بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 25.8°C
Thursday, 09 July 2026 | پاکستان: 24 محرم 1448

سبز پاکستان۔۔۔!

Thursday, 9 July, 2026

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو گرین ہاس گیسوں کے اخراج میں نسبتا کم حصہ رکھتے ہیں لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سب سے زیادہ برداشت کر رہے ہیں۔ شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں، تباہ کن سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت، فضائی آلودگی، زرعی پیداوار میں کمی، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور زرعی زمینوں پر تیزی سے پھیلتی ہاسنگ سوسائٹیاں ایسے عوامل ہیں جنہوں نے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ یہی روش جاری رہی تو آنے والی نسلوں کے لیے صاف ہوا، زرخیز زمین، میٹھا پانی اور معیاری خوراک کا حصول انتہائی مشکل ہو جائے گا۔زمین کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں جنگلات کی کٹائی، آلودگی، گاڑیوں سے خارج ہونے والی زہریلی گیسیں، بے ہنگم شہری پھیلا، قدرتی وسائل کا غیر دانشمندانہ استعمال اور زرعی زمینوں کا تیزی سے رہائشی منصوبوں میں تبدیل ہونا شامل ہیں۔ درخت قدرت کا سب سے بڑا تحفہ ہیں۔ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے آکسیجن فراہم کرتے ہیں، درجہ حرارت کو متوازن رکھتے ہیں، بارشوں کے نظام کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں، پرندوں اور جنگلی حیات کو پناہ دیتے ہیں اور زمین کی زرخیزی کو برقرار رکھتے ہیں۔ جب یہی درخت کاٹ دیے جاتے ہیں تو فضا میں کاربن کی مقدار بڑھتی ہے، گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے اور ماحول کا قدرتی توازن بگڑ جاتا ہے۔آبادی میں اضافے کے ساتھ رہائش کی ضرورت اپنی جگہ ایک حقیقت ہے لیکن اس ضرورت کا حل زرعی زمینوں کو ختم کرنا نہیں بلکہ جدید شہری منصوبہ بندی اختیار کرنا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بلند و بالا رہائشی عمارتیں تعمیر کرکے محدود زمین پر زیادہ لوگوں کو رہائش فراہم کی جاتی ہے۔ اس طرزِ تعمیر سے زرعی زمینیں محفوظ رہتی ہیں، شہری سہولیات بہتر انداز میں فراہم ہوتی ہیں اور بنیادی ڈھانچے پر بھی کم دبا پڑتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہی ماڈل اختیار کیا جانا چاہیے تاکہ رہائشی مسائل حل ہوں اور زرعی زمینیں مستقبل کی غذائی ضروریات کے لیے محفوظ رہیں۔ زرعی زمین صرف کسان کی ملکیت نہیں بلکہ پوری قوم کی امانت ہوتی ہے۔ ایک ایکڑ زمین سالہا سال تک ہزاروں انسانوں کی خوراک پیدا کر سکتی ہے جبکہ اسی زمین پر تعمیر ہونے والی رہائشی کالونی مستقل طور پر اس زرعی صلاحیت کو ختم کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک نے بہترین زرعی زمینوں پر تعمیرات پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسی مثر قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ زرعی رقبے کو قومی اثاثہ قرار دے کر اس کی حفاظت کی جا سکے۔جنگلات کی بے دریغ کٹائی ایک اور بڑا المیہ ہے۔ لکڑی، ایندھن یا تجارتی مقاصد کے لیے درخت کاٹنے کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے لیکن اس کے متبادل کے طور پر اتنے درخت نہیں لگائے گئے جتنے کاٹے گئے۔ نتیجتا جنگلات کا رقبہ کم ہوتا گیا اور ماحول کی قدرتی حفاظتی ڈھال کمزور ہوتی گئی۔ جنگلات بارشوں کے نظام کو متوازن رکھتے ہیں، مٹی کے کٹا کو روکتے ہیں، سیلاب کی شدت کم کرتے ہیں اور ہزاروں اقسام کے جانوروں اور پرندوں کے مسکن ہوتے ہیں۔ جنگلات کے خاتمے سے صرف درخت ختم نہیں ہوتے بلکہ پورا ماحولیاتی نظام متاثر ہوتا ہے۔شجرکاری کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صرف مخصوص شہروں، شاہراہوں یا نمائشی مقامات پر چند ہزار پودے لگا دیے جائیں۔ حقیقی شجرکاری وہ ہے جس میں ہر ضلع، ہر تحصیل، ہر یونین کونسل، ہر گاں، ہر محلے، ہر سرکاری ادارے، ہر تعلیمی ادارے، ہر نہر، ہر ندی، ہر دریا اور ہر سڑک کے کنارے مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ درخت لگائے جائیں اور ان کی حفاظت بھی کی جائے۔ صرف پودا لگا دینا کافی نہیں بلکہ اس کی دیکھ بھال، آبپاشی اور مکمل نشوونما تک ذمہ داری بھی ضروری ہے۔پاکستان میں شجرکاری کی مہمات کے دوران ایسے درختوں کو ترجیح دی جانی چاہیے جو ماحول کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کو براہِ راست فائدہ بھی پہنچائیں۔ آم، امرود، جامن، بیری، انار، لیموں، مالٹا، کینو، شہتوت، چیکو، آڑو، خوبانی اور دیگر مقامی پھلدار درخت نہ صرف سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ غذائیت سے بھرپور پھل بھی دیتے ہیں۔ یہ درخت پرندوں کے لیے خوراک کا ذریعہ بنتے ہیں، شہد کی مکھیوں کی افزائش میں مدد دیتے ہیں، حیاتیاتی تنوع کو فروغ دیتے ہیں اور مقامی معیشت کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔پھلدار ایک درخت کئی برسوں تک مسلسل پھل دیتا ہے جس سے گھرانوں کی غذائی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور اضافی پیداوار فروخت کرکے آمدنی بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ملک بھر میں کروڑوں پھلدار درخت لگائے جائیں تو نہ صرف ماحول بہتر ہوگا بلکہ غذائی تحفظ، برآمدات اور دیہی معیشت کو بھی نمایاں فائدہ پہنچے گا۔پاکستان میں بعض علاقوں میں سفیدے کے درخت بڑے پیمانے پر لگائے گئے تھے کیونکہ یہ تیزی سے بڑھتے ہیں اور لکڑی جلد فراہم کرتے ہیں۔ تاہم متعدد ماہرین ماحولیات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کی وسیع پیمانے پر کاشت ہر علاقے کے لیے موزوں نہیں ہوتی کیونکہ ان کے آبی وسائل، مقامی حیاتیاتی تنوع اور دیگر پودوں پر اثرات علاقے کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح بعض جارحانہ یا غیر مقامی اقسام کے پودے مقامی نباتات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی قسم کے درخت کی شجرکاری یا محدود کرنے کا فیصلہ سائنسی تحقیق، مقامی ماحولیاتی حالات اور ماہرین کی سفارشات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ قومی شجرکاری پالیسی میں مقامی اور پھلدار انواع کو ترجیح دینا ماحول، حیاتیاتی تنوع اور عوامی مفاد کیلئے زیادہ سودمند ثابت ہو سکتا ہے ۔ نہروں، دریاں، ندی نالوں اور سڑکوں کے کناروں پر وسیع پیمانے پر درخت لگانے کی ضرورت ہے۔ یہ درخت مٹی کے کٹا کو کم کرتے ہیں، پانی کے ذخائر کے اردگرد ماحول کو ٹھنڈا رکھتے ہیں، گردوغبار کو کم کرتے ہیں اور سفر کرنے والوں کو سایہ فراہم کرتے ہیں۔ ان مقامات پر پھلدار درخت لگائے جائیں تو مقامی آبادی اور جنگلی حیات دونوں مستفید ہو سکتے ہیں ۔ شہروں میں سبزہ کم ہونے کی وجہ سے ہیٹ آئی لینڈ کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے، جہاں کنکریٹ اور تارکول گرمی جذب کرکے رات تک خارج کرتے رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں شہروں کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ پارکس، گرین بیلٹس، چھتوں پر باغبانی، عمودی باغات اور سڑکوں کے کنارے گھنے درخت اس مسئلے کو کم کرنے میں مثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی پر سخت سزائیں نافذ کرے، زرعی زمینوں کے تحفظ کے لیے مثر قوانین بنائے، ہر بڑے ترقیاتی منصوبے کے ساتھ لازمی شجرکاری کرے، شہروں میں سبز رقبہ بڑھانے کے اہداف مقرر کرے اور ایسی پالیسیاں وضع کرے جن سے مقامی، سایہ دار اور پھلدار درختوں کی افزائش کی حوصلہ افزائی ہو۔یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ خوراک، پانی، ماحول اور معیشت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ زرعی زمینیں ختم ہوتی رہیں، باغات اجڑتے رہے اور جنگلات سکڑتے رہے تو نہ صرف گلوبل وارمنگ کی شدت بڑھے گی بلکہ غذائی بحران، پانی کی قلت، مہنگائی، بے روزگاری اور صحت کے مسائل بھی مزید سنگین ہوتے جائیں گے۔ اس کے برعکس ہم زرعی زمینوں کو محفوظ بنائیں، رہائشی ضروریات کیلئے بلند عمارتوں کو فروغ دیں، نہروں، دریاں، سڑکوں اور سرکاری اراضی پر وسیع پیمانے پر پھلدار اور مقامی درخت لگائیں اور ان کی نگہداشت کو قومی فریضہ سمجھیں تو پاکستان نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے بلکہ ایک سرسبز، خوشحال، غذائی طور پر محفوظ اور صحت مند ملک کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔آنے والی نسلیں ہم سے صرف ترقی یافتہ شہر نہیں بلکہ ایک قابلِ رہائش ماحول، زرخیز زمین، صاف پانی، ٹھنڈی ہوا اور سرسبز وطن کی امانت مانگیں گی۔ آج ہم نے درختوں، باغات اور زرعی زمینوں کی حفاظت کو قومی ترجیح بنا لیا تو کل ہماری نسلیں ہمیں دعائیں دیں گی لیکن اگر ہم نے اس مسئلے کو نظر انداز کیا تو تاریخ ہمیں اس قوم کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اپنی ہی زمین، اپنے ہی جنگلات اور اپنی ہی غذائی سلامتی کو اپنے ہاتھوں نقصان پہنچایا۔ یہی وقت ہے کہ پورا پاکستان سبز پاکستان، محفوظ پاکستان اور خوشحال پاکستان کے عزم کے ساتھ آگے بڑھے کیونکہ درخت صرف پودے نہیں بلکہ زندگی، صحت، خوشحالی اور آنے والے کل کی ضمانت ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *