یادرہے کہ کسی کتاب یا فن پارے کی تقریبِ رونمائی بظاہر ایک روایتی ادبی محفل نظر آتی ہے، جہاں لفظوں اور رنگوں کی نمائش ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات یہ تقاریب صرف کسی ہنر کا تعارف نہیں ہوتیں،بلکہ انسانی رشتوں، صبروتحمل،برداشت ، انسانی حقوق ، رواداری محبتوں، اور کٹھن راستوں پر ملنے والی “رہنمائی” کی ایک زندہ داستان بن جاتی ہیں ۔ حال ہی میں مجھے بھی ایک ایسی ہی منفرد تقریب میں شرکت کا موقع ملا، جہاں کینوس کے رنگ اور کتاب کے صفحات ایک فوجی جرنیل کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت تھے۔
یہ تقریب تھی حاضر سروس میجر جنرل نیک نام کے فنِ مصوری اور ان کی کتاب کی رونمائی کی۔ عام طور پر عسکری زندگی کو نظم و ضبط اور سخت کوشی سے تعبیر کیا جاتا ہے، لیکن جنرل نیک نام نے ثابت کیا کہ وردی کے پیچھے ایک انتہائی حساس اور تخلیقی دل بھی دھڑکتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف کینوس پر اپنے فن کے جوہر دکھائے بلکہ شاعر مشرق فکرِ اقبال کو سمجھتے ہوئے اوکاڑہ گیریژن کے نام سے “خطبات اقبال”پر ایک گرانقدر کتاب بھی تصنیف کی۔
تقریب کا سب سے خوبصورت اور جذباتی پہلو وہ اعترافِ نعمت تھا جو مقررین اور خود صاحبِ تقریب کی زبان سے ادا ہوا۔ میجر جنرل نیک نام نے بڑے کھلے دل سے اعتراف کیا کہ ان کے آرٹسٹ بننے کے اس سفر میں ان کی اہلیہ جو بذات خود ایک بہترین ارٹسٹ بھی ہیں ان کا کردار اور تعاون کلیدی رہا، جنہوں نے ہر قدم پر ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان کے ہنر کو نکھارنے میں مدد کی۔
جہاں اہلیہ کی محبت نے رنگ بھرا، وہاں ان کے سینئر اور سابق قومی سلامتی مشیر، لیفٹیننٹ جنرل (ر)ناصر خان جنجوعہ کی سرپرستی نے اس سفر کو منزل تک پہنچایا۔ اس موقع پر جنرل (ریٹائرڈ)ناصر جنجوعہ کا خطاب محض ایک روایتی تقریر نہیں تھا بلکہ اس میں ایک گہرا پدری لمس اور ماضی کے زخموں کی کسک تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کس طرح جنرل نیک نام کے والد صاحب گلگت سے آتے ہوئے ایک فضائی حادثے (جہاز کریش) میں شہید ہو گئے تھے اور اس کٹھن موڑ پر انہوں نے نیک نام کو اپنے بیٹوں کی طرح پالا، ایک باپ کی طرح ان کا خیال رکھا اور ان کی صلاحیتوں کو مرجھانے نہیں دیا۔
جنرل(ریٹائرڈ)ناصر جنجوعہ نے اپنے مخصوص پرمغز انداز میں جب یہ کہا کہ “آج نیک نام کی اس کامیابی اور فن پاروں کی رونمائی دیکھ کر میرے دل میں ایک مثبت حسد پیدا ہو رہا ہے کہ یہ تخلیقی کام میں کیوں نہ کر سکا”تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ یہ حسد دراصل ایک باپ اور رہنما کا وہ فخر تھا، جو اپنے لگائے ہوئے پودے کو تناور درخت بنتے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر ظہرانے کے دوران مجھے جنرل(ریٹائرڈ)ناصر جنجوعہ صاحب سے براہِ راست گفتگو اور تعارف کا شرف حاصل ہوا۔ جب دورانِ گفتگو معلوم ہوا کہ وہ ماضی میں سوات میں بھی تعینات رہے ہیں تو میں نے تذکرہ کیا کہ “جناب! وہاں ماضیِ قریب میں حالات بہت خراب رہے اور کئی عسکری آپریشنز ہوئے”۔ اس پر جنرل ناصر جنجوعہ نے ایک ایسا تاریخی اور دل کو چھو لینے والا جملہ کہا جو میرے ذہن پر نقش ہو گیا۔ انہوں نے مسکرا کر فرمایا: “جی ہاں، آپریشنز تو ہم نے بھی کئے، مگر محبت سے۔ اور واقعی اس کے بعد ہی سوات کے حالات بہتر ہوئے”۔
ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر کے منہ سے نکلے یہ الفاظ میرے لیے کسی بڑی رہنمائی سے کم نہ تھے۔ ان الفاظ نے یہ احساس دلایا کہ ہماری پاک فوج کے اندر کس قدر بہترین علمی، مثبت، تعمیری اور دردِ دل رکھنے والی شخصیات موجود ہیں۔ ان کی عسکری طاقت تو اپنی جگہ، مگر دلوں کو فتح کرنے کا اصل ہنر “محبت” ہی ہے۔ اگر ہماری افواج میں ایسی تعمیری سوچ رکھنے والے جرنیل موجود رہیں گے تو پاکستان انشا اللہ ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گااور کوئی ہمارا ایک بال بھی بیکا نہیں کرسکے گا ۔اس تقریبِ رونمائی نے مجھے یہ فکری رہنمائی دی کہ وطنِ عزیز کی بقا اور ترقی کیلئے ہماری عوام اور افواج کے درمیان اسی “محبت اور اعتماد کی فضا” کو قائم اور دائم رکھنا آج کے وقت کا سب سے ضروری اور اہم امر ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں