رحمت عالم محمد رسول اللہ ۖ کی حیاتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپۖ کی سیرت اور آپ کا مشن بین الاقوامی ہے اور یہ مشن قرآن کے دائمی اصولوں کی تعبیر و تفسیر ہے۔ آپ ۖکی تعلیمات پرعمل پیرا ہو نے میں ہی عالم انسانیت کی حقیقی فلاح و کامرانی اور نجات مضمرہے۔ آپۖ کی سیرت کو اسوہ حسنہ قرار دیا گیا۔ اسی وجہ سے آپ ۖ کی حیات مبارکہ کی ایک ایک کرن کو سیرت نگاروں نے مدون و محفوظ کیا ہے۔ بزم اقبال لاہور اور دائرہ معارف کے اشتراک سے سیرت النبی پرایک جامع کتاب” سیر ت محمد رسول اللہۖ ” شائع ہوئی ہے۔ گیارہ جلدوں پر مشتمل سیرت طیبہ کے عنوان پر علمی و تحقیقی کاوش ہے۔ پروفیسر عبدلقیوم مرحوم نے انیس سوپچھتراورچھہتر میں مبسوط سیرت نگاری کیلئے ایک مفصل خاکے کی تشکیل کی۔ یہ خاکہ اْن کی وفات کے بعد اورینٹل کالج میگزین میں انیس سوبانوے میں شائع ہوا۔ وہ اس خاکے کے مطابق سیرت کا ایک بڑا تخلیقی کام انجام دینا چاہتے تھے لیکن انھیں اجل نے مہلت نہ دی اور اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔پروفیسر عبدالقیوم مرحوم کے خاکہ سیرت کے مطابق تالیف و ترتیب کیلئے دوہزارآٹھ میں ”دارالمعارف” قائم کیا گیا۔ پروفیسر مرحوم کے صاحبزادے بانی و صدر دارالمعارف میجر زبیر قیوم(ر) نے ادارے اور اس منصوبہ سیرت کی انتظامی و مالی ضروریات کو بحسن و خوبی پورا کیا۔ ادارے کے فاضل محققین نے چودہ سال کی کاوش کے بعد سیرت کی یہ کتاب ترتیب دی ۔عربی زبان و ادب کے مشہو ر استاد علوم اسلامیہ کے فاضل محقق اور اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے ممتاز مدیر پروفیسر عبدالقیوم نے اسی برس کی عمر میں آٹھ ستمبر انیس سوانانوے کو انتقال کیا۔ وہ انیس سونیس میں لاہور کے ایک معزز کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ پروفیسر صاحب میں صبر و تحمل، بردباری کی خصوصیات بدرجہ اتم موجود تھیں۔ وہ بحثابحثی اور کٹ حجتی سے کوسوں دور تھے۔ انہوںنے کسی کی عزت نفس کو کبھی مجروح نہیں کیا۔ وہ نہایت منکسر المزاج تھے۔ انہوںنے اپنے علم و فضل پر کبھی غرور نہیں کیا اور نہ کسی کے سامنے اپنی علمی برتری جتائی۔ وہ عمر بھر طالب علم بنے رہے اور علم کے قافلے سے کبھی بھی بچھڑنے نہ پائے ۔ گیارہ جلدوں پر مشتمل سیرت محمد رسول اللہ ۖ کے آٹھ ہزار سے زائد صفحات ہیں ۔ پوری دنیا میں آج تک سیرت النبی ۖ پر اس سے زیادہ جامع کتاب مرتب نہیںہوئی۔ اس میں قرآن و احادیث کے حوالے دیئے گئے ہیں ۔ یہ شاندار علمی و تحقیقی منصوبہ ہے ۔ اس میں فرقہ واریت اور سطحی مناظرانہ مباحث سے اجتناب کیا گیا ہے اور یہ موجودہ مسائل کے حل کیلئے سیرت سے رہنمائی حاصل کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ کسی خاص مسلک کیلئے نہیں بلکہ ہر مسلک کا مسلمان اس سے استفادہ کر سکتا ہے۔یہ تمام مسلمانوں کیلئے بلا امتیاز رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ امید ہے کہ یہ اساتذہ اور محققین کیلئے مفید اور کارآمد ثابت ہوگی۔راقم الحروف نے بزم اقبال کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے گیارہ جلدوںپر مشتمل سیرت محمد ۖ کی اشاعت کا اہتمام کیا تھا۔ اس کتاب کا خاکہ پروفیسر عبدالکریم مرحوم نے اپنی زندگی میں تیار کیا تھا اور اس خاکہ کی روشنی میں تقریباًآٹھ ہزار صفحات پر مشتمل سیرت محمدۖ ماہرین کے بورڈ نے تیار کی ہے۔ اب یہ سیرت محمد ۖ ہندوستان میں بھی شائع ہو گئی ہے۔ سیرت محمد رسول اللہۖ عام فہم اورسلیس اردو میں ہے ۔ دورِ حاضر میں سیرت طیبہ کی روشنی میں زندگی کے تمام معاملات کے بارے میں رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ سیرت اس سلسلے کی ایک عمدہ کوشش ہے جو سنجیدہ و شائستہ علمی اسلوب میں سیرت کے پیغام کو اجاگر کرتی ہے۔ کتاب کے ہر باب میں واقعات کے جامع اور مستند علمی بیان کے بعد خلاصتہ الباب رقم کیا گیا اور آخر میں واقعات سے حاصل شدہ اسباق و عصری رہنمائی کی تفصیل کیلئے ”فقہ السیرة” کا عنوان قائم کیا گیا۔ یہ طریق کار اس سیرت کی منفرد اور جداگانہ نمایاں خوبی ہے۔کتاب میں موضوع روایات سے خاص طور پر پرہیز کیا گیا اور قرآن و حدیث اور ائمہ محدثین و فقہاء کی رہنمائی سے دین کے محکمات کو واضح کیا گیا۔سیرت کے ہر پہلو پرمفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب میں تحقیقی انداز غالب ہے اور ہر بات حوالوں کیساتھ لکھی گئی ہے۔ مزید یہ کہ قدیم و جدید کے تمام ماخذوں سے بھر پور استفادہ کیا گیا ہے ۔رسولِ کائنات ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی ٰ نے انسان کیلئے نمونہ کاملہ اور اسوہ حسنہ بنایاہے اور آپۖ کے طریقہ کو فطری طریقہ قرار دیا ہے۔ محسن انسانیت صلوات اللہ علیہ وسلامہ کے معمولات زندگی ہی قیامت تک کیلئے شعار ومعیار ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیرة النبی ۖکا ہر گوشہ تابناک اور ہر پہلو روشن ہے۔ یومِ ولادت سے لیکر روزِ رحلت تک کے ہر ہر لمحہ کو قدرت نے لوگوں سے محفوظ کرادیا ہے۔ پیغمبر کی سیرت اس کے معجزے نہیں ہوتے ، پیغمبر کا معجزہ اس کی سیرت ہوتی ہے جو انسان کی سیرتوں پر اپنی چھاپ لگا کر معاشرے میں انقلاب لے آتی ہے۔حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا سب سے بڑا معجزہ ان کی سنت ہے۔ان کے اعمال و افعال ہیں۔ ریاست مدینہ اس کا اکمل ترین نمونہ ہے ۔ جوں جوں قرآن مجید کے مطالعہ سے انسان کا جزبہ عشق بڑھتا ہے،اس کی تعلیمات دل میں اْترتی ہیں ۔عشق محمدی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے لگاؤ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ قرآن انسان کو عقلی دلائل مہیا کرتا اور سیرت قلبی دلائل ،یہ زمانہ کچھ ایسا ہے کہ نئی پود کو عقلی دلائل سے کہیں زیادہ قلبی دلائل کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس عاجزانہ سعی کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔ سیرتِ رسولۖ کی طباعت و اشاعت کیلئے مالی سرپرستی کرنیوالے احباب اور منتظمین’ معاونین’ محققین اور ناشرین کیلئے آخرت کی نجات اور شفاعت ِ نبویۖ کا وسیلہ بنا دے۔ آمین






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں