بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایسے لمحات جنم لیتے ہیں جو نہ صرف دو ممالک کے تعلقات بلکہ پورے خطے اور عالمی نظام کے مستقبل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکراتی عمل بھی ایک ایسا ہی لمحہ ہے جس نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے۔ چند ماہ قبل تک مشرقِ وسطی میں جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے، خلیج فارس میں کشیدگی بڑھ رہی تھی، آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات جنم لے رہے تھے اور عالمی منڈیاں غیر یقینی صورتحال کا شکار تھیں۔ ماہرین اس امکان پر بحث کر رہے تھے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم ہوا تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ لیکن آج صورتحال مختلف ہے۔ جنگی ماحول کی جگہ سفارتی رابطوں نے لے لی ہے، مذاکرات کا عمل جاری ہے اور ایک ایسی امید پیدا ہوئی ہے جسے عالمی امن کیلئے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اختلافات کی نوعیت سیاسی بھی رہی، نظریاتی بھی اور تزویراتی بھی۔ جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں، مشرقِ وسطی میں اثر و رسوخ کی کشمکش اور مختلف علاقائی تنازعات دونوں ممالک کو بارہا آمنے سامنے لے آئے۔ کئی مواقع پر ایسا محسوس ہوا کہ شاید اب سفارتکاری کے دروازے مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں، مگر تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جب جنگ کے خطرات بڑھتے ہیں تو مذاکرات کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہی صورتحال آج بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ حالیہ مذاکرات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ دونوں ممالک نے اختلافات کے باوجود بات چیت جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں۔ ایسے ماحول میں جہاں سیاسی بیانات، اقتصادی دبا اور علاقائی کشیدگی مسلسل موجود ہو، وہاں مذاکراتی عمل کا جاری رہنا بذات خود ایک کامیابی تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سفارتی حلقے اس عمل کو امید کی ایک کرن قرار دے رہے ہیں۔ اس پورے عمل میں پاکستان کا کردار خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان نے ابتدا ہی سے اس تنازع میں متوازن، ذمہ دار اور دانشمندانہ رویہ اختیار کیا۔ ایک طرف ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور اقتصادی تعلقات موجود ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے سفارتی اور اقتصادی روابط کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کیلئے کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑا ہونا آسان راستہ ہو سکتا تھا، لیکن پاکستان نے امن، مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔ پاکستان کی سفارتی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے علاقائی امن کا داعی رہا ہے۔ مختلف ادوار میں پاکستان نے مسلم دنیا اور عالمی برادری کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ موجودہ ایران امریکہ مذاکرات کے دوران بھی پاکستان نے یہی پالیسی اختیار کی۔ اسلام آباد نے مسلسل اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطی مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا اور تمام تنازعات کو سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی اس پالیسی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ مشرقِ وسطی میں کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات براہِ راست پاکستان تک پہنچتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹ، سمندری راستوں کی بندش اور خطے میں عدم استحکام پاکستان کی معیشت کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نہ صرف اصولی بنیادوں پر بلکہ اپنے قومی مفاد کے تحت بھی امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔ موجودہ مذاکراتی عمل نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ دنیا میں صرف بڑی طاقتیں ہی سفارتی کردار ادا نہیں کرتیں بلکہ وہ ممالک بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جو اعتماد، توازن اور سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھیں۔ پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی کو زیادہ متوازن اور حقیقت پسندانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو تصادم کے بجائے مکالمے پر یقین رکھتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات صرف دو ممالک کے تعلقات کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی معیشت اور عالمی سلامتی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ خلیج فارس دنیا کی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا مرکز ہے۔ اگر اس خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو تیل اور گیس کی عالمی فراہمی متاثر ہوتی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک خاص طور پر اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کی معیشتیں درآمدی توانائی پر انحصار کرتی ہیں۔پاکستان بھی انہی ممالک میں شامل ہے۔ گزشتہ برسوں میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستانی معیشت پر اضافی دبا ڈالا۔ ایسے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی پاکستان کیلئے ایک مثبت خبر ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں اور خطے میں استحکام آتا ہے تو اس کے معاشی فوائد پاکستان سمیت پورے خطے کو حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس وقت دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں جنگوں کے بجائے اقتصادی اور سفارتی مقابلہ آرائی زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ روس یوکرین تنازع، چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں نے عالمی نظام کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر ایران اور امریکہ مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات کم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ عالمی سفارتکاری کی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ پاکستان کیلئے یہ موقع صرف ایک وقتی سفارتی کامیابی نہیں بلکہ مستقبل کیلئے بھی اہم ہے۔اگر پاکستان اسی متوازن اور فعال سفارتکاری کو جاری رکھتا ہے تو وہ خطے میں امن کے فروغ اور تنازعات کے حل میں مزید اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ دنیا کو ایسے ممالک کی ضرورت ہے جو پل کا کردار ادا کریں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بھی اصل چیلنج یہی ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر اعتماد کیسے بحال کرتے ہیں۔ کئی دہائیوں کی کشیدگی اور عدم اعتماد کو چند ہفتوں یا مہینوں میں ختم نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر نیت مثبت ہو تو پیش رفت ممکن ہوتی ہے ۔ موجودہ مذاکرات اسی حقیقت کا ثبوت ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ اس مقف کی حمایت کی ہے کہ عالمی مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر بھی تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات اس اصول کی عملی مثال بن سکتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں سے عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ عراق، شام، یمن اور فلسطین کے مسائل نے خطے کو شدید نقصان پہنچایا۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، معیشتیں تباہ ہوئیں اور سماجی ڈھانچے کمزور پڑ گئے۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے تو اس کا مثبت اثر پورے خطے پر پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی نظریں ان مذاکرات پر مرکوز ہیں۔ آج پاکستان کو اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ اس نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کیا ۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات صرف ایک سفارتی عمل نہیں بلکہ امید کی علامت ہیں۔ یہ امید کہ دنیا تصادم کے بجائے تعاون کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پورا مشرقِ وسطی، عالمی معیشت اور بین الاقوامی امن اس کے مثبت اثرات محسوس کریگا۔ یہی پاکستان کی اصل سفارتی کامیابی ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال دنیا کی طرف لے جا سکتا ہے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں