بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 25.8°C
Thursday, 09 July 2026 | پاکستان: 24 محرم 1448

فلسطین: طاقت کے شور میں انصاف کی آواز

Thursday, 9 July, 2026

تاریخ کے کچھ زخم وقت کے ساتھ مدھم نہیں ہوتے، بلکہ ہر نئی نسل کے سامنے ایک نئے سوال کی صورت میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ بھی ایسا ہی ایک سوال ہے، جس میں زمین کی کشمکش، شناخت کی تلاش، سلامتی کا خوف اور انصاف کی خواہش سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔دنیا نے جنگوں کو اکثر نقشوں پر بدلتی ہوئی سرحدوں کے طور پر دیکھا ہے، مگر جنگوں کی اصل قیمت نقشوں پر نہیں بلکہ انسانوں کی زندگیوں پر لکھی جاتی ہے۔ ایک تباہ شدہ گھر صرف اینٹوں کا ملبہ نہیں ہوتا، وہ کسی خاندان کی یادوں کا بکھر جانا بھی ہوتا ہے۔ ایک بند اسکول صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ کئی خوابوں کا رک جانا بھی ہوتا ہے۔فلسطینی تنازع کئی دہائیوں سے اسی انسانی المیے کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ اس دوران قیادتیں بدلیں، سیاسی حکمتِ عملیاں تبدیل ہوئیں، مذاکرات کے کئی دور ہوئے اور جنگوں کے کئی مرحلے آئے، مگر بنیادی سوال اپنی جگہ موجود رہا کہ دیرپا امن کی بنیاد طاقت پر رکھی جائے یا انصاف پر۔ 1987ء کی پہلی انتفاضہ کے دوران حماس کا ظہور اسی تاریخی پس منظر میں ہوا۔ ابتدا میں اس نے سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ سماجی اور فلاحی میدان میں بھی کام کیا۔ ایسے معاشروں میں جہاں غربت، بے روزگاری اور ریاستی کمزوری موجود ہو، عوامی خدمت اکثر اعتماد پیدا کرتی ہے اور یہی اعتماد سیاسی اثر و رسوخ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔لیکن تاریخ کا اصول ہے کہ ہر تحریک کو ایک مرحلے پر عملی حکمرانی کے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ مزاحمت اور حکومت دو مختلف میدان ہیں۔ ایک میں جذبہ، نظریہ اور قربانی اہم ہوتے ہیں، جبکہ دوسرے میں مضبوط ادارے، معاشی استحکام، انتظامی صلاحیت اور عوامی فلاح بنیادی ضرورت بن جاتے ہیں۔1993ء کا اوسلو معاہدہ فلسطینی سیاست میں ایک اہم موڑ تھا۔ اس نے دو مختلف سیاسی راستے نمایاں کیے۔ ایک طرف مذاکرات اور سفارتی عمل کو حل کا ذریعہ سمجھا گیا، جبکہ دوسری جانب یہ مؤقف موجود رہا کہ بنیادی حقوق کے حصول کے لیے مزاحمت ضروری ہے۔ وقت کے ساتھ یہ اختلاف فلسطینی سیاسی وحدت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا۔بعد کے برسوں میں حماس نے اپنی تنظیمی طاقت میں اضافہ کیا، جبکہ اسرائیل نے اس کے خلاف سخت اقدامات کیے۔ 2004ء میں شیخ احمد یاسین کی ہلاکت ایک نمایاں واقعہ تھا، مگر اس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ تحریکیں صرف افراد سے نہیں بلکہ ان حالات سے طاقت حاصل کرتی ہیں جن میں وہ جنم لیتی ہیں۔2006ء کے انتخابات نے فلسطینی سیاست کا رخ بدل دیا۔ حماس کی کامیابی کو کئی مبصرین نے عوامی ناراضی، سیاسی جمود اور انتظامی مسائل کے خلاف ردعمل قرار دیا۔ تاہم انتخابی کامیابی اور مؤثر حکمرانی دو الگ حقیقتیں ہیں۔ اقتدار کے ساتھ ہی سفارتی دباؤ، معاشی مشکلات اور انتظامی ذمہ داریوں کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا، جہاں نعروں کے بجائے عملی فیصلے اہم ہو گئے۔2007ء میں حماس اور فتح کے درمیان اختلافات نے فلسطینی سیاست کو مزید تقسیم کر دیا۔ غزہ اور مغربی کنارہ الگ سیاسی و انتظامی حقیقتوں میں بدل گئے۔ اس تقسیم کا سب سے بڑا نقصان عام شہریوں نے برداشت کیا، جن کی زندگی پہلے ہی مشکلات اور غیر یقینی حالات سے گھری ہوئی تھی۔غزہ کی کہانی صرف سیاست کی نہیں بلکہ انسانوں کی روزمرہ جدوجہد کی کہانی بھی ہے۔ محدود ر قبہ، گنجان آبادی، معاشی مشکلات، روزگار کی کمی اور بنیادی سہولتوں کے مسائل نے وہاں زندگی کو مسلسل مشکل بنایا۔ ہر جنگ کے بعد تعمیرِ نو، بحالی اور انسانی ضروریات کی فراہمی ایک نیا امتحان بن جاتی رہی۔2008ء کے بعد ہونے والی مختلف جنگوں نے اس بحران کو مزید گہرا کیا، لیکن اکتوبر 2023ء کے واقعات نے صورتحال کو ایک انتہائی سنگین مرحلے میں داخل کر دیا۔ بڑے پیمانے پر جانی نقصان، تباہی اور نقل مکانی نے دنیا کو ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ جدید جنگوں میں کامیابی کا تصور کس انسانی قیمت پر حاصل ہوتا ہے۔اس تنازع کے اثرات صرف غزہ تک محدود نہیں رہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی پر اثر انداز ہوئے۔ مختلف ممالک نے سفارتی کردار ادا کیا، جنگ بندی کی کوششیں ہوئیں اور انسانی امداد کے راستے تلاش کیے گئے۔ لیکن ہر بار ایک حقیقت سامنے آئی کہ جنگ کا خاتمہ صرف ہتھیار خاموش ہونے سے نہیں ہوتا، بلکہ پائیدار حل کے لیے سیاسی راستہ ضروری ہوتا ہے۔یہ بحران ایک بنیادی سوال چھوڑ جاتا ہے: کسی بھی سیاسی قوت کی اصل کامیابی کیا ہے؟ کیا طاقت کا حصول ہی منزل ہے، یا عوام کے لیے محفوظ، باوقار اور مستحکم زندگی پیدا کرنا اصل کامیابی ہے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ مقبولیت کسی تحریک کو عروج دے سکتی ہے، مگر دیرپا کامیابی کے لیے قانون کی بالادستی، مضبوط ادارے، بہتر معیشت اور عوامی اعتماد ناگزیر ہوتے ہیں۔فلسطین کا مسئلہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی سیاست، بین الاقوامی قانون اور انسانی اقدار کا امتحان بھی ہے۔ جنگیں مسائل کو وقتی طور پر دبا سکتی ہیں، مگر انہیں ختم نہیں کرتیں۔ امن اس وقت جنم لیتا ہے جب انصاف، سلامتی اور انسانی وقار کو ایک ساتھ اہمیت دی جائے۔قوموں کی عظمت صرف میدانِ جنگ میں نہیں لکھی جاتی، بلکہ اس دانش میں بھی نظر آتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے اختلافات کا حل تلاش کرتی ہیں۔ تاریخ آخرکار صرف یہ نہیں پوچھتی کہ کون طاقتور تھا، بلکہ یہ بھی پوچھتی ہے کہ مشکل ترین وقت میں انسانیت کے لیے کس نے بہتر راستہ اختیار کیا۔کیونکہ ملبے کے درمیان بھی مستقبل کے سوال ز ندہ رہتے ہیں، اور ان سوالوں کا جواب ہمیشہ طاقت کے شور میں نہیں بلکہ انصاف، بصیرت اور امن کی خاموش آواز میں ملتا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *