عدالت عظمیٰ کے ریٹائرڈ جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے عدلیہ کے کردار پر تنقیدی کالم میں لکھا کہ ملک کو سب سے سنگین نقصان جرنیلوں یا بیوروکریٹس نے نہیں بلکہ ججوں نے پہنچایا ہے۔ معلوم نہیں ان ججوں میں جناب نے اپنے آپکو بھی شامل کیا ہے یا نہیں۔ جج صاحب نے یہ کالم 14 اگست انگریزی اخبار میں لکھا تھا۔ اپنے کالم ادھوری آزادی میں لکھتے ہیں کہ اس معاملے پر انہیں عدلیہ کے کردار پر بات کرنا ہوگی۔ان کے مطابق عدلیہ کا بنیادی مقصد شہریوں کے لیے ڈھال بننا تھا اور وہ واحد ادارہ ہونا چاہیے تھا جو قانون کی طاقت کے ذریعے اقتدار کے سامنے نہیںکہنے کی صلاحیت رکھتا۔ منصور علی شاہ کا مزید لکھنا تھا کہ جب ٹینک سڑکوں پرنکلے تو عدالتوں نے بار بار انہیں ویلکم کیا انہوں نے نظریہ ضرورت تراشا تاکہ اقتدار پر قبضے کو قانونی جواز دیا جا سکے، غاصبوں سے حلف لیا گیا ۔ ان کا لکھنا تھا کہ ہر اگست ہم پرچم بلند کرتے ہیں اور خود کو آزاد کہتے ہیں لیکن1947 میں آزادی کی پہلی صبح ہی فیض نے اس طویل انتظار کے بعد طلوع ہونے والی سحر کو دیکھا تو کہا تھا کہ یہ وہ صبح نہیں، یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر داغ دار، رات کی گزیدگی کا شکار سحر وہ صبح نہیں جس کے لیے ہم نے سفر شروع کیا تھا۔لکھتے ہیں ہم 79 برس بعد ہمارا قومی دن ہم سے ایک ایماندار سوال کا تقاضا کرتا ہے، کیا ہم نے ایک ملک تو حاصل کر لیا، لیکن اس کی حقیقی آزادی کوخاموشی سے آئندہ نسلوں کے لیے ملتوی کر دیا ؟ 1947 میں ہم نے اپنے حکمرانوں کی قومیت تو بدل دی، لیکن حکمرانی کی نوعیت بدلنے کا مشکل کام آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ دیا۔یہی ہماری نامکمل آزادی ہے اور اسے مکمل کرنا اب بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ مگر آپ نے تو اس ذمہ داری کو نبھایا نہیں کیوں؟ دوسروں کو نصیحت خود مولا وصیت۔ خود تو وقت سے پہلے استعفی دے کر گھر چلے گئے۔ جبکہ جج بن کر کام کرتے رہنا چاہتے تھا مگر ایسا نہیں کیا۔ یاد رہے جسٹس سید منصور علی شاہ صاحب نے 13 نومبر 2025 کو استعفیٰ دیا تھا اس کی بنیادی وجہ 27ویں آئینی ترمیم بتائی تھی۔ جسٹس منصور علی شاہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججوں میں شامل تھے۔ 2024 میں 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے چیف جسٹس کی تقرری کا پرانا سینیارٹی اصول تبدیل ہوا اور پارلیمانی کمیٹی کو تین سینئر ترین ججوں میں سے چیف جسٹس منتخب کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔یہ فارمولہ لاہور ہائی کورٹ میں ان کا ہی دیا گیا تھا جب پنجاب میں چیف جسٹس بنانے کا وقت آیا تھا بعد یہی فارمولا ان پر نافذ ہوا ) اسی فارمولے کے تحت جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس بنایا گیا، جبکہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر ان سے سینئر ججز تھے۔یہ معاملہ ان کے لیے اہم تھا لیکن انہوں نے اس وقت استعفیٰ نہیں دیا۔ان کا استعفیٰ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد آیا۔ سب جانتے ہیں کہ آئین میں ترمیم کرنا اسمبلیوں کا کام ہے اس ترمیم سے ہی ملک میں آئنی عدالت کا قیام عمل میں آیا اس کے بعد سپریم کورٹ سے آئینی مقدمات سننے کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو دے دیا گیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے میں بنیادی موقف یہ اختیار کیا کہ ایسی تبدیلی کے بعد سپریم کورٹ کی آئینی حیثیت اور عدلیہ کی آزادی شدید متاثر ہوئی ہے، اس لیے ان کے لیے اسی نظام کا حصہ رہنا ان کے حلف سے مطابقت نہیں رکھتا لیکن دوسری طرف ان کے ساتھیوں نے تو اسے تسلیم کیا۔ کہا جاتا ہے استعفیٰ کا اصل سبب ان کا چیف جسٹس نہ بنا تھا۔جسٹس منصور علی شاہ کے فیصلوں پر تنقید ہوتی رہی۔ان کے نمایاں طور پر زیرِ بحث آنے والے فیصلوں میں سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کا مقدمہ۔یہ انکے سب سے زیادہ سیاسی طور پر حساس فیصلوں میں شمار ہوتا ہے۔سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے مقدمے میں جسٹس منصور علی شاہ اکثریتی فیصلے کا حصہ تھے جس نے تحریک انصاف سے وابستہ سنی اتحادکونسل کے مخصوص نشستوں کے معاملے پر اہم ریلیف دیا۔ان کے فیصلے میں صاف ظاہر ہوتا تھا کہ یہ پی ٹی آئی کے حامی جج ہیں۔ اس کا ثبوت کہا جاتا ہے اس وقت سامنے آیا جب بچوں کی شادی کی تو اس میں میڈیا کے ان صحافیوں کو بلایا گیا جو پی ٹی آئی سے تعلق رکھتے تھے۔اس فیصلے پر حکومت اور اس کے حامی حلقوں نے شدید اعتراض کیا، جبکہ PTI نے اسے اپنے حق میں ایک اہم آئینی فیصلہ قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ 2024 میں جب چیف جسٹس کی تقرری کا معاملہ سامنے آیا تو بعض حکومتی حلقوں میں یہ تاثر بھی موجود تھا کہ جسٹس منصور علی شاہ کے بعض سابقہ فیصلے PTI کے لیے نسبتاً موافق رہے ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ بھی اس اہم آئینی تنازع میں شامل تھے۔ اس معاملے پر مختلف ججز کے درمیان شدید قانونی اختلافات سامنے آئے اور حکومت و اپوزیشن دونوں طرف سے فیصلے پر سیاسی تبصرے ہوئے۔جسٹس منصور علی شاہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے بھی انہوں نے حکومت کے انتظامی اقدامات پر عدالتی نگرانی کے کئی فیصلے کیے تھے۔ یعنی جج بن کر آئنی نہیں سیاسی فیصلے کرتے رہے۔جس پر کہا گیا کہ کالم میں یہ سوال یہ باتیں وہ کرتے جو اس سسٹم کا حصہ نہ رہے ہوں آپ تو اس ادارے کا ایک طویل عرصہ حصہ رہ چکے ہیں اگر بتانا ہی تھا تو اپنی مجبوریوں اور اپنی آپ بیتی کا زکر کرتے تو اچھا ہوتا۔ آپ نے تنقید اپنے ہی ادارے پر 1947سے شروع کی۔اگر کرنی تھی تو اپنے دور سے شروع کرتے جب آپ جج بنے تھے آپ اس پر لکھتے جس میں آپ نے طویل ادھورا سفر کیا۔ ادھورا اس لئے لکھ رہا ہوں کہ آپ کی سروس ابھی باقی تھی اور اپنی مرضی سے خالہ جی کا گھر سمجھ کر کام کرتے رہے اور اچانگ چھوڑ کر اب پنشن اور مراعات کے مزے لے رہے ہیں۔آپ جانتے ہیں یہ ملک قرضوں سے چل رہا ہے لہذا زیادہ تنخواہیں مراعات کی بات کرتے کہ میں اس سسٹم پر بوجھ نہیں بنتا۔لہذا میں پنشن اور مراحات نہیں لیتا مگر ایسا تو آپ نے کیا نہیں۔ ملک اور عدلیہ مشکل میں تھی اور اس مشکل گھڑی میں آپ گھر چلے گئے۔ کیا ایسا کرنا زیب دیتا تھا ۔ کالم میں اپنا بھی بتاتے کہ کس وجہ سے سیاسی فیصلے کیا کرتے تھے جس کی بدولت حکومت کو نئے آرٹیکل لانے پڑے۔ آپ تو چیف جسٹس سپریم کورٹ کی ریس میں سب سے آگے تھے۔آئین میں تبدیلی کے بعد بھی کام کرتے رہے کیس سنتے اور فیصلے دیتے رہے۔ پھر اپنے مرضی سے استعفیٰ دے کر گھر چل دیئے اور ساتھی ججز اب بھی کام کر رہے ہیں اب کہا جاتا ہے کہ آپ فیصلوں میں بھی ڈنڈی مارتے رہے اور کالم میں بھی ڈنڈی مارنے کا سلسلہ جاری رکھا کالم پڑھنے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں اس گھر کو آگ لگتی رہی اس گھر کے چراغ سے۔ تو غلط نہیں ہو گا۔ ججز کا کام آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہے لیکن چند ججز اپنی شہرت پیسے اور فیملی کی سیاسی وابستگی کی بنا پر فیصلے کرتے رہے۔ وہ بھول جاتے ہیں حکومت بھاری تنخواہیں اور مرارعات انہیں آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے کیلئے دیتی ہے۔ ہمارے ہاں خواہ ججز ہوں یا جنرل جس نے بھی اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا یا کام میں ڈنڈی ماری وہ قدرت کی گرفت سے بچ نہ سکا۔اسے سزا بھی ملی اور وہ بے نقاب بھی ہوا۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں