بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 29.2°C
Wednesday, 08 July 2026 | پاکستان: 23 محرم 1448

حقائق کے سامنے پروپیگنڈا اور کھسیانی بلی

Wednesday, 8 July, 2026

ذریعے معاشی بحالی کا بحالی کا سلسلہ بھی شروع ہو سکتا ہے اور وہ قیمتی قومی وسائل جو دونوں ممالک فوجی تیاریوں اور اسلحہ کی خریداری پر صرف کر تے ہیں انہیں اپنے اپنے ملک میں غربت کے خاتمے اور دیگر متعدد مسائل کو حل کرنے پر صرف کر سکتے ہیں لیکن بھارتی حکمران غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے زمینی حقائق کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں وہ ایک جانب اسلحہ کی خریداری پر اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں تو دوسری طرف عوامی جذبات کو ابھار کر نفرت’ ہیجان اور دشمنی کا راستہ بھی ہموار کرنے میں لگے ہوئے ہیں عالمی سطح پر بھارت کا اپنا تشخص ایک دہشت گرد اور مذہبی انتہا پسند ریاست کا ہے دنیا کی ہر اطلاعاتی اور خفیہ ایجنسی اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ ریاستی سطح پر بھارت ہمسایہ ممالک میں نہ صرف دہشت گردوں کو تربیت دیتا ہے بلکہ اس کی فنڈنگ اور انہیں محفوظ ٹھکانوں سمیت ان کی بھرپور حمایت میں بھی شامل ہے بھارت دنیا بھر میں ان لوگوں کو ہدف بنا کر قتل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا جنہیں وہ اپنا دشمن سمجھتا ہے اقوام متحدہ کے پاس پاکستان کا وہ تصدیق شدہ ڈوزیئر تمام ثبوتوں کے ساتھ موجود ہے جس میں بھارت کے دہشت گردی کی تربیت دینے والے 87 کیمپوں کی نشاندہی کی گئی ہے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جب سے برسر اقتدار آئے ہیں تب سے پورے خطے کا امن دا پر لگا ہوا ہے بھارت کے قریبی ہمسائے محفوظ ہیں اور نہ دور کے ممالک بھارت ہمیشہ پاکستان پر الزام لگا کر اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا رہا ہے بھارت خود دہشتگردی کروانے دہشت گردی کی معاونت کرنے اور وسائل فراہم کرنے میں ملوث ہے انسداد دہشت گردی بارے اس کا کردار مشکوک ہے کشمیر میں جاری بھارتی دہشت گردی تو عالمی دہشت گردی کے حوالے سے ضرب المثل بن چکی ہے لیکن وہاں کے غیور عوام کو سلام ہے جو اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں لیکن اپنے حق خود ارادیت سے دستبردار نہیں ہو رہے بھارت نے اپنی دہشت گردی کا دائرہ مقبوضہ کشمیر سے پاکستان تک بڑھایا، پھر اسے افغانستان اور پوری دنیا تک پھیلا دیا پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں بھارت براہ راست ملوث ہے ہم دہشت گردی کی جس آگ میں جھلس رہے ہیں یہ بھارت کی ہی لگائی ہوئی ہے بھارت اس آگ پر مسلسل تیل ڈال رہا ہے تاکہ آگ بجھنے نہ پائے پاکستان یکسوئی کے ساتھ معیشت کی بحالی پر توجہ نہ دے سکے تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے جو دہشت گرد پکڑے گئے ہیں وہ بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را” ان کی مدد کررہی تھی افغانستان میں بھارت بہت سے لوگوں اور تنظیموں کو بھڑکا کر انھیں پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے 27 ستمبر 2020 کو جاری ہونیوالی ایک رپورٹ میں امریکی وزارت خزانہ کی خفیہ فائلز میں بھارتی بینکوں کے ذریعے ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد کی منی لانڈرنگ کے ناقابل تردید شواہد دنیا کے سامنے پیش کیے گئے یہ منی لانڈرنگ 2011 سے2017 کے دوران 3201 غیر قانونی ٹرانزیکشنز کے ذریعے کی گئی کئی بھارتی بینکوں کی مشکوک سرگرمیاں سامنے آئیں ان سب میں بھارتی ریاست ملوث تھی بھارتی بینکوں کی ملکی شاخوں نے فنڈز وصول کیے یا ٹرانسفر کئے فنانشل کرائمز انفورسمنٹ نیٹ ورک کی رپورٹ میں بھارت کی جانب سے منی لانڈرنگ اور خطے میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کا انکشاف بھی کیا گیا تھا عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی بینکوں نے غیر قانونی ٹرانزیکشنز کے ذریعے 1 ارب 53 کروڑ ڈالرز منی لانڈرنگ کی اتنی بڑی رقم کہاں گئی اور کس نے کس مقصدکے لیے استعمال کی؟ یہ بھی کوئی پوشیدہ راز نہیں رہا یقینی طور پر یہ رقم دہشت گردی میں استعمال کی گئی خود اس رپورٹ میں بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ کا یہ پیسہ دہشت گردی منشیات اور مالی فراڈ میں استعمال کیا گیا بھارتی ریٹائرڈ میجر گورو آریا پاکستان میں دہشت گردی کے لیے رقم کی ترسیل کا انکشاف کر چکے ہیں دیکھا جائے تو وزیراعظم مودی نے بڑی محنت سے بھارت کو امن دشمن، دہشت گردوں کا سہولت کار اور منی لانڈرنگ کرنے والا بڑا ملک بنا دیا ہے دنیا بھر میں بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی تاریخ بڑی پرانی اور شرمناک واقعات سے بھری پڑی ہے بھارت براہ راست کشمیری اور مسلمان رہنماں ںسمیت عالمی شخصیات کے قتل میں ملوث ہے بھارت نے جمہوریت کے پیچھے اپنا دہشت گرد چہرہ چھپا رکھا ہے بھارت ریاستی طور پر مدد اور مالی معاونت کرنےوالے بھارتی دہشت گردوں کی فہرست بلاک کر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کے نظام کو بھی مفلوج کر چکا ہے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے تانے بانے بھارت سے ہی ملتے ہیں دہشت گردوں کی ڈوریں بھارت سے ہلائی جارہی ہیں مودی سرکار نے ریاستی دہشت گردی کواپنی پالیسی میں شامل کیا ہوا ہے بھارت کا مقصد دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچانا ہے بھارت سے بہتر کسی ملک نے دہشت گردی کا استعمال نہیں کیا بھارت دہشت گردوں کو بھرتی کرنے ان کی مالی مدد کرنے والا ملک بنا ہوا ہے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کےلئے پاکستان اس کا ہدف ہے بھارت کے دہشت گردانہ منصوبے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کےلئے تباہ کن ہیں اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 خود مختار ریاستوں کو یہ حق دیتا ہے کہ اگر ان کی سلامتی کو بیرونی جارحیت یا سرحد پار سے خطرہ لاحق ہو تو وہ اپنے دفاع کےلئے ہر ممکن اقدام کرسکتی ہیں پاکستان کی افغانستان کے اندر کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے عین مطابق ہونے کے ساتھ یہ واضح پیغام بھی ہیں کہ اگر افغان عبوری حکومت دوحہ معاہدے کی پاسداری نہیں کرتی تو پاکستان اپنے عوام کے تحفظ اور سیکورٹی یقینی بنانے کےلئے تمام ممکنہ اور ضروری دفاعی اقدامات کا پورا حق رکھتا ہے اس تمام صورت حال میں بھارت کا واویلا دراصل اسکے مذموم ارادوں کی ناکامی ‘بوکھلاہٹ کا عکاس اور کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے پاکستان کے خلاف بھارتی وزارت خارجہ کا بے بنیاد من گھڑت اور گمراہ کن پروپیگنڈہ اور کابل کے ساتھ اس کی غیر معمولی ہمدردی یہ ثابت کرنے کےلئے کافی ہے کہ نئی دہلی افغانستان کو پاکستان کیخلاف ایک پراکسی کے طور پر دیکھتا ہے نریندر مودی طاقت اور دھونس کے ذریعے اپنا ہندو توا نظریہ پوری دنیا پرمسلط کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں بھارت ایک نازی ریاست کی طرح پوری دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے دنیا کوا س نئے نازی ازم کو سمجھنے کی ضرورت ہے وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری بھارتی ریاستی دہشت گردی روکنے کے لئے عملی اقدامات کرے اگر بھارت کی دہشت گردی کے باعث اس خطے میں جنگ چھڑی تو اس کی لپیٹ میں پوری دنیا آئے گی۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *