بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 16.4°C
Thursday, 15 October 2026 | پاکستان: 5 جمادی الاول 1448

خیبر پختونخوا میں گورنر راج: ایک کڑوی گولی جسے ریاست کیلئے نگلنا ناگزیر ہو گیا

Thursday, 15 October, 2026

11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نے ایک بار پھر صوبائی خودمختاری اور وفاق کے اختیارات سے متعلق ایک پرانی آئینی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس نوعیت کی بحث جائز ہے، لیکن اسے ملک کی تاریخ اور صوبے کی سکیورٹی صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھانا چاہیے ۔ 1973 کے آئین کا باب دہم ہنگامی حالات سے متعلق دفعات پر مشتمل ہے۔ آرٹیکل 232جنگ، بیرونی جارحیت یا سنگین داخلی بدامنی کی صورتِ حال سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 234 اس وقت نافذ ہوتا ہے جب کسی صوبے میں آئینی نظام چلانے کا عمل ناکام ہو جائے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر صدر آصف علی زرداری نے اس اقدام کی منظوری دی، جسکے بعد صوبے کے انتظامی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہو گئے ہیں۔ حکومت اس اقدام کی وجوہات میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال اور جان و مال کو لاحق خطرات کو پیش کر رہی ہے۔ سابق قبائلی علاقوں اور ان سے ملحقہ علاقوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، جبکہ متاثرہ 12 اضلاع کیلئے خصوصی انتظامی طریق کار اختیار کیا گیا ہے۔ پاکستان میں گورنر راج کوئی نئی بات نہیں۔ اس کی پہلی مثال جنوری 1949 میں پنجاب میں سامنے آئی، جب گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت گورنر سر فرانسس موڈی نے صوبے کا انتظام سنبھالا۔ سندھ میں 1951، 1988 اور 1998 میں گورنر راج نافذ ہوا، جبکہ پنجاب میں 1999 اور 2009 میں بھی ایسا ہوا۔ 2009 میں سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف اور شہباز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے کیلئے نااہل قرار دیے جانے کے بعد آرٹیکل 234نافذ کیا گیا تھا۔ بلوچستان میں چار مرتبہ، یعنی 1973، 1975، 1999 اور جنوری 2013 میں گورنر راج نافذ ہوا۔ آخری مرتبہ یہ اقدام علمدار روڈ پر ہونیوالے بم دھماکوں کے بعد کیا گیا، جن میں ہزارہ برادری کے 100سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ خیبرپختونخوا میں 1975 میں پشاور یونیورسٹی میں ہونیوالے دھماکے کے بعد گورنر راج نافذ کیا گیا، جبکہ 1994 اور 1999 میں بھی ایسا ہوا۔ موجودہ اقدام صوبے کی تاریخ میں گورنر راج کی چوتھی مثال ہے۔دیانت داری کا تقاضا ہے کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ ان میں سے کئی واقعات سیاسی محرکات کے تحت پیش آئے، جبکہ بعض واضح طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال کی مثالیں تھیں، جیسا کہ 1973 میں بلوچستان کی حکومت کو برطرف کرنا۔ ہر واقعے کی قانونی بنیاد مختلف تھی، اس لیے ہر معاملے کا جائزہ اس کے اپنے حقائق کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔ موجودہ صورتِ حال کو حکومت کے مطابق جس بات نے منفرد بنایا ہے، وہ اس اقدام کی سکیورٹی سے متعلق بیان کردہ وجہ ہے۔ یہی وہ وجہ تھی جس کے تحت 2013 میں بلوچستان میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے بعد بھی ایسا اقدام کیا گیا تھا۔اس دلیل کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی ایک دہشت گرد تنظیم ہے، جسکے لیے کسی قسم کی قانونی حیثیت یا ہمدردی کا کوئی جواز نہیں۔ اس کی دہشت گردی، چاہے وہ 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں معصوم بچوں کے قتلِ عام کی صورت میں ہو یا فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں پر ہونے والے لاتعداد حملوں کی شکل میں، پاکستان میں ہزاروں جانیں لے چکی ہے۔ اس اقدام کے حامیوں کا موقف ہے کہ یہ عسکریت پسندی اب محض ایک صوبے کا مسئلہ نہیں رہی۔انکے مطابق، ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ گروہوں کو بے لگام چھوڑ دینا نہ صرف صوبے بلکہ وفاقی دارالحکومت اور خود ریاست کیلئے بھی خطرہ ہے۔ قومی نوعیت کے خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے مربوط قومی ردِعمل ضروری ہے، اور اگر کوئی صوبائی حکومت اس کوشش میں رکاوٹ ڈالے یا اس میں شامل ہونے سے گریز کرے تو اسے اپنی مرضی کے مطابق قومی حکمتِ عملی کا رخ متعین کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔یہیں پاکستان تحریک انصاف کا کردار زیرِ بحث آتا ہے، جو کئی برسوں سے صوبے میں حکومت کرتی رہی ہے۔ اس جماعت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اسکی قیادت ٹی ٹی پی کیخلاف سخت اقدامات کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی اور اس نے مرکز کے ساتھ حقیقی تعاون کے بجائے ابہام، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور عوامی سطح پر محض بیانات دینے کو ترجیح دی۔ ان ناقدین کے مطابق مذاکرات کی حمایت، فوجی کارروائیوں کی مخالفت اور ہر ناکامی کا ذمہ دار اسلام آباد کو ٹھہرانے کی روش نے عسکریت پسندوں کیلئے ایسی گنجائش پیدا کی جس میں وہ دوبارہ منظم ہوئے، بھرتیاں کیں اور ان اضلاع میں واپس آگئے جہاں سے انہیں پہلے نکال دیا گیا تھا۔ اس نکتہ نظر کے مطابق گورنر راج اس پالیسی کا نتیجہ ہے، اس کا سبب نہیں۔ وفاقی حکومت اختیارات پر قبضہ نہیں کر رہی بلکہ اس بحران کی ذمہ داری سنبھال رہی ہے جس سے نمٹنے کیلئے اسکے پاس، بقول اسکے، کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں چھوڑا گیا۔اس صورتحال کے اثرات صوبے کی حدود سے کہیں آگے تک پھیلتے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں جڑپکڑنے والی اور بے قابو ہونے والی عسکریت پسندی وہیں تک محدود نہیں رہتی۔یہ پہلے ضم شدہ اضلاع سے نکل کر دیگر آباد علاقوں تک پہنچتی ہے، پھر بڑے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے اور بالآخر دارالحکومت تک پہنچ سکتی ہے۔اگر وفاقی حکومت یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھتی رہے اور صرف صوبائی حدود کا احترام کرنے کے نام پر خاموش تماشائی بنی رہے تو وہ اپنی بنیادی ترین ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگی۔ کوئی بھی حکومت کسی منتخب صوبائی انتظامیہ کی معطلی کو خوش آمدید نہیں کہتی۔ اس اقدام سے آمرانہ طرزِ حکمرانی کے الزامات جنم لیتے ہیں اور مرکز کیخلاف دیرینہ شکایات رکھنے والے صوبے میں غصہ پیدا ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے بھی دہشت گردی کیخلاف اس جنگ میں سب سے بھاری قیمت ادا کی ہے۔انہوں نے اپنے پیاروں کی جانیں گنوائی ہیں، اپنے گھر تباہ ہوتے دیکھے ہیں اور بے گھر ہونے کا عذاب برداشت کیا ہے۔ اس لیے وہ اس فیصلے کی وجوہات اپنے حکمرانوں سے سننے کے حق دار ہیں، نہ کہ صرف ان کے ناقدین سے۔ جو لوگ اس اقدام کو حد سے زیادہ سخت قرار دیتے ہیں، انہیں ایک مشکل سوال کا جواب بھی دینا ہوگا جب شہری قتل کیے جا رہے ہوں اور منتخب قیادت کارروائی کرنے پر آمادہ نہ ہو تو متبادل راستہ کیا ہے؟حکومت نے یہ سیاسی قیمت برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اب اسے عوام کا اعتماد حاصل کرکے دکھانا ہوگا۔ اگر یہ اقدام ایک مقررہ مدت تک محدود رکھا جائے، آئینی نگرانی کے تحت اس پر عمل کیا جائے اور اسکے بعد منتخب حکومت کو فوری طور پر بحال کر دیا جائے تو اسے اختیارات کے ایک اور ناجائز استعمال کے بجائے ایک ناگزیر مداخلت کے طور پر یاد رکھا جا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت پر لازم ہے کہ وہ جلد از جلد امن بحال کرے، ہنگامی اختیارات کی آئینی حدود کا احترام کرے اور اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو واپس لوٹا دے۔آخرکارتاریخ فیصلہ کرے گی کہ اختیارات کو کس طرح استعمال کیا گیا لیکن تاریخ ان لوگوں کا محاسبہ بھی کرے گی جن کی بے عملی نے اس اقدام کو ناگزیر بنایا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *