھاتوں پر کام شیشہ سازی رنگ سازی اور دیگر عملی فنون بھی اس روایت سے وابستہ رہے ۔آج ایک طالب علم کیلئے یہ سب سائنسی اصطلاحات معمول کی بات محسوس ہوتی ہیں لیکن ذرا اس زمانے کو ذہن میں لائیے جب نہ جدید تجربہ گاہیں تھیں نہ برقی آلات نہ خودکار پیمائش کے نظام۔ اس ماحول میں مشاہدہ کرنا تجربہ دہرانا اور نتیجے کو محفوظ کرنا علم کے سفر میں ایک اہم قدم تھا۔جابر کی عظمت اسی مقام پر ہے انہوں نے علم کو صرف یاد کرنے کی چیز نہیں سمجھا اسے آزمانے کی جرات پیدا کی۔تاہم جابر بن حیان کے بارے میں بات کرتے ہوئے تاریخ کی ایک پیچیدگی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے نام سے منسوب تصانیف کی تعداد بہت زیادہ ہے اور جدید محققین نے اس وسیع ذخیرے کی نسبت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ پورا سرمایہ کسی ایک شخص کی تصنیف نہ ہو بلکہ مختلف ادوار کے مصنفین اور ایک وسیع علمی روایت کا مجموعہ ہو ۔ بعد کی صدیوں میں جیبر کے نام سے بھی علمی تحریریں سامنے آئیں، جس نے اصل جابری روایت اور بعد کے مصنفین کے درمیان فرق کو مزید پیچیدہ بنا دیالیکن شاید یہی بات جابر کے تصور کو اور زیادہ دلچسپ بنا دیتی ہے۔کبھی کبھی تاریخ کسی شخصیت کو صرف ایک فرد کے طور پر نہیں ایک فکری روایت کے طور پر محفوظ رکھتی ہے ۔ جابر بھی ایسا ہی نام بن گئے ایک شخص سے بڑھ کر ایک سوال ایک سوال سے بڑھ کر ایک طریقہ تحقیق اوریہی سوال آج ہمارے سامنے بھی کھڑا ہے۔ہم اپنے ماضی پر فخر کرتے ہیں۔ ہم بڑے شوق سے بتاتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد نے طب میں کیا کیا ریاضی میں کیا دریافت کیا فلکیات میں کیا سوچا اور کیمیا میں کون سی راہیں کھولیں۔ یہ فخر بجا ہے۔ مگر کیا صرف ماضی کا فخر کسی قوم کا مستقبل تعمیر کر سکتا ہے۔ اگر جابر آج ہمارے سامنے آ بیٹھیں تو شاید ہماری طویل تقریر سننے کے بعد صرف ایک سوال کریں۔ تم نے اپنے زمانے کیلئے کیا دریافت کیا۔یہ سوال شاید ان کے پورے فلسفہ علم کا خلاصہ ہے۔قومیں اپنے بزرگوں کے کارناموں سے عزت ضرور حاصل کرتی ہیں مگر ترقی ان کے اپنے سوالوں سے پیدا ہوتی ہے۔ ماضی چراغ ہے، منزل نہیں۔ اگر ہم ہر نئی نسل کو صرف یہ بتاتے رہیں کہ ہمارے بزرگ عظیم تھے مگر اسے یہ نہ سکھائیں کہ عظمت پیدا کیسے کی جاتی ہے تو ہم تاریخ کو یاد تو کر رہے ہوں گے آگے نہیں بڑھ رہے ہوں گے۔جابر ہمیں یہی سبق دیتے ہیں کہ سوال سے خوف نہ کھاؤ ۔اگر تجربہ ناکام ہو جائے تو دوبارہ کرو۔ اگر نتیجہ تمہاری توقع کیخلاف آئے تو اپنی توقع بدل دو۔ اگر پرانی رائے حقیقت سے ٹکرا جائے تو حقیقت کا ساتھ دو۔یہی وہ ذہنی آزادی ہے جس سے تحقیق جنم لیتی ہے۔آج ہماری ضرورت صرف ایسے نوجوانوں کی نہیں جو امتحان میں اچھے نمبر لے سکیں ہمیں ایسے ذہن درکار ہیں جو پوچھ سکیں کیوں کیسے اور اگر ایسا نہیں تو پھر کیا۔ ہمیں ایسی جامعات چاہئیں جہاں تحقیق ڈگری کی ضرورت نہ ہو بلکہ فکری ضرورت بنے۔ ایسی تجربہ گاہیں چاہییں جہاں ناکامی کو شرمندگی نہیں بلکہ دریافت کی سیڑھی سمجھا جائے۔ اور ایسی قومی ترجیحات چاہئیں جن میں علم کو خرچ نہیں سرمایہ سمجھا جائے ۔ صدیاں گزر گئیں۔وہ بغداد بدل گیا۔ وہ بھٹی باقی نہیں رہی۔ وہ شیشیاں وہ کاغذ وہ قلم اور وہ رات بھی وقت کی تہوں میں دفن ہو گئی جس میں ایک شخص مادّے کے راز پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ مگر اس چراغ کی روشنی آج بھی باقی ہے۔کسی جدید تجربہ گاہ میں کسی طالب علم کی آنکھ میں کسی محقق کے سوال میں کسی ناکام تجربے کے بعد دوبارہ اٹھتے ہوئے ہاتھ میں۔جابر بن حیان شاید ہمیں یہی بتانے آئے تھے کہ انسان کی اصل طاقت اس کے پاس موجود جوابات میں نہیں بلکہ ان سوالوں میں ہوتی ہے جنہیں وہ پوچھنے کی ہمت رکھتا ہے۔بادشاہوں نے سلطنتیں بنائیں فاتحین نے سرحدیں بدلیں مگر جابر جیسے لوگوں نے انسانی فکر کی سرحد وسیع کی۔تلواریں زمین فتح کرتی ہیں علم زمانے فتح کرتا ہے۔اور شاید کسی آنیوالی رات کسی نامعلوم شہر کی کسی چھوٹی سی تجربہ گاہ میں ایک نوجوان پھر کسی شیشی کو غور سے دیکھ رہا ہوگا۔ اس میں کوئی نامعلوم محلول رنگ بدل رہا ہوگا۔ وہ چونکے گا قلم اٹھائے گا اور ایک سوال لکھے گا جس کا جواب ابھی دنیا نہیں جانتی۔وہیں سے شاید مستقبل کا ایک نیا باب شروع ہو۔اس لیے جابر بن حیان کو خراجِ عقیدت دینے کا بہترین طریقہ ان کا نام دہرانا نہیں ایک سوال زندہ کرنا ہے کیونکہ جب ایک قوم کے نوجوان دوبارہ سوال کرنا شروع کر دیتے ہیں جب اس کی تجربہ گاہوں میں رات گئے تک چراغ جلتے ہیں جب ناکامی انہیں توڑنے کے بجائے دوبارہ کوشش پر مجبور کرتی ہے تو سمجھ لیجیے کہ تاریخ کے کسی خاموش گوشے میں ایک پرانا چراغ پھر روشن ہو چکا ہے۔اور شاید دجلہ کی لہروں کے پار صدیوں کے اُس فاصلے سے ایک مدھم سی آواز آ رہی ہو۔ میں نے ایک چراغ جلایا تھا۔اب اسے بجھنے نہ دینا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *