کبھی کبھی ایک صوبہ پورے ملک کا آئینہ بن جاتا ہے۔ اس کی خوشحالی پورے ملک کو طاقت دیتی ہے اور اس کی بے چینی پورے وطن کی نیند چھین لیتی ہے۔ بلوچستان بھی آج پاکستان کا وہی آئینہ ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ انہونی کو کیسے روکا جائے کیونکہ پاکستان میں امن و آشتی اور سکون صرف ایک صورت میں ہو سکتا ہے کہ بلوچستان جیت جائے ۔ گوادر اور ریکوڈک پاکستان کی معاشی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن یہ منصوبے اسی وقت کامیاب ہوں گے جب انکے ثمرات سب سے پہلے مقامی آبادی تک پہنچیں گے۔ مقامی نوجوانوں کو روزگار میں ترجیح، فنی تربیت، کاروباری مواقع اور ترقیاتی منصوبوں میں شمولیت دی جائے۔ جب لوگوں کو محسوس ہوگا کہ ترقی ان کی اپنی زندگی بدل رہی ہے تو شدت پسند سوچ خود بخود کمزور پڑ جائے گی۔ چاہے اس کیلئے مقامی آبادی کو معدنی وسائل میں رائیلٹی کی صورت میں حصہ کیوں نہ دینا پڑے۔ آپ لوگوں کو اعتماد، حوصلہ اور پیار دیں جب ان کو محسوس ہوگا ان کی بات کی بھی اہمیت ہے اور ان کو مساوی حقوق ملنا شروع ہو گئے ہیں تو وہ بھی اعتماد کرنے میں کوتاہی نہیں کریں گے ۔ بلوچ بھی اتنے ہی محب وطن ہیں جتنے کہ دوسرے صوبوں کے باشندے، تعلیم بلوچستان کے مستقبل کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ہر ضلع میں معیاری اسکول، کالج، ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ اور جدید یونیورسٹیاں قائم کی جائیں۔نوجوانوں کو آئی ٹی، معدنیات، انجینئرنگ، زراعت اور جدید صنعتوں کی تربیت دی جائے۔ دنیا کے کئی ممالک نے ہتھیاروں سے نہیں بلکہ تعلیم میں سرمایہ کاری کر کے اپنے بحران ختم کیے، اور بلوچستان بھی اسی راستے سے آگے بڑھ سکتا ہے۔اسی طرح صحت، صاف پانی، سڑکوں، انٹرنیٹ اور بجلی جیسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ گڈ گورننس، شفاف احتساب اور ترقیاتی فنڈز کے مؤثر استعمال سے عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ فیصلے عوام کی دہلیز پر ہوں اور انکے مسائل بروقت حل ہو سکیں ۔ دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ ریاست کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ سرحدی نگرانی، جدید انٹیلی جنس نظام اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے راستوں کو بند کرنا قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ امن اور قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔مقامی زعماء اور حکومتی عمائدین پر مشتمل جرگے بنائے جائیں جو کہ ناراض دھڑوں کو منانا پڑے تو منائیں۔ صرف اس بات کا خیال رہے کہ بھٹکے ہوئوں کو واپس لانا ہے مگر مادر وطن کے دشمنوں کیساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ مگر ان مصالحتی جرگوں کے فریم ورک میں فورسز کے نمائندوں کو بھی اعتما د میں لیا جائے تاکہ فریقین سے معاہدات پر عمل داری کروائی جا سکے۔ بلوچستان کے عوام کو شک کی نگاہ سے نہیں بلکہ اعتماد اور احترام سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وہاں کے لاکھوں لوگ محب وطن پاکستانی ہیں جو اپنے بچوں کیلئے بہتر مستقبل چاہتے ہیں۔ ان کے خواب بھی وہی ہیں جو ملک کے دوسرے شہریوں کے خواب ہیں۔ اگر انہیں ترقی کے سفر میں برابر کا شریک بنایا جائے تو بلوچستان پاکستان کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن سکتا ہے۔اگر بندوق دہشت گرد کو خاموش کر سکتی ہے تو تعلیم، روزگار اور انصاف نوجوانوں کے دل سے محرومی کا احساس ختم کر سکتے ہیں۔ قومیں اس وقت مضبوط بنتی ہیں جب وہ اپنے کمزور حصوں کو مضبوط بناتی ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا کمزور حصہ نہیں بلکہ وہ بنیاد ہے جس پر آنے والی دہائیوں کی معاشی خوشحالی کھڑی ہو سکتی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ سیکیورٹی کیساتھ ترقی، طاقت کیساتھ انصاف، اور قومی مفاد کیساتھ مقامی عوام کی شمولیت کو بھی یکساں اہمیت دی جائے۔بلوچستان پاکستان کے رقبے کا تقریباً 44 فیصد ہے، مگر آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔ قدرت نے اسے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ریکوڈک کے معدنی ذخائر، سینڈک کی کانیں، سوئی کی گیس، گوادر کی بندرگاہ اور طویل ساحلی پٹی اسے ایشیا کے اہم معاشی مراکز میں تبدیل کر سکتے ہیں لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اسی صوبے کے کئی علاقے بنیادی سہولتوں، معیاری تعلیم، صحت اور روزگار سے محروم ہیں۔ جب وسائل اور محرومیاں ایک ہی زمین پر اکٹھی ہو جائیں تو بے چینی جنم لیتی ہے، اور یہی بے چینی دشمن قوتوں کے لیے موقع بن جاتی ہے۔ہم نے ریاست کے ساتھ مل کر اسی بے چینی کا سدباب کرنا ہے۔ ان کو امید دلانی ہے۔ عملی کاوشیں اور محبت کا پیغام ان کی آنکھوں کو وہ چمک دوبارہ دے سکتا ہے جو پاکستان کے قیام کے وقت پاکستان کے حق میں ووٹ دیتے وقت بلوچ عمائدین کی آنکھوں میں ابھری تھی۔ بلوچستان کا مسئلہ نہ صرف سیاسی ہے، نہ صرف معاشی اور نہ ہی صرف سیکیورٹی کا۔ یہ ان تمام عوامل کا مجموعہ ہے۔ ماضی میں گورننس کی کمزوریاں، ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر، بعض علاقوں میں احساسِ محرومی اور بیرونی مداخلت نے مل کر حالات کو پیچیدہ بنایا۔دہشت گردی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ پاکستان کے مخالف عناصر ہندوستان اور اسکے دست و بازو افغانستان نے اسی صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردی، نفرت انگیز پروپیگنڈے اور علیحدگی پسند رجحانات کو ہوا دینے کی کوشش کی۔ مقصد صرف بلوچستان کو غیر مستحکم کرنا نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی کا راستہ روکنا بھی تھا۔گزشتہ چند برسوں میں دہشت گردوں نے عام شہریوں، مزدوروں، اساتذہ، سرکاری ملازمین اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا،ہر حملے کا اصل نقصان بلوچستان ہی نے اٹھایا۔ اسکول بند ہوئے، سرمایہ کاری متاثر ہوئی، کاروبار رکا اور بے شمار خاندان اجڑ گئے۔ ایسے حالات میں پاک فوج، فرنٹیئر کور، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں کیں بلکہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ بھی کیا۔ سرحدوں کی نگرانی، اہم شاہراہوں کی حفاظت، سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی اور قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیاں ان خدمات کا حصہ ہیں۔ ان قربانیوں کی بدولت آج بھی بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں ریاست کی عملداری برقرار ہے اور ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔تاہم دنیا کی تاریخ ایک سبق دیتی ہے کہ امن صرف طاقت سے قائم نہیں رہتا، بلکہ انصاف، اعتماد اور ترقی اسے پائیدار بناتے ہیںبلوچ نوجوان سوال کرتا ہے کہ اگر اس کی زمین میں سونا اور تانبا موجود ہے تو اس کے ہاتھ خالی کیوں ہیں؟ اگر گوادر عالمی تجارت کا مرکز بننے جا رہا ہے تو مقامی نوجوان بے روزگار کیوں ہے؟ اگر قدرت نے اس خطے کو اتنی دولت دی ہے تو بنیادی سہولتیں اب تک ہر گھر تک کیوں نہیں پہنچ سکیں؟ یہ سوال نظرانداز کرنے کے بجائے سنجیدگی سے سننے اور ان کے عملی جواب دینے کی ضرورت ہے۔ اگر بندوق دہشت گرد کو خاموش کر سکتی ہے تو تعلیم، روزگار اور انصاف نوجوان کے دل سے محرومی کا احساس ختم کر سکتے ہیں۔ بلوچستان کو بندوقوں کی نہیں، امیدوں کی ضرورت ہے۔ جب بلوچ نوجوان کے ہاتھ میں ہتھیار کے بجائے قلم ہوگا، جب اس کی آنکھوں میں محرومی نہیں بلکہ خواب ہوں گے، تب پاکستان کا سب سے خوبصورت سورج بلوچستان کے افق سے طلوع ہوگا۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں