وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی کیلئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن واستحکام اور افہام وتفہیم کیلئے مخالصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ ایسے قابل مذمت اقدامات مملکت سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں اور ان سے خطے کے امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔سعودی عرب پر حالیہ حملے اور وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا شدید ردعمل محض ایک روایتی سفارتی بیان نہیں ہے بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، علاقائی سلامتی اور پاک سعودی تذویراتی تعلقات کے گہرے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔سوشل میڈیاپلیٹ فارم “ایکس” پر وزیر اعظم کے اس دوٹوک موقف نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات محض دو طرفہ تعاون تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کی سلامتی اور بقا ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔وزیراعظم نے اپنے بیان میں جہاں ان حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی وہاں سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے پاکستان کی “غیر متزلزل حمایت” کا بھی اعادہ کیا۔ یہ الفاظ پاکستان کی اس دیرینہ خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں جس کے تحت حرمین شریفین کی سرزمین کا تحفظ اور سعودی عرب کا استحکام پاکستان کے قومی مفادات کا بنیادی حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ طویل عرصے سے مختلف نوعیت کے تنازعات اور تذویراتی کھینچا تانی کا مرکز رہا ہے ۔ ایسے میں سعودی عرب جیسے اہم اور مرکزی مسلم ملک کی سلامتی کو نشانہ بنانا پورے خطے کے امن کو دا ئوپر لگانے کے مترادف ہے۔ جیسا کہ وزیر اعظم نے درست نشاندہی کی کہ ایسے قابلِ مذمت اقدامات مملکت کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہیں اور ان سے خطے میں جاری امن و استحکام کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس وقت جب خطہ پہلے ہی مختلف بحرانوں کی زد میں ہے، کسی بھی نئی جارحیت یا اشتعال انگیزی کے اثرات صرف سعودی عرب تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کی تپش پورے مسلم امہ اور عالمی معیشت تک محسوس کی جائے گی۔ سعودی عرب دنیا میں توانائی کی فراہمی کا ایک بڑا مرکز ہے، لہٰذا وہاں کی بدامنی عالمی معاشی استحکام کو بھی درہم برہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس پورے منظر نامے میں پاکستان کا کردار ہمیشہ سے ایک امن پسند اور مصالحت کار ملک کا رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان کے دوسرے حصے میں اسی عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام اور افہام و تفہیم کیلئے مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان نے ماضی میں بھی برادر مسلم ممالک کے مابین غلط فہمیاں دور کرنے اور کشیدگی کم کرنے کیلئے ہمیشہ سفارتی پل کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی یہ خواہش رہی ہے کہ مسلم امہ کے تمام تنازعات جنگ و جدل کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل ہوں تاکہ خطے کے وسائل کو جنگی ہتھیاروں کے بجائے عوامی فلاح و بہبود اور ترقی پر خرچ کیا جا سکے۔تاہم امن کی اس خواہش کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جارحانہ اقدامات پر خاموشی اختیار کی جائے۔ سعودی عرب پر ہونیوالے یہ حملے بین الاقوامی قوانین اور پڑوسی ممالک کے مابین احترام کے اصولوں کے یکسر منافی ہیں۔ عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ اگر خطے میں ایسے غیر ریاستی عناصر یا پشت پناہی حاصل کرنے والے گروہوں کو کھلی چھوٹ دی گئی جو کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت کو چیلنج کریں، تو عالمی امن کا پورا ڈھانچہ بکھر کر رہ جائے گا۔پاکستان کیلئے سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کی متعدد وجوہات ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیادیں مشترکہ عقیدے، ثقافت اور باہمی اعتماد پر استوار ہیں۔ پاکستان کی معیشت میں سعودی عرب کا کردار ہمیشہ کلیدی رہا ہے، چاہے وہ مشکل وقت میں مالی معاونت ہو، تیل کی ادھار فراہمی ہو یا لاکھوں پاکستانی تارکینِ وطن کیلئے روزگار کے مواقع۔ اس کے بدلے میں، پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب کی اندرونی و بیرونی سلامتی کو اپنی سلامتی تصور کیا ہے۔ پاکستانی فوج اور سیکیورٹی اداروں نے ہمیشہ مملکت کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں تکنیکی اور تذویراتی مدد فراہم کی ہے۔ موجودہ حالات میں جب سعودی عرب کو سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا یک زبان ہو کر سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونا برادر ملک کے عوام اور قیادت کو ایک مضبوط اور حوصلہ افزا پیغام دیتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بروقت بیان اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان خطے کی صورتحال سے بے خبر نہیں ہے اور اپنی خارجہ پالیسی کے ترجیحی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر سفارتی کوششوں کو تیز کرے تاکہ سعودی عرب پر ہونیوالے ان حملوں کے پسِ پردہ محرکات کا سدِباب کیا جا سکے۔ خطے کے تمام شراکت داروںکو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ یا تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ مزید تباہی کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سعودی عرب کا امن درحقیقت پاکستان اور پورے خطے کا امن ہے۔ وزیراعظم کا بیان پاکستانی قوم کی امنگوں کا ترجمان ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پاکستان خطے میں افہام و تفہیم کا داعی تو ہے لیکن جب بات سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کی آئے گی تو پاکستان کی حمایت ہمیشہ غیر متزلزل، ٹھوس اور غیر مشروط رہے گی۔ عالمی طاقتوں کو مشرقِ وسطیٰ کو مزید کسی بڑی تباہی سے بچانے کیلئے فوری طور پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا ہوگا تاکہ خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔
ٹرمپ کانیتن یاہوسے بڑامطالبہ
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور جنگی منظر نامے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے مابین حالیہ ٹیلیفونک رابطہ اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی تفصیلات ایک انتہائی اہم تذویراتی تبدیلی کی غمازی کرتی ہیں۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو پر شام اور لبنان سے اسرائیلی افواج کی واپسی کیلئے بڑھتا ہوا دبائو یہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن اب خطے میں طویل المیعاد جنگی عدم استحکام کو مزید برقرار رکھنے کے حق میں نہیں ہے۔ امریکی صدر کا یہ موقف کہ شام میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے دراصل خطے کے بدلتے ہوئے سیاسی درجہ حرارت اور بین الاقوامی دبائو کا عکاس ہے۔ تاہم اس دبائو کے جواب میں اسرائیلی قیادت کا ردعمل اور داخلی مجبوریاں اس پورے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اس وقت اپنی سیاسی زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ ایک طرف انہیں اسرائیل کے قریب آتے ہوئے عام انتخابات کا سامنا ہے تو دوسری طرف وہ شدید داخلی سیاسی چیلنجز اور عوامی دبا کی زد میں ہیں۔ اسرائیل کی دائیں بازو کی انتہا پسند حکومت اور قوم پرست ووٹرز کسی بھی ایسے فیصلے کو “کمزوری” سے تعبیر کریں گے جس میں افواج کا انخلا شامل ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو انتخابات سے قبل کسی بھی بڑے یا فیصلہ کن اقدام سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کیلئے اس وقت جنگی محاذوں پر کامیابی کا تاثر برقرار رکھنا داخلی سیاست میں بقائو کا واحد راستہ بن چکا ہے، چاہے اس کیلئے انہیں اپنے سب سے بڑے اتحادی، یعنی امریکہ کے تحفظات کو ہی کیوں نہ پسِ پشت ڈالنا پڑے۔دوسری جانب، لبنان کے ساتھ جنگ بندی یا امن معاہدہ طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔ اسرائیل کا یہ اصرار کہ جنوبی شام اور جنوبی لبنان میں اس کی فوجی موجودگی ملکی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے، ایک ایسا عذر ہے جو امن کی ہر کوشش کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ تل ابیب کا موقف ہے کہ ان علاقوں سے انخلاء کی صورت میں حزب اللہ اور دیگر ایران نواز گروہ دوبارہ متحرک ہو جائیں گے جو اسرائیل کی شمالی سرحدوں کیلئے مستقل خطرہ بن سکتے ہیں لیکن اس منطق کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ شام اور لبنان کی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزی اور وہاں مستقل فوجی اڈے قائم کرنا پورے خطے کو ایک ایسی ہمہ گیر جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے جس کے اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں محاذ آرائی کا پھیلائو نہ صرف امریکی مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ اس سے عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے راستے بھی غیر محفوظ ہو رہے ہیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں