بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.1°C
Monday, 24 August 2026 | پاکستان: 12 ر بیع الاول 1448

وزیر اعظم کی گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت خوش آئند

Monday, 24 August, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت اسی سوچ کی عکاس ہے کہ اختلافات اور شکایات کا مستقل حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ بات چیت، اعتماد سازی اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ بندوق کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہو سکتی۔ بندوق سے خوف پیدا کیا جا سکتا ہے، امن نہیں؛ خاموشی مسلط کی جا سکتی ہے، اطمینان نہیں۔ پائیدار امن صرف اسی وقت قائم ہوتا ہے جب فریقین ایک دوسرے کو سننے، سمجھنے اور مسائل کے قابلِ عمل حل تلاش کرنے کیلئے میز پر بیٹھیں۔یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ریاست پاکستان کے خلاف مسلح کارروائی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں، مزدوروں، طلبہ یا کسی بھی بے گناہ فرد کو نشانہ بنانا نہ بلوچستان کے مفاد میں ہے اور نہ پاکستان کے۔ اختلافِ رائے، سیاسی مطالبات اور حقوق کی جدوجہد کیلئے آئینی، جمہوری اور پرامن راستے موجود ہیں۔ ان راستوں کو اختیار کرنا ہی دانش مندی ہے۔ جو لوگ بندوق کو مسائل کے حل کا ذریعہ سمجھتے ہیں، انہیں بھی یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تشدد سب سے پہلے اسی معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے جس کے حقوق اور مفادات کے نام پر اسے اختیار کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف ریاست کی ذمہ داری بھی صرف امن و امان قائم کرنا نہیں بلکہ عوام کے جائز مسائل کو سننا، محرومیوں کا ازالہ کرنا اور ترقی کے ثمرات کو بلوچستان کے ہر حصے تک پہنچانا ہے۔ بلوچستان کے عوام کے دل جیتنے کا سب سے موثر راستہ ترقی، انصاف، روزگار، تعلیم، صحت اور بااختیار سیاسی شرکت ہے۔ جب عام شہری کو یہ احساس ہو کہ ریاست اس کی آواز سن رہی ہے، اس کے مسائل حل کرنے کیلئے سنجیدہ ہے اور اس کے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے تو بداعتمادی کی فضا خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔ بلوچستان پاکستان کیلئے محض ایک صوبہ نہیں بلکہ قومی وحدت کا اہم ستون ہے۔ گوادر کی بندرگاہ سے لے کر معدنی وسائل، طویل ساحلی پٹی، وسیع رقبے اور اہم جغرافیائی محلِ وقوع تک بلوچستان پاکستان کی معاشی اور تزویراتی قوت میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر بلوچستان میں امن، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، صنعت، زراعت، معدنیات اور روزگار کے مواقع کو وسعت دی جائے تو یہ صوبہ نہ صرف اپنی ترقی کی رفتار تیز کر سکتا ہے بلکہ پورے پاکستان کی معاشی ترقی کا انجن بن سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے سب سے ضروری چیز اعتماد ہے۔ اعتماد احکامات سے نہیں بنتا، مکالمے سے بنتا ہے۔ بلوچستان کے سیاسی رہنماں، قبائلی عمائدین، نوجوانوں، دانشوروں، طلبہ، کاروباری طبقے اور سول سوسائٹی کو قومی سطح کے مکالمے میں مثر نمائندگی ملنی چاہیے۔ گرینڈ ڈائیلاگ محض ایک اجلاس یا رسمی ملاقات کا نام نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے ایک مسلسل قومی عمل بنایا جانا چاہیے، جس میں شکایات سنی جائیں، قابلِ عمل تجاویز مرتب ہوں اور ان پر عملدرآمد کی باقاعدہ نگرانی بھی کی جائے۔ خاص طور پر بلوچستان کے نوجوانوں کو اس مکالمے کا مرکز بنانا ہوگا۔ نوجوان کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر انہیں معیاری تعلیم، ہنر، روزگار، کاروبار اور قومی زندگی میں باوقار کردار کے مواقع ملیں تو وہ بدامنی کے بجائے ترقی کے سفیر بن سکتے ہیں۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ پاکستان کا مستقبل ان کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے اور قومی ترقی میں ان کا کردار محض نعرے تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ بلوچستان کے قدرتی وسائل بھی ایک اہم موضوع ہیں۔ معدنی دولت اور دیگر وسائل سے صوبے اور ملک دونوں کو فائدہ پہنچنا چاہیے لیکن اس کے ساتھ مقامی آبادی کے حقوق، روزگار، ماحولیات اور ترقیاتی ضروریات کو بھی پوری اہمیت دی جانی چاہیے۔ وسائل کی شفاف، منصفانہ اور ذمہ دارانہ ترقی بلوچستان میں معاشی خوشحالی کے ساتھ ساتھ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو بھی مضبوط کر سکتی ہے ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کو سیاسی اختلاف اور دہشت گردی کے درمیان واضح فرق کے ساتھ دیکھا جائے۔ جائز سیاسی مطالبات کا جواب سیاسی عمل سے دینا چاہیے، جبکہ دہشت گردی اور مسلح تشدد سے ریاست کو قانون کے مطابق نمٹنا چاہیے۔ یہی متوازن طرزِ عمل قومی مفاد، جمہوری اقدار اور شہریوں کے تحفظ کو ایک ساتھ آگے بڑھا سکتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ بڑے مسائل ہمیشہ طاقت سے نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، صبر اور قومی اتفاقِ رائے سے حل ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے معاملے میں بھی ہمیں ماضی کی تلخیوں سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کی طرف دیکھنا ہوگا۔ ایک ایسا مستقبل جہاں اختلاف دشمنی نہ بنے، تنقید غداری نہ سمجھی جائے، اور شکایت کو سننے کے لیے دروازے کھلے ہوں۔ اسی ماحول میں حقیقی قومی یکجہتی پروان چڑھ سکتی ہے۔ وزیراعظم کی گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ دعوت بلوچستان کے سیاسی اور سماجی حلقوں کے لیے بھی ایک موقع ہے کہ وہ بندوق کے بجائے دلیل، تشدد کے بجائے مکالمے اور تصادم کے بجائے سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کریں۔ ریاست اور بلوچستان کے نمائندہ طبقات اگر ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے کیلئے سنجیدگی سے آگے بڑھیں تو بہت سے پیچیدہ مسائل کے حل کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ بلوچستان کے بغیر پاکستان واقعی نامکمل ہے۔ پاکستان کی قومی شناخت میں بلوچستان کا حصہ اتنا ہی اہم ہے جتنا دوسرے صوبوں کا۔ بلوچستان کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے، بلوچستان کا امن پاکستان کا امن ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کا روشن مستقبل پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بلوچستان کو مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ قومی طاقت اور قومی امکان کے طور پر دیکھیں۔ بندوق کو مسترد، مکالمے کو قبول اور ترقی کو ترجیح دینا ہوگی۔ ریاست کو انصاف، مساوات اور ترقی کے ذریعے اعتماد مضبوط کرنا ہوگا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *