بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Sunday, 26 July 2026 | پاکستان: 13 صفر 1448

سیاسی بے روزگار، ذہنی مریض اور رہبر خطاوار

Sunday, 26 July, 2026

ہمارے ہاں کچھ جائز باتیں بھی کہنے کا یارا نہیں مگر زبان و بیاں کی بے لگام اور مادر پدر آزادی جتنی ہمارے ہاں ہے، اتنی کہیں نہیں۔ ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ ہماری عوام کے آئیڈیل ممالک دبئی، قطر، چین ، برطانیہ، امریکہ، فرانس سعودیہ وغیرہ میں اس سے آدھے ہتک آمیز جملے کی بھی اجازت ! ممکن ہے ۔؟ جو ‘عزت مآب ‘مولانا فضل الرحمن اور پھر محترمہ نورین صاحبہ نے کہی۔ افسوس ہم اس ملک میں رہ اور اس کا کھا کر اسی مادر وطن اور اسکی خاطر لہو دینے والوں پر طعن و تشنین کے تیر برسا کر اپنی انا کی تسکین پاتے ہیں۔ وطن کے خلاف ہر بات سنتے، کہتے اور اسے برداشت کرتے کرتے اس حد تک آ چکے کہ زبان درازی شہدا کے مقدس خون تک! مولانا پر تنقید مقصد ہے اور نہ بات کو طول دینا مقصود۔ مدعا آداب کے دائرے میں رہ کر توجہ دلانا۔ مولانہ کے طرز تخاطب اور سمجھ داری کے دوست، دشمن سبھی قائل۔ کہ تنقید میں بھی انہوں نے شائستگی، احتیاط اور گفتگو کے اسلوب کو کبھی بالائے طاق نہیں رکھا۔ انکا طرز تخاطب قابل داد رہا۔ مگر قصور میں ان سے قصور ہوا مگر وہ اسیماننے کو تیار نہیں !!!مولانا کے اس وصف سے انکار نہیں کہ موجودہ بندوبست کے علاوہ ماضی قریب سے ماضی بعید تک وہ ہر حکومت سے اپنی سیاسی حیثیت سے کہیں زیادہ نچوڑتے حتی کہ مشرف دور میں باوجود اپوزیشن میں ہونے کے، اقتدار کے ایوانوں میں ان کا طوطی بولتا۔ ناقدین اس پر تنقید کر سکتے ہیں مگر سیاست کوئی مسجد کی امامت تو پے نہیں کہ اس سے کشید نہ کیا جائے، بہرحال میں اسے مولانا کی سیاسی بصیرت اور دوراندیشی ہی قرار دیتا ہوں کہ باوجود محدود مینڈیٹ کے انہوں نے خود کو ہر دور میں حکومت کی کمزوری بنائے رکھا۔ پی ٹی آئی کو کم از کم مولانا کی اس سیاسی حکمت سے سبق سیکھنا چاہئے۔ یہ حقیقت کہ مولانا نے تلخیوں، الزامات اور لاتعداد مسائل کے باوجود سیاست میں عملیت پسندی کی بنیاد رکھی۔ تلخ سوالوں کا جواب مسکراتے چہرے یا کسی پھلجڑی سے دیکر تناو کے ماحول کو ختم کرنے کے فن سے آشنا حضرت کبھی سیاسی اختلافات پر ڈٹے نہیں اور ہمیشہ اس سے راہ بنائی۔ انہوں نے کبھی اپنے مخالفین کے لیے بھی تضحیکانہ گفتگو کی اور نہ مستقل سیاسی دشمنیاں پالیں۔ وہ گرم و سرد چشیدہ سیاست دان کہ حکومت میں رہ کر بھی اپوزیشن اور اپوزیشن لیڈر ہو کر بھی حکومت کے مزے لیے۔ یہ ان کی سیاسی بصیرت ہی تو تھی کہ ہر حکومت ان سے مشاورت کرتی اور ہر وزیر اعظم اسمبلی میں انہیں اپنے قرب میں بٹھانے کو ‘ سہولت ‘ محسوس کرتا۔ کچھ مولانا پر خاندان کو نوازنے کا الزام لگاتے ہیں، درست ۔ مگر جب یہ بندر بانٹ ہماری رواج سیاست میں معیوب نہیں تو مولانا سے درگزر ہی بہتر۔قصور والا قصوری بیان تادم مرگ مولانا کا پیچھا کرتا رہے گا گر چہ انکی جماعت مولانا پر نقدوجرح کرنے والوں کو خوب آڑے ہاتھوں لے رہی ہے اور مولانا بھی اپنی منطقی صلاحیتوں سے ہر وار بچاتے چلے جا رہے ہیں مگر کبھی کبھی زبان سے نکلی ہلکی بات گلے کی ہڈی بن جاتی ہے۔ اس بات کے کچھ اسباب تو ہوں گے۔ ممکن ہے کہ وہ عمران خان جیسا اسلوب اختیار کر کے اس کمی کو پورا کرنا چاہتے ہوں ۔۔ (جاری)

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *