وقت ختم ہو جائے تو مزید پیسے، غلط جگہ کھڑی ہو جائے تو جرمانہ۔ دبئی کی سمارٹ پارکنگ اور سالک کے ذریعے پارکنگ کی ادائیگی کا نظام واقعی جدید ہے، لیکن جدید نظام کا مقصد یہ بھی ہونا چاہیے کہ عام آدمی کیلئے زندگی آسان ہو۔ میں نے ایسے پاکستانی دیکھے ہیں جنہوں نے گاڑیاں خرید رکھی ہیں مگر انہیں کیمپ سے باہر نکالنے سے گھبراتے ہیں۔ اندر کیمپ میں گاڑی چلا لیتے ہیں، باہر جانا ہو تو کہتے ہیں ٹیکسی پکڑ لو۔کیوں؟کیونکہ گاڑی رکھنے کا حساب لگاتے ہیں تو رجسٹریشن الگ، انشورنس الگ، سالک الگ، پارکنگ الگ اور جرمانے کا خوف الگ۔یہ بات دبئی کے پالیسی بنانے والوں کو سوچنی چاہیے کہ اگر ایک عام مزدور یا متوسط طبقے کا آدمی گاڑی رکھنے کے بجائے ٹیکسی کو سستا سمجھنے لگے تو کہیں نہ کہیں اس نظام میں عام آدمی کیلئے مزید گنجائش پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔قانون ضرور ہو، مگر قانون انسان کیلئے ہو۔ جرمانہ اصلاح کیلئے ہونا چاہیے، آدمی کی کمر توڑنے کیلئے نہیں۔ اور اب آتا ہوں ایک ایسے مسئلے پر جس کا تعلق براہِ راست انسان سے ہے: وزٹ ویزا۔دبئی دنیا بھر کے لوگوں کو دعوت دیتا ہے۔ والدین کو بلائیے، عزیزوں کو بلائیے، دوستوں کو بلائیے، دبئی دیکھیے، یہاں قیام کیجیے، خریداری کیجیے، سیاحت کیجیے۔پاکستانی بھی آتے ہیں۔خاندان ملتے ہیں، رشتہ دار آتے ہیں، ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں، ٹیکسی استعمال کرتے ہیں، خریداری کرتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں، یعنی دبئی کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے:اگر یہی وزٹر بیمار ہو جائے تو؟میری دبئی کے حکمرانوں سے درخواست ہے کہ وزٹ ویزے کیساتھ ایک مناسب اور قابلِ عمل میڈیکل انشورنس کا نظام بنایا جائے، تاکہ اگر کوئی شخص یہاں قیام کے دوران بیمار ہو جائے تو علاج کیلئے در بدر نہ پھرے۔بیماری تو پاسپورٹ دیکھ کر نہیں آتی۔بخار کو کیا معلوم کہ آدمی ورک ویزے پر ہے یا وزٹ ویزے پر؟زخم کو کیا معلوم کہ اسکے پاس ایمریٹس آئی ڈی ہے یا نہیں؟میرا ایک جاننے والا وزٹ ویزے پر تھا۔ اس کے انگوٹھے پر معمولی چوٹ لگ گئی۔ وہ علاج کے اخراجات کے خیال سے گھر بیٹھا اسے خود ہی ٹھیک کرتا رہا۔یہ سوچ کر دل دکھتا ہے۔آخر وہ بھی انسان تھا۔میں تو یہ کہتا ہوں کہ جو شخص آپ کے ملک میں قانونی طور پر وزٹ پر آیا ہے، اس کیلئے کم از کم بنیادی طبی سہولت کا راستہ واضح اور آسان ہونا چاہیے۔انسان کا علاج ہونا چاہیے۔وہ مسلمان ہے تو اس کا علاج ہونا چاہیے۔ہندو ہے تو اس کا علاج ہونا چاہیے۔عیسائی ہے تو اس کا علاج ہونا چاہیے۔پاکستانی ہے تو اس کا علاج ہونا چاہیے۔ہندوستانی ہے تو اس کا علاج ہونا چاہیے۔بنگلہ دیشی ہے تو اس کا علاج ہونا چاہیے۔ کیونکہ ہسپتال کے دروازے پر انسان پہلے ہوتا ہے، ویزا بعد میں۔میں یہ نہیں کہتا کہ دبئی ہر چیز مفت کر دے۔ یہ بھی کوئی مطالبہ نہیں کہ دنیا بھر کے وزٹرز کا علاج سرکار اپنے خزانے سے کرے۔ میرا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ ایک واضح، مناسب اور قابلِ رسائی انشورنس نظام ہو، جس کے ذریعے وزٹر بیماری کی صورت میں عزت کے ساتھ علاج کرا سکے۔ یہ دبئی کی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچائے گا بلکہ اس کی ساکھ کو مزید بلند کرے گا۔ اسی طرح ویزوں اور کاغذات کے معاملات بھی آسان کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے ایک انتہائی قریبی پاکستانی خاندان کا علم ہے جو کئی مہینوں سے ویزا اور کاغذات کے چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ کبھی یہ کاغذ جمع کرو، کبھی وہ کاغذ واپس لو، کبھی ایک چیز منسوخ کرو، کبھی دوسری جگہ جا۔ آدمی آخر پوچھتا ہے کہ میری بات کون سنے گا؟دبئی اگر دنیا کا جدید ترین شہر بننا چاہتا ہے تو اس کا انتظامی نظام بھی ایسا ہونا چاہیے کہ عام آدمی کو اپنی درخواست کا پتہ ہو۔درخواست کہاں ہے؟کس افسر کے پاس ہے؟کب تک فیصلہ ہوگا؟اگر مسئلہ ہے تو اسے کیسے حل کیا جائے؟چار سوال ہوں اور چاروں کے جواب ایک ڈیجیٹل نظام میں مل جائیں۔یہی اصل سہولت ہے۔ہم سوشل میڈیا پر روز سنتے ہیں:دبئی بہت اچھا ہے۔ جی ہاں، دبئی اچھا ہے۔لیکن اچھا صرف نظر نہیں آنا چاہیے، اچھا محسوس بھی ہونا چاہیے۔میں خود دبئی میں رہا ہوں۔ وہاں کی گرمی دیکھی ہے۔ ایک مرتبہ جمعہ کی نماز کیلئے گھر سے تقریبا ًایک دو کلومیٹر دور جانا تھا۔ پیدل جانے کی کوشش کی۔ گرمی اتنی شدید تھی کہ واپس آتے ہوئے سر چکرا رہا تھا، آنکھوں کے سامنے دھند سی چھا گئی تھی۔اس لیے جب ہم سہولت کی بات کرتے ہیں تو ہم صرف پیسے کی بات نہیں کر رہے۔ہم عام انسان کی زندگی کی بات کر رہے ہیں ۔ ایک بزرگ وزٹر ہے۔ایک بیمار عورت ہے۔ایک چھوٹا بچہ ہے۔ایک مزدور ہے ۔ ایک ایسا شخص ہے جس کے پاس گاڑی نہیں ۔ ایک ایسا شخص ہے جو ہر درہم گن کر خرچ کرتا ہے۔دبئی کی اصل عظمت یہ ہوگی کہ ان سب لوگوں کو بھی یہاں رہتے ہوئے یہ محسوس ہو کہ یہ شہر صرف امیروں کیلئے نہیں، انسانوں کیلئے بھی ہے۔اور صاحب! حجامت تک کے اخراجات کا بھی کبھی حساب کر لیجیے۔ ایک عام آدمی بال کٹوانے کیلئے بھی جب پیکیج کی قیمت سنتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے۔زندگی کی ہر چھوٹی ضرورت اگر پیکیج، فیس، ٹول اور جرمانے میں بدل جائے تو آدمی آخر سانس کہاں لے؟ہم یہ بات کسی دشمنی میں نہیں کہہ رہے۔ہم نے دبئی کیلئے بہت کچھ لکھا ہے۔ہم نے اس کی تعریف کی ہے۔ہم نے اس کا دفاع کیا ہے۔ہم نے اس کے اچھے کاموں کو دنیا کے سامنے رکھا ہے۔اسی لیے آج یہ گلہ بھی ہمارا حق ہے۔دبئی کو جرمانوں سے نہیں، سہولتوں سے بھی یاد رکھا جائے۔سالک رہے، مگر عام آدمی کا خیال بھی رہے۔ پارکنگ رہے، مگر مناسب رعایت بھی ہو۔ قانون رہے، مگر اس میں انسان بھی نظر آئے۔ وزٹ ویزا رہے، مگر بیمار وزٹر کیلئے علاج کا راستہ بھی ہو۔ ویزے کا نظام رہے، مگر شکایت کا جواب بھی ہو۔ کیونکہ دنیا کی اصل ترقی صرف بلند عمارتوں، شیشے کے محلوں اور کشادہ سڑکوں کا نام نہیں۔ اصل ترقی یہ ہے کہ ایک عام انسان آپ کے شہر میں آ کر کہے: یہاں قانون بھی ہے اور آسانی بھی، نظم بھی ہے اور انسانیت بھی۔دبئی نے دنیا کو بہت کچھ دیا ہے۔اب دنیا کو ایک اور مثال دیجیے۔ایسی ترقی کی مثال، جس میں دولت کے ساتھ دل بھی ہو۔اور اگر ہم نے دبئی کی پچاس تعریفیں کی ہیں تو آج صرف اتنا سمجھ لیجیے کہ یہ چند گلے بھی اسی محبت کا حصہ ہیں۔دوسرے حصے میں پھر پاکستانی ڈرائیونگ لائسنس، میرا اپنا ٹریفک ٹیسٹ کا واقعہ، پاکستانیوں کی عزت، پاکستان کی موٹرویز، ایٹمی طاقت اور دبئی کے حکمرانوں سے آخری دوٹوک گزارشات عرض کروں گا۔(جاری ہے)





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں