بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 27°C
Thursday, 16 July 2026 | پاکستان: 2 صفر 1448

پاک فوج کا دہشتگردی کیخلاف دوٹوک موقف

Thursday, 16 July, 2026

یہ امر قابل توجہ ہے کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں قومی سلامتی، داخلی استحکام اور علاقائی امن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں دہشت گردی کی نئی لہر، ہائبرڈ وار، سرحد پار سے دراندازی اور ریاست مخالف عناصر کی سرگرمیوں نے قومی سلامتی کے اداروں کیلئے نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ ایسے ماحول میں چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کے حالیہ خطاب برائے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے نے پاکستان کی قومی سلامتی کی پالیسی کا ایک واضح اور دوٹوک خاکہ پیش کیا ہے۔ دونوں مواقع پر یہ پیغام دیا گیا کہ دہشت گردی، خواہ اس کی سرپرستی کہیں سے بھی ہو، ریاست پوری قوت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرے گی، جبکہ قومی خودمختاری، آبی حقوق اور معاشی استحکام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی ہر کوشش سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی اور پراکسی نیٹ ورکس کو ریاست کی پوری طاقت سے کچلا جائے گا اور ایسے عناصر کو پاکستان کے امن، ترقی اور معاشی استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اسی تناظر میں 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی دہشت گردی، ہائبرڈ وار اور بیرونی سرپرستی میں سرگرم شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ کانفرنس میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا گیا کہ ان کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی، اتحاد اور قومی استحکام کی بنیاد ہیں۔ فورم نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے تسلسل، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کیخلاف کارروائی اور قومی سلامتی کو درپیش ہر خطرے کا بھرپور جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ۔ مبصرین کے مطابق دونوں بیانات میں سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ پاکستان اب دہشت گردی کو صرف ایک داخلی مسئلہ نہیں بلکہ ایک علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اس مؤقف میں یہ واضح کیا گیا کہ بعض دشمن عناصر پراکسی گروہوں کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ریاست ایسے تمام عزائم کو ناکام بنانے کیلئے پرعزم ہے ۔ یہ پیغام نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ عالمی برادری کیلئے بھی اہم ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کے تحفظ اور امن کے قیام کیلئے ہر ضروری اقدام کرے گا۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ حالیہ عرصے میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سکیورٹی فورسز، پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکار مسلسل اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں ۔ ایسے حالات میں عسکری قیادت کی جانب سے قومی اتحاد، عوامی تعاون اور ادارہ جاتی ہم آہنگی پر زور دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اس کیلئے قومی اتفاقِ رائے، مضبوط معیشت اور عوامی اعتماد بھی ناگزیر ہے۔سفارتی ماہرین کے بقول موجودہ علاقائی صورتحال میں پاکستان کو دوہرا چیلنج درپیش ہے۔ ایک طرف سرحد پار دہشت گردی اور دوسری طرف ہائبرڈ وار، جھوٹی اطلاعات اور منظم پروپیگنڈا۔ ایسے میں ریاستی اداروں کی ذمہ داری صرف عسکری دفاع تک محدود نہیں رہتی بلکہ قومی بیانیے کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں اسی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف سرگرم نیٹ ورکس اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ قوم اور افواج ایک صفحے پر کھڑی ہیں۔اسی تناظر میں کور کمانڈرز کانفرنس میں پاکستان کے آبی حقوق، قومی خودمختاری اور سلامتی سے متعلق معاملات پر بھی واضح مؤقف اختیار کیا گیا ۔ فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے جائز قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔جان کاروں کے مطابق قومی سلامتی کا تصور اب صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں معیشت، آبی وسائل، سائبر سکیورٹی، اطلاعاتی جنگ اور سماجی استحکام بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ بیانات میں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی اور قومی استحکام کو بھی یکساں اہمیت دی گئی۔ ایک مضبوط معیشت اور مستحکم ریاست ہی بیرونی دباؤ اور اندرونی انتشار کا مؤثر مقابلہ کر سکتی ہے۔پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی قوم اور ریاستی اداروں نے اتحاد، عزم اور اعتماد کے ساتھ چیلنجز کا مقابلہ کیا، دشمن کے عزائم ناکام ہوئے۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں ہزاروں فوجی، پولیس اہلکار اور شہری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہی قربانیوں کی بدولت آج پاکستان پہلے سے زیادہ مضبوط انسدادِ دہشت گردی صلاحیت رکھتا ہے اور سکیورٹی ادارے مسلسل بدلتے ہوئے خطرات کے مطابق اپنی حکمتِ عملی کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے خطاب اور 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا مشترکہ پیغام یہی ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن امن کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ریاست اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی جبکہ دہشت گردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں کا جواب پوری قومی قوت، آئینی اختیار اور ریاستی عزم کے ساتھ دیا جائے گا۔ انشااللہ

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *