دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن، بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے۔کچھ سفر راستوں پر نہیں ہوتے، کچھ سفر انسان اپنے اندر کرتا ہے۔ ایسے سفر میں گاڑی منزل کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہے، مگر ذہن پیچھے رہ جانے والے برسوں، بچھڑے ہوئے لوگوں اور بیتے ہوئے لمحوں کی طرف لوٹتا رہتا ہے۔ گزشتہ دنوں بھی ایک ایسا ہی سفر نصیب ہوا۔ پھلہ کی طرف روانگی تھی اور ساتھ ظفر بیگ صاحب اور انجینیئر جہانگیر مغل تھے۔ ایک گاڑی، پہاڑی راستے اور تین مسافر، مگر راستے میں کھلنے والی یادوں کی دنیا بہت وسیع تھی۔ فیض آباد سے بھارہ کہو، سترہ میل، چھتر، بڑوھا، رکھالہ اور گمبھیر سے گزرتے ہوئے پھلہ کی طرف سفر جاری رہا۔ پہاڑوں کی سڑکیں، چیڑ کے درخت، چھوٹے بڑے نالے، دور تک پھیلی ہوئی وادیاں اور کہیں کہیں پرانے گھروں کی جھلکیاں انسان کو شہر کی مصروف زندگی سے بہت دور لے جاتی ہیں۔ بڑوھا پہنچے تو راجہ زمرد صاحب نے محبت سے استقبال کیا۔ دیہات کی یہ خوبی آج بھی زندہ ہے کہ مہمان کے آنے کو محض ایک آمد نہیں سمجھا جاتا، اسے تعلق کی تجدید سمجھا جاتا ہے۔ جمعے کی نماز گمبھیر میں ادا کرنے کا ارادہ تھا۔ راستے میں رکھالہ کی طرف سڑک زیرِ تعمیر نظر آئی۔ کہیں مشینیں کام کر رہی تھیں اور کہیں پہاڑی راستہ اپنی پرانی صورت میں موجود تھا۔ آخرکار جامع مسجد گمبھیر پہنچے۔ وہاں موجود لوگوں نے جس محبت اور احترام سے بزرگوں کا خیال رکھا، وہ منظر دیر تک ذہن میں رہا۔ کسی کو سہارا دے دیا، کسی کیلئے بیٹھنے کی جگہ بنا دی، کسی نے ہاتھ بڑھا کر مدد کر دی۔غور حبیب صاحب نے میرے کہنے پہ بتایا کہ نہ تو عمران خان کے پہلے یہاں پہ کوئی کام ہوا اور نہ عمران خان کے بعد کوئی کام ہو امجھے اچھا لگا تحریک انصاف اللہ کے گاؤں کے لوگوں کے دلوں میں رہتی ہیں۔ مسجد کے مہمان خانے میں چشتی صاحب، خورشید عباسی صاحب اور محمد نواز خان المعروف ماموں نواز نے میزبانی کی۔ ماموں نواز کی مہمان نوازی کا چرچا پہلے بھی سن رکھا تھا، مگر وہاں جا کر اندازہ ہوا کہ بعض لوگوں کیلئے مہمان نوازی کوئی رسم نہیں بلکہ مزاج ہوتی ہے۔ خورشید عباسی صاحب اپنی سماجی اور کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے بھی علاقے میں معروف ہیں۔ راستے میں مسعود عباسی صاحب کے کنڈ بٹل والے شاپنگ کمپلیکس پر بھی مختصر قیام ہوا۔ سفر چھوٹا تھا، مگر ملاقاتیں بہت تھیں۔ ظفر بیگ صاحب سے تعلق آج کا نہیں۔ ہمارے خاندانوں کے درمیان تعلقات نئی نسل سے نہیں بلکہ بزرگوں کے زمانے سے چلے آ رہے ہیں۔ میرے مرحوم چچا چودھری شفیع صاحب اور چچا صورت بیگ کے درمیان 1946 سے قائم تعلق نے کئی نسلوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھا۔ اس سفر میں سعودی عرب کی یادیں بھی بار بار گفتگو کا حصہ بنیں۔ زندگی کے چالیس برس وہاں گزرے۔ پردیس میں بننے والی دوستیوں، وہاں کے تجربات اور ہزارہ کی یادوں نے اس سفر میں عجیب امتزاج پیدا کر دیا تھا۔ اسی سفر میں محمد زکی صاحب کی اہلیہ کے انتقال پر دعائے مغفرت کے لیے بھی حاضری ہوئی۔ راجہ خطیب الرحمان صاحب نے گرمجوشی سے استقبال کیا اور کھانے کا بھی انتظام کیا۔موت کے موقع پر کسی کے گھر پہنچ جانا شاید دنیا کا سب سے بڑا انسانی فرض تو نہ ہو، مگر یہ ضرور بتاتا ہے کہ غم میں انسان اکیلا نہیں۔ وہاں سے سردار گوہر حبیب خان آف پھلہ کو اطلاع دی گئی تو وہ خود لینے آ گئے۔ راستے میں مرحوم پرویز عباسی صاحب جدہ والے کے بھتیجے سر ایاز عباسی اور ان کے صاحبزادے روحیل کلیم بھی مل گئے۔ یوں قافلہ بڑھتا گیا اور پھلہ کی طرف سفر مزید خوشگوار ہو گیا۔ پھلہ پہنچے تو ڈیڈی نعیم خان، گوہر حبیب خان، طاہر حبیب خان، جو حویلیاں کے تحصیل نائب ناظم رہ چکے ہیں، اور معتسم افضل خان سمیت کئی احباب نے محبت سے استقبال کیا۔ چائے اور تواضع کا اہتمام ہوا۔اور پھر طاہر حبیب صاحب کا وہ قدیم مکان بھی دیکھا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ تقریبا چار سو سال پرانا ہے۔ پرانے طرزِ تعمیر کا یہ مکان اپنی ڈیوڑھی، کشادہ صحن اور قدیم ساخت کے باعث کسی کتاب کا ورق محسوس ہوتا ہے۔ اس کے صحن میں ریئس بلہ افضل خان صاحب اور بنارس خان کی قبریں بھی موجود ہیں۔ ایسے مکان صرف رہنے کی جگہ نہیں ہوتے، یہ خاندانوں کی تاریخ اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں۔ ہم اکثر وراثت کو زمین، مکان اور جائیداد تک محدود کر دیتے ہیں، حالانکہ اصل وراثت تو کردار، تعلق، بزرگوں کا احترام اور ایک دوسرے کے کام آنے کی روایت ہے۔ واپسی کا وقت آیا تو سردار گوہر حبیب خان، رستم خان اور کئی نوجوان برج تک الوداع کہنے آئے۔یہ منظر بھی یاد رہ جانے والا تھا۔ راستے میں گمگول میٹ شاپ پر سردارمطیع الرحمان سے ملنے کا ارادہ تھا، مگر وہ موجود نہ تھے۔پہاٹہ پہنچے تو تحریکِ انصاف کے کارکن امجد علی عباسی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے محبت سے اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ وعدہ کیا کہ اگلی بار ضرور حاضری ہوگی۔ یہ دعوتیں بھی عجیب ہوتی ہیں۔ تعلقات بھی شاید ایسے ہی چلتے ہیں؛ ملاقات سے، یاد سے اور ایک دوسرے کے دروازے کھلے رکھنے سے۔سفر کے دوران ایک دلچسپ بات بھی ہوئی۔ عرب معاشرے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ظفر بیگ صاحب نے بتایا کہ وہاں بعض خاندانوں میں بزرگ اور نوجوان ایک دوسرے کیساتھ بے تکلف رہتے ہیں۔ دادا اپنے پوتے سے ہنسی مذاق کرتا ہے، نوجوان بزرگوں سے بے تکلف گفتگو کرتے ہیں، مگر احترام اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ بات بظاہر معمولی تھی، مگر اس نے مجھے اپنے معاشرے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا۔ عمر بڑھنے کے ساتھ انسان کو دولت سے زیادہ ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مختار صاحب، ارشاد صاحب، چودھری خوائداد صاحب اور ایسے کتنے ہی بزرگ یاد آتے رہے جن کے ساتھ ہمارے خاندانوں کے تعلقات رہے۔ آخرکار ہم واپس گھر پہنچے۔ سفر ختم ہو چکا تھا، مگر ذہن ابھی بھی ان پہاڑی راستوں میں بھٹک رہا تھا۔زندگی کی دوڑ میں ہم بہت کچھ حاصل کرنے کیلئے بھاگتے رہتے ہیں ۔ کبھی دولت، کبھی عہدہ، کبھی شہرت۔ مگر کسی مرحلے پر دل کہتا ہے کہ ذرا رک کر ان لوگوں کو بھی دیکھو جنہوں نے تمہیں تمہاری پہچان دی۔ ان راستوں کو دیکھو جہاں تمہارے بزرگ چلے تھے۔ ان گھروں کو دیکھو جن کے صحن میں آج بھی پرانی قبریں خاموشی سے تاریخ سناتی ہیں۔ ان لوگوں کے پاس بیٹھو جو تمہیں کسی عہدے یا فائدے کے بغیر صرف اپنے پن کی وجہ سے یاد رکھتے ہیں۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں