بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 23.2°C
Friday, 04 September 2026 | پاکستان: 23 ر بیع الاول 1448

سرائیکی وسیب کا مقدمہ

Friday, 4 September, 2026

یوں تو پاکستان کے ہر گوشے میں زندگی تنگی اور کسمپرسی کا شکار ہے، ، روزانہ کی بنیاد پر بدامنی اور ہلاکتوں کی خبریں اس کی گواہ ہیں۔ لیکن اسی ہنگامے کے بیچ ایک ایسا خطہ بھی ہے جسے، اگر بے اختیاری اور مسلسل محرومی کے تناظر میں پاکستانی فلسطین کہا جائے، تو بے جا نہ ہوگا، اس لیے نہیں کہ وہاں قابض فوجیں گشت کرتی ہیںبلکہ اس لیے کہ وہاں کے باسیوں نے ناانصافی کو اپنا مقدر تسلیم کر لیا ہے اور اب اس کے خلاف آواز اٹھانے کو بھی لاحاصل سمجھتے ہیں۔ نقشے پر دیکھیں تو سرائیکی وسیب کے تیرہ اضلاع بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان، ملتان، لودھراں، وہاڑی، خانیوال، ڈیرہ غازی خان، تونسہ، کوٹ ادو، مظفر گڑھ، راجن پور، بھکر اور میانوالی پنجاب کے رقبے کا نصف سے زائد حصہ بنتے ہیں، اور 2023 کی مردم شماری کے مطابق ان میں چار کروڑ چالیس لاکھ سے زائد انسان بستے ہیں، یعنی پنجاب کی کل آبادی کا تقریبا ایک تہائی۔ آدھی زمین، ایک تہائی آبادی: یہی وہ تضاد ہے جو بتاتا ہے کہ یہاں بستیاں کم اور فاصلے زیادہ ہیں۔ اور جس دن آپ صحت، تعلیم، روزگار اور زمین کے اعداد و شمار کھولیں گے، یہ تضاد مزید عریاں ہو جائے گا۔ یہ وہی خطہ ہے جو ملک کو کپاس، گندم اور آم دیتا ہے، اور بدلے میں اسے وہ ملتا ہے جو باقی پنجاب کے کسی ضلع کو کبھی قبول نہ ہو۔ اس زیادتی کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جس تہذیب کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے، وہ کوئی حالیہ یا کمزور شناخت نہیں۔ پاکستان کی چوتھی سب سے بڑی زبان سرائیکی زبان اس وقت دنیا کی پچاس سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں شامل ہو چکی ہے اور بولنے والوں کی تعداد کے حساب سے عالمی درجہ بندی میں یونان اور ہالینڈ کی قومی زبانوں سے اوپر نظر آ رہی ہے۔ چولستان میں حاکڑہ ندی سے لیکر تھل کے ریگستان تک اور ملتان سے میانوالی تک یہ خطہ وسطی ایشیا اور وادی سندھ کے درمیان تجارت اور تہذیب کا اہم ترین مرکز رہا ہے۔ ہر سال 6 مارچ کو اپنا ثقافتی دن منانے والی جس سرائیکی تہذیب نے صدیوں تک برصغیر کو صوفیانہ رواداری، تجارتی خوشحالی اور ادبی گہرائی دی، آج اسی تہذیب کے بچے بنیادی صحت اور تعلیم کے لیے ترستے ہیں، یہی وہ تضاد ہے جو اس المیے کو انتہائی تلخ بناتا ہے۔سرائیکی وسیب کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا سب سے مضبوط ثبوت حکومتی دستاویزات میں لکھا ہے۔ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ، ساتھ پنجاب کی اپنی 2022 کی رپورٹ خود اعتراف کرتی ہے کہ “یہ خطہ تاریخی طور پر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، اسی لیے صحت کے بنیادی نتائج میں بھی باقی صوبے سے پیچھے ہے۔” اسی رپورٹ کے مطابق سرائیکی وسیب میں ڈاکٹر اور مریض کا تناسب ایک بہ تیرہ سو ہے، جبکہ بستر اور مریض کا تناسب ایک بستر پر دو ہزار دو سو پچھتر مریض ہے۔ عالمی معیار کے مطابق خطے کو سینتیس ہزار تین سو چونتیس اضافی ہسپتال بستروں کی ضرورت ہے جو آج بھی موجود نہیں۔ سرائیکی وسیب میں مختص شدہ اسامیوں میں سے بیس فیصد خالی پڑی ہیں؛ ماہرِ امراض کی گیارہ سو چوبیس منظور شدہ اسامیوں میں سے چار سو باون یعنی چالیس فیصد خالی ہیں اور یہ ظلم صرف بنیادی ڈھانچے کی کمی نہیں، بیماریوں کے پھیلاو میں بھی نظر آتا ہے۔ کینسر اور ہیپاٹائٹس کے سب سے زیادہ کیس سرائیکی وسیب سے رپورٹ ہو رہے اور بہت سی معصوم جانیں کسی قسم کے علاج اور اعداد و شمار میں گنتی سے ماورا کسی حکیم یا پیر کے آستانے پر ہی اپنا آخری سفر کر لیتی ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی شرح سرائیکی وسیب میں فی ہزار انسٹھ ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ کے 2030 کے ہدف کے مطابق یہ پچیس سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ زچگی کے دوران ماں کی شرح اموات سے لیکر بچوں میں قد کی کمی میں پنجاب کے سرفہرست تین ڈویژن میں بہاولپور، ملتان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژنز ہیں۔ یہ محض صحت کا مسئلہ نہیں، یہ ایک نسل کے دماغی اور جسمانی مستقبل پر لگنے والی مہر ہے۔اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس رپورٹ کے مطابق پنجاب کے چھتیس اضلاع میں سب سے کم انڈیکس والے چار اضلاع راجن پور، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ اور رحیم یار خان سب سرائیکی وسیب میں واقع ہیں، وسیب کے ہر ضلع میں کم از کم ایک سڑک ایسی ضرور ہے جسے وہاں کے مقامی حادثات اور اموات کی شرح کی بنیاد پر قاتل روڈ کا نام دیتے ہیں لیکن کیا کیجیے کہ نمائندگان تو کسی سرکاری عہدیدار کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے نظر آتے ہیں اور مقامی صحافی ایسے مناظر کی تصویر کشی کر کے اپنا پیٹ پال رہے ہوتے ہیں۔ تعلیم کی تصویر اس سے مختلف نہیں، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق راجن پور میں مجموعی شرحِ خواندگی محض بیس اعشاریہ سات فیصد ہے، اور خواتین میں یہ گر کر گیارہ فیصد رہ جاتی ہے۔ لودھراں اور مظفر گڑھ میں خواتین کی خواندگی سولہ فیصد کے قریب ہے۔ ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق شمالی پنجاب کی اوسط خواندگی پینسٹھ فیصد ہے جبکہ سرائیکی اضلاع کی اڑتالیس فیصد سے کم، ایک ایسا فرق جو کسی ایک نسل میں پیدا نہیں ہوتا، جسے دہائیوں کی سرمایہ کاری کی کمی جنم دیتی ہے۔ بھکر، جس کی اسی فیصد آبادی سرائیکی بولتی ہے، میں مجموعی خواندگی محض چھپن فیصد اور خواتین کی خواندگی چوالیس فیصد ہے۔ میانوالی میں بھی خواتین کی خواندگی اڑتالیس فیصد سے تجاوز نہیں کرتی۔ عالمی ادارہ برائے زرعی ترقی کا غربت کے خاتمے کا منصوبہ بھی بھکر کو بہاولپور، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان جیسے دس انتہائی غریب اضلاع کی فہرست میں شامل کرتا ہے، یعنی بین الاقوامی ترقیاتی ادارے خود اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں جسے صوبائی نقشہ چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔یہ فرق کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ایک تاریخی ترتیب کا نتیجہ ہے۔۔۔(جاری ہے)

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *